بے خودی میں صنم، دے بیٹھے ٹکٹ ہم


تحریک انصاف نے ٹوبہ ٹیک سنگھ حلقہ پی پی 122 سے نازیہ راحیل صاحبہ کو ٹکٹ دے دیا ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ خواتین کو ٹکٹ دینا چاہیے تاکہ اسمبلی متوازن ہو۔ مزید تعریف کی بات یہ ہے کہ ان کو یہ ٹکٹ بن مانگے ہی ملا ہے۔

لیکن یہ بی بی تو نہایت ہی ناراض قسم کی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی بات پر خفا ہو جاتی ہیں۔ ٹکٹ دینے پر تحریک انصاف پر مقدمہ کرنے کا سوچ رہی ہیں۔ جب ان سے رپورٹر نے پوچھا کہ حلقہ 122 سے تحریک انصاف کا صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ ملنے پر آپ کے کیا تاثرات ہیں تو کہنے لگیں کہ اپنے ”وکیل سے مشورہ کروں گی اور تحریک انصاف کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتی ہوں“۔

مزید فرمایا کہ ”یہ واضح ہے کہ تحریک انصاف کو شکست سامنے دکھائی دے رہی ہے اور وہ اب اس طرح کی مذموم کارروائیاں کر کے ہمارا مقامی اتحاد توڑنا چاہتی ہے“۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لئے اپلائی ہی نہیں کیا تھا اور ان کو بن مانگے یہ ملا ہے۔

تحریک انصاف کے ٹکٹ کو تو لوگ ترس رہے ہیں۔ ایک ایک سیٹ پر پانچ پانچ الیکٹ ایبل موجود ہیں جو ٹکٹ مانگ رہے ہیں۔ اور یہ بی بی ایسی ناشکری ہیں کہ بن مانگے ملنے والی نعمت کو ٹھکرا رہی ہیں۔

اب اگر وہ نون لیگ کی ممبر ہیں اور 2008 اور 2013 کے انتخابات میں اس کے ٹکٹ سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئی ہیں تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تحریک انصاف کو یوں انکار ہی کر دیں۔ پتہ نہیں کیوں ضد کر رہی ہیں کہ مسلسل تیسری بار بھی شیر کے نشان پر ہی لڑیں گی اور وہ اس الیکشن میں بھی نون لیگ کی امیدوار ہیں۔

یہ تو تحریک انصاف کی لیڈر شپ کی وسعت قلبی اور کشادہ دلی ہے کہ وہ نون لیگ کا ٹکٹ اپلائی کرنے والوں کو بھی تحریک انصاف کا ٹکٹ دے رہی ہے۔ اس کے نیک جذبات کو اس طرح ٹھکرانا مناسب نہیں ہے۔ نازیہ راحیل صاحبہ ایک مرتبہ سوچ لیں تو مناسب ہے۔

تحریک انصاف کی لیڈر شپ کے میرٹ پر چلنے اور دیانت داری سے فیصلے کرنے کی بھی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ ان کی انتخابی کمیٹی نے چیئرمین عمران خان، جہانگیر ترین اور اسد عمر جیسے زیرک اور دیانت دار لوگوں کی زیرنگرانی ٹکٹوں کی تقسیم کی ہے۔ ہر حلقے سے اہل ترین اور دیانت دار ترین امیدوار کو میرٹ پر چنا گیا ہے۔ اب اگر حلقہ 122 ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سب سے اچھا امیدوار نون لیگ کا نکلا تو تحریک انصاف نے خست سے کام نہیں لیا، نہ ہی کوئی دشمنی نکالی، بلکہ کشادہ دلی سے کام لیتے ہوئے نون لیگی امیدوار کو ہی اپنا امیدوار قرار دے دیا۔ سیاست میں ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔

صوفی شاعر بلھے شاہ فرما گئے ہیں کہ ”مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے، ڈھا دے جو کج ڈھیندا پر دل نہ کسے دا ڈھاویں بندیا رب دلاں وچ رہندا“۔ یعنی مندر ڈھا دے، مسجد ڈھا دے، جو کچھ بھی ڈھیتا ہے ڈھا دے، لیکن کسی کا دل نہ توڑ کیونکہ رب دلوں میں رہتا ہے۔ یعنی نازیہ راحیل صاحبہ نہ تو نون لیگ کا دل توڑیں اور نہ تحریک انصاف کا، دونوں کا ٹکٹ لے لیں۔ صلح کل کی پالیسی اچھِی ہوتی ہے۔

تحریک انصاف سے خدا واسطے کا بیر رکھنے والے یہ الزام لگا سکتے ہیں کہ نازیہ راحیل نام کی تحریک انصاف کی کوئی اپنی لیڈر بھی ہو سکتی ہے۔ ہم نام بہت لوگ ہوتے ہیں۔ بلکہ ہم نے تو فلموں میں دیکھا ہے کہ بہت سے لوگ ہم شکل بھی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ معاملہ ہم نام یا ہم شکل والا نہیں ہے۔ کل یہ نام تحریک انصاف کی جاری کردہ امیدواروں کی لسٹ پر مبنی پی ڈی ایف میں شامل تھا۔ آج نہیں رہا۔ لگتا ہے کہ تحریک انصاف میں کچھ میرٹ دشمن گھس بیٹھیے بھی موجود ہیں جو اپنی لیڈر شپ کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 917 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar