پاناما کے کاغذات کی آف شور گاڑی


adnan-khan-kakar-mukalima-3

اتنا چرچا تو چودھویں کی رات کو انشا جی کے محبوب کا نہ ہوا ہو گا جتنا آج کل پاناما سکینڈل کا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ بس کسی بھی لمحے پاناما سے آخری کاغذ باہر نکلے گا، بلا کسی شک و شبے کہ یہ ثابت ہو جائے گا کہ میاں نواز شریف اپنی بلیک منی سے اصل میں پاناما کا پورا کا پورا ملک ہی خرید چکے ہیں، اور بس پھر حلقے کا تھانیدار اپنی گاڑی میں بیٹھ کر سائرن بجاتا پرائم منسٹر ہاؤس پہنچے گا اور میاں صاحب حوالات میں ہوں گے اور قومی اسمبلی ایک خصوصی اجلاس طلب کر کے نیا وزیراعظم منتخب کر رہی ہو گی۔

اس شریر، بکے ہوئے اور پٹواری تھانیدار نے اپنے فرض کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی کی تو پھر سپریم کورٹ تو موجود ہے ہی۔ یہ ٹھیک ہے کہ اب جناب افتخار چودھری صاحب سابقہ ہو گئے ہیں اور سپریم کورٹ نے بوتلوں کا تھیلا اٹھا کر پھرنے والی خوبرو دوشیزہ کے پانچ سات ہزار روپے جرمانے کے معاملے کو قومی اہمیت اور بنیادی حقوق کا معاملہ قرار دیتے ہوئے سو موٹو لینا بند کر دیا ہے، لیکن پھر بھی امید تو باقی ہے نہ۔ افتخار چودھری کا جو سنہرا دور ہم دیکھ چکے ہیں وہ پلٹ بھی تو سکتا ہے۔ ہمارا دل جانتا ہے کہ کیا پتہ کب کوئی جج صاحب پاناما پر سو موٹو لے لیں۔ اور ویسے اب تو میاں نواز شریف صاحب نے خود ہی سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا ہے کہ تحقیق کر لیں، تو پھر تو سو موٹو کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی ہے۔ بس ایک کمیشن بنے گا، اور وہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کے علاوہ گائے کو بھی بحق سرکار ضبط کر کے قومی کانجی ہاؤس میں جمع کروانے کا حکم جاری کر دے گا۔

خدانخواستہ اگر سپریم کورٹ کا یہ کمیشن بننے یا نتیجہ نکلنے میں کوئی سستی ہو گئی تو پھر بھی مایوس مت ہوں۔ یاد رکھیں کہ مایوسی گناہ ہے۔ ایسی صورت میں فوج کے سربراہ سے ہم سب نے امید باندھ رکھی ہے کہ وہ ویسے ہی کرپشن کے خلاف حمیت کا ثبوت دیتے ہوئے اس کرپٹ حکومت کو برطرف کر دیں گے جیسا کہ اس سے پہلے جنرل ایوب خان، جنرل یحیی خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کی روایت رہی ہے۔ ان چاروں حضرات نے سیاستدانوں کی کرپشن کو ویسے ہی صاف کر دیا تھا جیسا کہ گزشتہ دنوں لیہ کے علاقے کروڑ لعل عیسن میں ایک حلوائی نے مٹھائی میں ٹاٹری کی بجائے زہر ملا کر ستائیس افراد کو صاف کر دیا تھا اور تیس لائن میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن خوش قسمتی سے جنرل راحیل شریف و دیگر جرنیل حضرات قوم کو اس میٹھے انداز میں کرپشن سے پاک کرنے کی گزشتہ چار کوششوں کے نتائج دیکھ چکے ہیں اور فوج کو سیاست سے دور رکھے ہوئے ہیں۔

مگر ایک منٹ ٹھہریے۔ جذبات سے کام لینا ہو تو وہ ایک منظر یاد کر لیتے ہیں جو کہ سب نے ہی خوب دیکھا ہوا ہے۔ سڑک پر ایک کرپٹ گاڑی دور سے آتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک اجلا سا پرجوش کارکن اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ آنکھیں غصے سے بھنچ جاتی ہیں۔ منہ وا ہو جاتا ہے، کف اڑنے لگتا ہے، اور وہ غرانے لگتا ہے۔ گاڑی قریب پہنچتی ہے تو وہ جانباز سڑک پر نکل آتا ہے۔ اور پھر جی جان سے بھونکتے ہوئے یوں اس گاڑی کا ایسے پیچھا شروع کر دیتا ہے جیسے اسے آج پھاڑ ہی کھائے گا۔ کچھ دیر بعد گاڑی آگے نکل جاتی ہے۔ کارکن اڑتی دھول میں کھڑا کچھ دیر سوچتا رہتا ہے کہ اس ساری مشقت کا حاصل جمع کیا رہا ہے اور اب کیا کرنا ہے۔ پھر سر جھکائے آہستہ آہستہ اپنے ٹھکانے کی طرف پلٹتا ہی ہے کہ دور سے ایک اور کرپٹ گاڑی آتی دکھائی دیتی ہے۔

بس یہی ہماری کل سیاسی داستان ہے۔ گاڑیاں ختم ہونے کو ہی نہیں آ رہی ہیں اور پرجوش کارکن دھول میں دوڑ دوڑ کر ہانپ گئے ہیں۔ پہلے سرے پیلس ہوا کرتا تھا۔ پھر حدیبیہ پیپر ملز پر نیب کے کیس ہوئے۔ پھر سوئس عدالت کو خط لکھنا مقصود ٹھہرا۔ پھر رینٹل پاور کے کیس ہوئے۔ پھر میمو گیٹ نے ملکی تاریخ کی بدترین غداری پکڑ لی۔ آج کل پاناما چل رہا ہے۔ قوم بس ہیجان کا شکار ہو کر اڑتی دھول میں سکینڈل کے پیچھے دوڑتی رہتی ہے۔

فرض کیا کہ گاڑی رک گئی، سوئس کیس میں خط لکھنے سے انکار پر اگر میلے میلے سے وزیراعظم کو گھر بھیج بھی دیا گیا، تو کیا ہو گا؟ کیا اس کے بعد اگلا وزیراعظم بہت بہتر ہو گا یا پھر اسے بھی ہم راجہ رینٹل کا نام دے کر پھر دوڑنا شروع کر دیں گے؟ تبدیلی لانی ہے تو افراد کا پیچھا کرنے کا فائدہ نہیں ہے۔ ایک برا شخص جائے گا تو اس کی جگہ لینے کو دوسرا آتا ہو گا۔ اور اگر ہم نے کچھ زیادہ ہی زور لگا دیا اور کسی حلوائی کے ہتھے چڑھ گئے تو پھر تو گاڑی کے پیچھے شور مچاتے ہوئے بھاگنے کی آزادی بھی نہیں ملے گی اور چپ چاپ مٹھائی کھانی پڑے گی۔

سو ہماری رائے تو یہی ہے کہ وزیراعظم کو گرانے پر سارا زور لگانے کی بجائے اسے احتساب کے موثر نظام کی تشکیل پر لگایا جائے جو کہ گلی محلے میں دودھ میں پانی کی ملاوٹ سے لے کر حکمران کی کرپشن تک سب پر گرفت کر سکے۔

لیکن کون ہے جو یہ کرے گا؟ ہماری تحریکوں کا مقصد تو بس یہی ہے کہ ’اوئے نواز شریف، تم چلے گئے تو ملک سے کرپشن ختم ہو جائے گی‘۔

کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہم افراد کو بدلنے کی بجائے سسٹم کو بہتر کرنے کی کوشش کریں؟


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 327 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “پاناما کے کاغذات کی آف شور گاڑی

Comments are closed.