بک فیئر پر رول ماڈل ٹیچر کی دعوت!


رات کے گیارہ بج رہے تھے اور ادھر دوران انٹرویو موبائل کی گھنٹی بھی بج رہی تھی دل پر اضطراب کی کیفیت میں اضافہ ہورہا تھا کہ وقت ملے اور فون اٹھاوں، کال بزی کرتا تو پھر دوبارہ کال آجاتی یوں ہوتے ہوتے موقع پاتے ہی بھاگے بھاگے ایک جانب گیا اور کال رسیو کی دوسری طرف سے آنے والی آواز ایک ایسے شخص کی تھی جو میرے روز اول سے رول ماڈل چلے آرہے ہیں، اور ہوں بھی کیوں نہ میں نے ان سے زندگی کا قرینہ سیکھا آج خاکسار جو کچھ بھی ہے اس میں ان کا بہت بڑا کردار ھے خیر حکم ملا کہ کل صبح بک فئیر کی تقریب ہے اور آپ نے لازمی شرکت کرنی ہے، ان کا احترام اتنا ھے کہ میں دوسری بات ہی نہیں کر پایا مصروفیات کو ایک طرف رکھ کر فورا ہاں بول دی۔
 اس پروگرام کا انعقاد گورنمنٹ ڈگری کالج نمبر1 ڈیرہ اسماعیل خان میں پہلی مرتبہ کیا گیا۔ صبح 9 بجے کا وقت تھا لیکن ہم کافی دیر سے پہنچے لہذا ہمارے پہنچتے ہی افتتاح کی تیاری مکمل ہو چکی تھی بلآخر اسی کالج کے پرنسپل ڈاکٹر یعقوب ترین صاحب کے ہاتھوں افتتاح ہوا تاہم اس میں خصوصی شرکت کرنے والوں میں ناچیز سمیت معروف صحافی اور قلم کار رجب علی فیصل جبکہ سید عابد حسین شاہ چئیرمین ڈی آئی خان بورڈ، اور محکمہ پولیس سے فخر ڈیرہ عنایت اللہ ٹائیگر بھی شریک تھے۔
ان سب لوگوں نے اسی بات پر زور دیا کہ ہمارے نوجوانوں میں کتاب پڑھنے کا رجحان ختم ہوتا چلا جارہا ہےجبکہ اچھی کتابوں کا مطالعہ انسان کو مہذب بناتا ہے ،شخصیت میں نکھار اور وقار عطا کرتا ہے۔ کتاب سے دوستی انسان کو شعور کی نئی منزلوں سے روشناس کرواتی ہے ۔ کتب بینی کے شائقین تسکین قلب کے لئے کتب خانوں کارخ کرتے ہیں۔
 اس لئے ضروری ہے کہ ہر محلے میں عوامی کتب خانے قائم کئے جائیں جہاں تمام موضوعات پر کتب موجود ہوں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو اس نام نہاد جدید دور میں ہماری آنے والی نسلوں پرعلم کے دریچے ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں گے اور جس معاشرے میں علم کے دریچے بند ہوجائیں وہاں صرف جہالت ، اندھیرا اور پسماندگی چھاجاتی ہے۔
لہذا ایسے ایونٹس کا ہونا انتہائ ضروری ہے تاکہ نئی نسل میں کتاب بینی کا زوق پیدا کیا جائے، لیٹریٹ سوسائٹی کے تعاون سے پروفیسر محمد زیشان علی کی زیرنگرانی یہ سب منقعد  ہوا، اور انہی کی کاوشوں سے آکسفورڈ پریس والوں کو  بھی یہاں اسٹال لگانے کیلئے خصوصی طور پر بلایا گیا تھا۔
 پروفیسر محمد زیشان علی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس عزم کا ارادہ کیا کہ میری ہمیشہ سے کوشش رہی ھے میں اپنے لوگوں میں تعلیم سمیت انسانی حقوق بارے اگاہی پھیلاٶں کیونکہ ہمارے ضلع کے عوام پڑھے لکھے تو شائد ہیں مگر اس بارے آگاہی نہیں اس لیئے ضروری ہے کہ  کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طالبعلموں میں اس بارے شعوری اور فکری جزبہ بیدار کیا جائے تاکہ یہی طالب علم پھر  اپنے محلے، قصبوں اور گاٶں میں جاکر اپنے پڑوسیوں، رشتہ داروں اور اپنے علاقہ کے لوگوں تک یہ پیغام پہنچائیں۔
ان کی یہ بات سن کر میں کئی سال پیچھے چلا گیا جب گورنمنٹ ڈگری کالج پروآ میں ذیشان صاحب ہمیں انگریزی پڑھایا کرتے تھے چونکہ میرا تعلق گاٶں سے تھا تو میں اس وقت اساتذہ کے سامنے بالکل بھی بولنے کی جرآت نہیں کرپاتا تھا ایک وجہ بہت زیادہ ادب و احترام بھی تھا مگر ایک اصل وجہ ہماری دیہاتی علاقوں میں وہ ناقص نظام تعلیم ہے یہاں استاد سے سوال کرنے کو بےادبی سمجھا جاتا ھے اور مرغا بنادیا جاتا ھے۔
 جماعت اول سے میٹرک تک میرے ساتھ یہی ہوتا رہا میرے اندر ہمیشہ سوالات کرنے کا ایک جزبہ رہا ہے  اور ہمیشہ جب پرائمری اور سیکنڈری لیول تک سوال کرتا تھا تو خوب پٹائی ہوتی تھی جب میٹرک کے بعد کالج پہنچا تو وہاں میری ملاقات خوش قسمتی سے پروفیسر محمد ذیشان علی سے ہوگئی، میں ہر روز دیکھتا ان کے ہاتھ میں انگریزی اخبار  ہوتا بات کرنے کی کوشش کرتا مگر پھر گھبرا جاتا کہ کہیں پٹائی نہ ہوجائے جب کچھ وقت گزرا تو میں بھی سمجھ گیا اور پھر پیچھے والے  ڈیسک پر بیٹھنے والا انتہائی نالائق طالب اسی استاد سے متاثر ہوکر پہلی قطار میں بالکل  بورڈ کے سامنے لگے ڈیسک پر بیٹھنا شروع ہوگیا۔
 ایک دن پروفیسر صاحب نے کلاس میں بیٹھے سبھی طالب علموں سے پوچھاکہ آپ تعلیم کس مقصد کیلئے حاصل کررہے ہیں یعنی آپ علم حاصل کرکے کیا بننا چاہتے ہیں اس پر سب طالب علم خاموش تھے میرا دل بات کرنے کو تڑپ رہا تھا کلاس میں نظر دوڑائی سب کے سر نیچے جھکے ہوئے تھے، ہمت پکڑی اور تھرتھراتے جسم کیساتھ میں نے کہا کہ؛ سر میں صحافی بننا چاہتا ہوں اس بات پر دوبارہ سوال ہوا کہ “کیوں”؟ پھر کانپتے ہونٹوں کے ساتھ جواب دیا کہ میرا تعلق ایک ایسے علاقے سے جہاں ہر روز کسی نہ کسی بےبس اور غریب کو نشانہ بنایا جاتا ھے۔ طرح طرح کے ظلم رواں رکھنے سمیت متعدد مسائل ہیں۔
 لہذا میں مظلوموں کی آواز بننا چاہتا ہوں ظلم کے خلاف لکھنا چاہتا ہوں اور اپنے لوگوں کے مسائل اجاگر کرنا چاہتا ہوں اس پر مکمل کلاس قہقہے سے گونج اٹھی اور کچھ طالب علم ایک دوسرے کو کانوں میں کہنے لگے دیکھو یہ نالائق جسے کلاس میں بولنا نہیں آتا اب صحافی بنےگا مگر یہ بات ہم نے سن لی اور اس پر پروفیسر صاحب نے ان لڑکوں کی سرزنش کرتے ہوئے مجھے کلاس کا مانیٹر بنادیا سب لڑکے حیران تھے کہ یہ کیا ہوگیا اب استاد صاحب مجھے اپنے آفس لے جاتے گپ شپ لگاتے اور چائے پلاتے یوں میرا خوف ختم ہوگیا اور اب میں ہر کلاس میں پہلے ڈیسک پر بیٹھنے لگا، اور باقی اساتذہ بھی بہت اچھے تھے ان کے ساتھ بھی دوستی ہوگئی اور یوں اپنے کالج میں سب سے زیادہ نئے اور مشکل سوال کرنے والا پہلا طالب علم  بن گیا،
اور انہی دنوں پروفیسر صاحب نے پہلی دفعہ ڈگری کالج پروآ میں ٹیچرڈے، اینٹی کرپشن ڈے سمیت سے متعدد   تقریبات کا آغاز کیا جس میں ناچیز نے بھی پہلی مرتبہ ویبریشر موڈ پر لگی ٹانگوں کے ساتھ اسٹوڈنٹس اور اساتذہ سے بھرے کھچا کھچ آڈیٹوریم حال میں تقریر کی، تقریب ختم ہوئی تو ذیشان صاحب میرے پاس آئے اور مجھے گلےسے لگا کر دات دی، میرا سینہ مزید چوڑا ہو گیا اور اس وقت سے تہیہ کرلیا کہ انسان کیلئے کچھ بھی ناممکن نہیں اگر کوشش کی جائے تو ہر کام ممکن ہے اور انسان کچھ بھی کر سکتا ھے۔
قصہ المختصر یہ کہ نوجوان نسل میں تبھی کتابیں پڑھنے کا شوق آئے گا جب ہمارے اسکولوں، کالجوں، اور یونیورسٹیوں میں پروفیسر محمد ذیشان علی صاحب جیسے رول ماڈل ٹیچر ہونگے جو ہمیں علم کیساتھ ساتھ اپنے بہترین کردار و افکار کا پیروکار بنادیں  اور انکی طرف سے  ایسے غیر ترقی یافتہ علاقوں میں کتاب میلے کروانا بہت بڑی کاوش ہے۔ بس آخر میں تمام طالب علموں سے گزارش کرتا ہوں کہ یقینا کتاب ہماری بہترین دوست ہے لیکن جس حستی نے ہمیں اندھیرے سے نکال کر وہ روشنی عطاء کی جسکی بدولت آج ہم یہ بہترین دوست کتاب کو  پڑھنے کے قابل ہوگئے ہیں کی بے حد عزت و قدر کرنی چاہئے اور اسی جس طرح بک فیئر ہونا انتہائی ضروری ہے اسی طرح اساتذہ کا ادب و احترام  کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کیونکہ آج خاکسار جس مقام پر ہے وہ صرف اور صرف اپنے اساتذہ کرام کی بے پناہ ادب و احترام کی بدولت حاصل ہوا ہے۔
image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ملک رمضان اسراء

ملک رمضان اسراء مصنف معروف صحافی و قلم کار ہیں۔ انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز سے وابسطہ ہیں جبکہ دنیا نیوز، ایکسپریس، ہم سب سمیت مخلتف قومی اخبارات کےلیے کالم/بلاگ لکھتے ہیں اور ہمہ وقت جمہوریت کی بقاء اور آزادئ صحافت کےلیے سرگرم رہتے ہیں۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی اے ماس کیمونی کیشن کررہے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر اور فیس بُک آئی ڈی اور ای میل ایڈریس پر رابطہ کیا جاسکتاہے۔ [email protected]

malik-ramzan-isra has 6 posts and counting.See all posts by malik-ramzan-isra