قربانی کی گائے اور تربیت


لوگ سمجھتے ہیں مجھے موٹا دکھائی دینا پسند ہے، مجھے کھاتے رہنے کی بیماری ہے، میں چاہوں بھی تو اپنا وزن کم نہیں کر سکتی، اور مجھ بارہ من کی دھوبن کے اندر نہ کوی زندہ وجود ہے نہ کوئی ارمان نہ کوئی ترنگ۔ کوی نہیں جانتا کہ کہ مجھ بارہ من کی دھوبن کے اندر آج بھی وہ سنگل پسلی جوان دوشیزہ رہتی اور بھاگتی پھرتی ہے جسے ڈولی میں بٹھا کر لایا گیا تھا، ملکہ ہونے کا تاج پہنا کر آخر ایک ہل میں جوت دیا گیا تھا۔ ہاں مجھے پتا ہے کہ یہ زندگی تو عورت کی معراج ہے، اس کی تکمیل ہے، اس کے خوابوں کی سرزمین ہے۔ مگر معراج کے بعد بھی کوئی کیا اتنا بے سکون ہوتا ہے، تکمیل کے بعد بھی کوئی کیا خود کو ایسا آدھا تصور کرتا ہے؟ اور خوابوں کی سر زمین پر بھی کیا کوئی بھٹکتا ہے؟ نہیں ناں! پھر کہیں تو کوئی خرابی تھی ناں ہمارے تخیل کی پرواز میں یا زمینی حقائق کی سمجھ میں۔

All is well that ends well!

تو پھر جس کا انجام اچھا نہ ہوا وہ اچھا تو نہ ہوا ناں! میں ممی ہوں گھر کا وہ ہینڈی ملازم جو ہر ایک کو ہر وقت چاہیے۔ کبھی دھونے کو، کبھی سنوارنے کو، کبھی کھلانے کو، کبھی پکانے کو کبھی پڑھانے کو، غرضیکہ میری فیملی میں جتنے اراکین ہیں ان سب کی ہر ضرورت مجھ سے جڑی ہے۔ میری حاضری میں ذرا سی غفلت نہ میرے ننھے بچوں کو گوارا ہے (اور کیا کیجئے، ننھے جو ہوئے) اور نہ ہی میرے سمجھدار شوہر کو۔ کہ شوہر جتنا بھی لبرل، جیسا ہی باشعور کیوں نہ ہو، بیوی کو ملکہ ملکہ کہتے ہوئے اس کے دھیان میں ہر وقت آج بھی کل وقتی ملازمہ ہی رہتی ہے۔

جی ہاں سب کی طرح شادی کے شروع کے سالوں میں مجھے بھی ستی ساوتری بنکر قربانی کی گائے بننے کا شوق تھا۔ چناچہ میں اس سلم سمارٹ لڑکی کو نظر انداز کرتی رہی سجنا سنورنا جس کا شیوا تھا اور اپنے اندر کی اس ستی ساوتری کو پروان چڑھاتی رہی جو گھر بار بچوں کے لیے پہلے کنگھی کرنا چھوڑ دیتی ہے، پھر منہ دھونا، پھر کپڑے بدلنا، پھر صحت کا خیال پھر ماضی اور مستقبل بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔ جب بچوں کو پال پوس کر سکول بھیج کر وہ ایک کام سے فرصت پاتی ہے تو خبر ہوتی ہے کہ وزن کئی سوئیاں چڑھ چکا ہے، آنکھوں تلے سیاہی اور پیروں پر جھریاں آ چکیں، ہونٹ اور رنگ ملائمت گنوا بیٹھے، گھٹنے دکھنے لگے، سانسیں پھولنےلگیں اور جیسے بڑھاپا دروازے پر کھڑا۔

ابھی اس ممی نے نیا نیا قلم تھاما ہے۔ کئی سرے پکڑوں گی کئی جگہوں سے ٹوٹوں گی پھر جا کر ایک بات ایک کہانی مکمل کر سکوں گی۔ ابھی باتوں کو سمیٹنا نہیں آتا۔ ابھی سوچ اسی طرح دربدر بھٹکتی ہے جیسے میرا وجود دن بھر آوازوں پر لپکنے کی ورزش میں مصروف رہتا ہے۔ تو مجھ ممی سے گلہ مت کیجئے گا کہ اگر بات کہیں سے چھٹے اور کہیں اور جا پہنچےکہ یہ مجھ ممی کی مجبوری ہے۔

تو بات تو سچ یہ ہے کہ اپنا یہ بارہ من دھوبن سا وجود مجھے قطعا پسند نہیں۔ درحقیقت مجھے اس سے نفرت ہے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ اس موٹے وجود کے سوا میرے پاس اور کوئی آپشن نہیں۔ میرے گھر کے لوگ مجھے موٹا ہونا تو جتاتے ہیں مگر مجھے اس کو کم کرنے  کے لیے ایک گھنٹے کی فراغت نہیں دیتے۔ اگر ایک یا دو دن چھٹی مل بھی جائے کہیں ورزش یا واک کی تو اگلے کئی دن ایسے کام اور مجبوریاں ٹپک پڑتی ہیں کہ مجھے پھر اپنا آپ بھلانا پڑتا ہے۔ میں باپ تو ہوں نہیں کہ روزانہ صبح ایک گھنٹہ دوڑنے کے لیے نکل جاؤں، مجھے تو اس وقت سب کے ناشتے اور لنچ باکس بنانے ہیں۔ میں شام پانچ سے چھ جم میں بھی نہیں گزار سکتی کہ میرے بچوں کے پڑھنے کا وقت ہے۔ اور میری نو سے پانچ تک کی نوکری بھی نہیں، میری تو کل وقتی ملازمت ہے جس سے نہ چھٹی ملتی ہے نہ خلاصی۔

مجھے معلوم ہے یہ بہت عام سی باتیں ہیں مگر ممی کی لائف جھیل کر دیکھی جائے تو ان سے بڑی حقیقت کوی نہیں ملے گی۔ یہی روز کی باتیں، انہیں صبح شام کے جھمیلوں نے مجھے بنایا ہے۔ مجھے غور سے دیکھیں۔ اس بارہ من کی دھوبن کے وجود میں آپ کو ایک بیس سالہ دوشیزہ ترستی ملے گی، جو بھاگنا چاہتی ہے، ہنسنا اور مسکراناچاہتی ہے، جسے اچھا دکھنا اور خود کو  خوبصورت محسوس کرنا اچھا لگتا ہے، جسے بارش میں بھیگنا ہے، جسے ہوا کے سنگ اڑنا ہے جسے ستاروں کے سنگ جاگنا ہے۔ مگر اس بارہ من کی دھوبن نے بییس سالہ دوشیزہ کو پکڑ رکھا ہے۔

آج بھی اس کے دماغ کو اس بات کا یقین نہیں کہ اک ماں اپنے لیے کچھ لمحے جی سکتی ہے، اک بیوی اپنے لیے بھی خوبصورت دکھ سکتی ہے، مجھے آج بھی کفر لگتا ہے کہ میں دن میں، ہفتے میں، مہینے میں کچھ گھنٹے بچوں، میاں، اور گھر کی ضرورتوں سے پرے رہوں۔ مجھ پر کوی آواز لگا دیتا ہے کہ ”خود غرض“۔ اور میں ایک خود غرض ماں نہیں بننا چاہتی۔ اس لیے میں اپنا دل مارے اپنی ذمہ داریوں کے ساتھ لپٹی رہتی ہوں۔ مگر اتنی محنت اور ریاضت کے باوجود میرے بچے دنیا کے مکمل ترین، خوبصورت ترین، اور ہنس مکھ ترین بچے کیوں نہیں؟ میری بیٹی کے چہرے پر ہر وقت وہی ناراضگی کیوں چھائی رہتی ہے جو مجھے آئینے میں اپنے چہرے میں دکھائی دیتی ہے؟ میرا بیٹا میری ہی طرح کیوں چیخنے لگا ہے۔

میں نے جب سے زندگی کو ممی بن کر کر جینا سیکھا میں بھول گئی کہ میں نے زندگی کو نہ جیا تو میرے بچے بھی زندگی نہ جی سکیں گے۔ میں نے جب سے مسکراہٹ گروی رکھی، مجھے خبر نہ ہوی کہ میرے بچے مسکرانا نہ سیکھ سکیں گے۔ اور جب سے میں نے گھر اور بچوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے منہ دھونا، کنگھی کرنا، کپڑے بدلنا چھوڑا مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ میری بیٹیاں میری تقلید میں خود پر توجہ دینا نہ سیکھ سکے گی۔ میرے لوگوں اور معاشرے کے رویوں نے مجھے اس طرف دھکیل دیا جدھر صرف میرا حال ہی نہیں میرا مستقبل بھی تاریک ہو رہا تھا۔ کیا آپ نے بھی کبھی قربانی کی گائے بنتے ہوئے یہ سوچا ہے کہ آپ اپنے گھر میں قربانی کی گائیاں ہی پروان چڑھا رہے ہیں؟ نہیں ناں! ہم کیکر کے بیج بو کر گلابوں کی توقع کرنے والے لوگ ہیں ناں!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں