افغان طالبان کا عید الفطر کے موقع پر تین روزہ جنگ بندی کا اعلان


فغان طالبان

BBC

افغان طالبان نے عید الفطر کے موقع پر تین دن کے لیے افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاہم اس کا اطلاق غیر ملکی افواج پر نہیں ہو گا۔

افغان طالبان نے اپنے گروپ میں شامل تمام جنگجوؤں کو ہدایت کی ہے کہ عید الفطر کی تعطیلات میں اپنی تمام کارروائیاں روک دیں لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ انھیں حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

خیال رہے کہ 2001 میں امریکہ کے افغانستان میں حملے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب طالبان کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے۔

دوسری طرف حکام کے مطابق صوبے کندوز میں طالبان اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان لڑائی میں کم از کم 19 پولیس اہلکار اور نو شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ طالبان نے کہا ہے کہ یہ حملہ انھوں نے کیا تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’طالبان افغانستان کے 70 فیصد علاقے کے لیے خطرہ‘

افغانستان میں ٹرمپ کی فضائی جنگ کی جانی قیمت کیا؟

جنگ بندی: افغان حکام اور طالبان کے درمیان خفیہ ملاقاتیں

اس سے پہلے گذشتہ ہفتے ہی افغان حکومت نے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔

افغان صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ طالبان کا فیصلہ شدت پسندوں کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ ’ان کی پرتشدد مہم‘ افغان عوام کے دل و دماغ نہیں جیت رہی بلکہ انھیں افغان عوام سے الگ تھلگ کر رہی ہے۔

افغان حکومت نے اگرچہ طالبان کو جنگ بندی کی پیشکش کی تھی تاہم اس نے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والے شدت پسند گروہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

افغان صدر اشرف غنی

EPA
افغان صدر اشرف غنی نے طالبان کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے

یہ صدر اشرف غنی کی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی پہلی غیر مشروط پیشکش کی تھی اور اس سے پہلے مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد فتویٰ جاری کیا گیا تھا جس میں شدت پسندوں کی تشدد کی کارروائیوں کی مذمت کی گئی تھی۔

یہ مذہبی رہنما خود دولتِ اسلامیہ کے ایک حملے میں نشانہ بنائے گئے تھے جب کابل میں نصب امن کے خیمے کے داخلی دروازے پر خود کش حملے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اب یہ واضح نہیں کہ جنگ بندی کا اطلاق کب سے ہو گا کیونکہ عید الفطر کا اعلان چاند نظر آنے پر ہو گا تاہم افغان حکومت کے کلینڈر کے مطابق رمضان کا اختتام 15 جون کو ہو گا۔

امریکی محکمۂ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں اس کی فوج اور اتحادی جنگ بندی کا احترام کریں گے۔

خیال رہے کہ اس وقت افغانستان میں غیر ملکی افواج کی تعداد 15 ہزار کے قریب ہے اور گذشتہ برس امریکی صدر نے فوج کو نکالنے کی ڈیڈ لائن دیے بغیر ملک میں شدت پسندوں کے خلاف فضائی کارروائیوں میں اضافے کا حکم دیا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4127 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp