ایاز صادق، جان میکین اور رؤف کلاسرا


کلاسرا صاحب کے کالمز میرے معمول کا حصہ بن گئے ہیں۔ جان میکین کی ڈاکومنٹری دیکھ کر انہیں ایاز صادق یاد آئے ہیں۔ کینسر سے جنگ میں مبتلا میکین چند مہینوں کا مہمان ہے لیکن زندگی جس اعلی اخلاقی   معیار پر  گزاری ہے اس نے بہت سوں کیلئے میکین کو ایک  قابلِ تقلید مثال بنا دیا ہے۔ ایک لمبی سیاسی کیریئر میں میکین نے اختلاف کو کبھی اخلاقی بنیادوں سے گرنے نہیں دیا۔ دوسری جانب ہمارے معزز سپیکر قومی اسمبلی پانچ سال میں کوئی  نیکنامی تو نہ کما سکے،دبئی میں کاروبار کرتے  اپنے بیٹے کو کئی اہم بورڈ ز کا ممبر ضرور بنا بیٹھے۔ ایک طرف میکین ہے جو کینسر جیسے جان لیوا مرض سے نبردآزما ہسپتال میں بسترِ مرگ سے اٹھ کر سینیٹ پہنچتا ہے اور اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دے کر مطمئن ضمیر کیساتھ واپس ہسپتال کی راہ لیتا ہے۔ “جوئے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی”۔ دوسری جانب ہمارے ایاز صادق صاحب ہیں جن کی پچھلے پانچ سال میں بڑی سے بڑی کامیابی کورم کا نہ ٹوٹنا تھا۔زندگی کی حقیقت جاننے کیلئے کسی کوہ کن کے دل میں جھانکنے کی انہیں چنداں ضرورت نہیں، ان کیلئے زندگی بس اتنی ہے کہ شاہانہ پروٹوکول  کے ساتھ اسمبلی پہنچے، سپیکر کا دیدہ زیب گاوُن زیبِ تن کیا اور بیٹھ گئے معمول کے مطابق سننے سنانے۔ بیچ بیچ میں اپنی اولاد اور خاندان کیلئے چور دروازوں سے جو ملے، بٹور لیں۔ جان میکین اور ایاز صادق درحقیقت  دو مختلف دنیائیں ہیں۔ دونوں کے تانے بانے ایک دوسرے کی متضاد چیزوں سے بُنے ہیں۔ ایاز صادق اور جان میکین دنیا کے دو، دورو دراز خطوں میں آباد دو ممالک، دو نظاموں اور دو معاشروں کی علامتیں ہیں۔ ایاز اور میکین کا موازنہ ایسا ہی ہے جیسا کہ میں اپنے گاوں کے ایک ڈھیری کو ماؤنٹ ایورسٹ کے مدمقابل کھڑا کردوں۔ دونوں سیاستدان ہیں اس لئے دونوں کا میدانِ عمل ایک ہے لیکن ہر ایک کا طرزعمل جدا اور اس واسطے اثرات بھی جدا جدا ہیں۔ ان دونوں شخصیات میں فرق وہی ہے جو ان معاشروں میں ہے جن سے یہ وابستہ ہیں۔ ایک طرف جھوٹ تو دوسری طرف سچ، ایک طرف دیانت تو دوسری طرف فریب، ایک جانب اخلاص تو دوسری جانب دھوکہ، ایک طرف جفاکشی تو دوسری جانب کام چوری، ایک طرف  محنت تو دوسری جانب کاہلی، ایک جانب میرٹ تو دوسری جانب اقرباپروری، ایک طرف خوشامد تو دوسری جانب صاف گوئی، ایک جانب دلیری تو دوسری جانب بزدلی، ایک جانب انصاف تو دوسری جانب ظلم، ایک جانب علم تو دوسری جانب جہالت ، ایک جانب مساوات تو دوسری جانب امتیاز۔لسٹ لمبی ہے، اگر دوستوں کو گراں نہ گزرے تو علامہ صاحب کا شعر نقل کروں

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضاء میں
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کا جہاں اور
امید ہے کہ یار دوست کرگس اور شاہیں میں امتیاز کیلئے فقط عقیدے کو بنیاد نہیں بنائیں گے۔
مجھے اندازہ ہے کہ ہمارے پارلمینٹیریز کے پیسوں کی ہوس اور بھوک، حساس دلوں پر کیا کیا قیامتیں ڈھا رہی ہیں۔ یہ زہنی افلاس کے مارے لوگ پیسے کو اپنا خداسمجھتے ہیں۔ پانچ ہزار روپے کیلئے یہ جعلی حاضری لگانے کیلئے تیار ہوتے ہیں تو کیا پانچ لاکھ کیلئے جعلی دوائی نہیں بیچیں گے؟ کسی لمحے کی سرشاری تھی یا انتہا کو پہنچی پیاس کی شدت؛ عدم صاحب نے کہا تھا کہ ‘ایک ہی بوتل پہ ایماں بیچنے والا ہوں میں’۔ ہمارے یہ نمایندگان ایک ہی ‘بریف کیس’ پر ایمان بیچنے والوں کو اگر مفت میں پانچ ہزار روپے ملیں تو یہ کیونکر پیچھے ہٹیں، اور کچھ نہیں بوتل تو آجائے گی اس سے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ایک لمحہ بھی انہیں احساس نہیں ہوتا کہ یہ جھوٹ اور فریب ہے، کسی اور کا مال ہتھیانا حرام ہے۔ میرے خیال میں ہمارا معاشرہ جھوٹ کو برا سمجھتا ہی نہیں بلکہ  جھوٹ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ کالج میں ہمارا ایک دوست تھا۔ شام کو ہم اپنے ہاسٹل کے نزدیک کرکٹ کھیلتے تھے۔ وہ سیدھا گھر سے آکر ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلنے لگتا۔ اکثر اوقات اس کے والد صاحب گزرتے تو آواز دیتے ‘اوئے نماز پڑھی ہے؟’ وہ فوراً جواب دیتا ‘جی ابا’۔ ہمیں پتہ تھا کہ ہمیشہ جھوٹ بولتا تھا۔ کیا اس کے والد صاحب کو پتہ نہیں تھا؟ انہیں بھی معلوم تھا کہ جھوٹ بول رہا ہے لیکن خاموش رہتے اور یوں باپ بیٹا ایک دوسرے کو اور خود کو فریب دیتے۔ اس کی ایک وجہ ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ جھوٹ کی حاضریاں لگنا وہی سے شروع ہوتی ہیں، اساتذہ جھوٹ سکھاتے ہیں، والدین مدد کرتے ہیں۔ بورڈ امتحانات میں سکولز پرنسپلز، اساتذہ اور والدین لمبی لمبی میٹنگز کرتے ہیں کہ بچوں کو کس طرح نقل (Cheating) کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ سر جوڑ کر بیتھتے ہیں، پیسہ اور تعلق استعمال کرتے ہیں، کسی طرح بچہ ڈاکٹر، انجینئر بن جائے۔ ہوتے ہوتے جب ہم عملی زندگی میں آتے ہیں تو جھوٹ، دھوکہ، فریب ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ہم شعوری اور لا شعوری طور پر جھوٹ بولتے ہیں، دھوکہ دیتے ہیں اور اسی پر خوش رہتے ہیں۔ ابراہم لنکن نے اپنے  بیٹے کے استاد کو چند نصیحتیں   کی تھیں، ہر ایک سنہرے حروف سے لکھنے لائق! ان میں سے ایک یہ ہے
Teach him if you can that it is far more honorable to fail than to cheat
‘اسے پڑھاو اگر پڑھا سکتے ہو کہ نقل کرنے سے فیل ہونا بدرجہا بہتر ہے ‘
اللہ ہم پر رحم کرے
image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں