پاکستانی فوج کا گل بخاری کے اغوا میں ہرگز ہاتھ نہیں ہے: ترجمان پاکستان فوج

فرحت جاوید - بی بی سی اردو، اسلام آباد


آصف غفور

پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ گل بخاری کے اغوا کے معاملے سے فوج کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ میجر جنرل آصف غفور جمعے کو ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کر رہے تھے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اور کالم نگار گل بخاری کو منگل کی شب لاہور میں اغوا کیے جانے کے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

تاہم پاکستانی فوج کے ترجمان نے گل بخاری کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا: ‘پاکستانی فوج کا گل بخاری کے اغوا میں ہرگز ہاتھ نہیں ہے’۔ انھوں نے کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔

اس واقعے کے بعد پاکستانی صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے نے ایک بیان میں فوج سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ صحافیوں کو ‘غیر ریاستی عناصر‘ قرار دینے پر مبنی بیان واپس لیا جائے۔

تاہم جمعے کو اسی صحافتی تنظیم کی جانب سے جاری دوسرے بیان میں کہا گیا تھا کہ آئی ایس پی آر کے بیان کا مقصد کسی صحافی کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔ فوج کے ترجمان نے بھی اس معاملے کو غلط فہمی قرار دیا۔

واضح رہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں ٹرولنگ اکاؤنٹس کی ایک سلائیڈ دکھائی تھی جس میں پانچ اکاؤنٹس کی شناخت چھپاتے ہوئے ترجمان نے بتایا تھا کہ یہ اکاؤنٹس ریاست مخالف پراپیگنڈے کی تشہیر کر رہے ہیں۔ ‘خودکار طریقے سے تیار’ اس سلائیڈ میں بعض صحافی بھی دیکھے جا سکتے تھے۔

پی ایف یو جے کے وفد نے جمعرات کو ڈی جی آئی ایس پی آر جبکہ جمعے کو ان صحافیوں میں سے چند کے ساتھ ملاقات کی تھی جن کے اکاؤنٹس کی تصاویر اس سلائیڈ میں نظر آئیں، جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے دکھائیں۔

پی ایف یو جے کے صدر کے مطابق فوجی ترجمان دراصل صرف ان اکاؤنٹس کو ریاست مخالف بیانیے کو پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے جن کے چہرے اس سلائیڈ میں چھپائے گئے تھے۔

تاہم سماجی کارکن جبران ناصر اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’یہ سمجھنا ہو گا کہ آخر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اس قِسم کے ہر واقعے کے بعد شک ریاستی ادارے کی جانب جاتا ہے؟’

جبران ناصر سمجھتے ہیں کہ اب ایسی فضا پیدا ہو گئی ہے کہ کوئی بھی اس قسم کی کارروائی یہ سوچتے ہوئے کر سکتا ہے کہ شک تو فوج پر ہی ہوگا اور ‘بدقسمتی سے یہ فضا بھی خود فوج ہی نے قائم کی ہے، فوج نے خود نہ کیا ہو مگر ان کے حمایتی کر سکتے ہیں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے’۔ انھوں نے کہا کہ گُل بخاری معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیں اور ‘ملوث افراد کو سامنے لایا جائے۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4920 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp