ایک آئینہ فروش کی یاد میں


یہ ستمبر انیس سو تراسی کے شروع کی بات ہے۔ تین ہفتے سے جاری تحریکِ بحالی جمہوریت اندرونِ سندھ میں بالخصوص ہاتھ سے نکلی جا رہی تھی کیونکہ کنگلے ہاری کے دل سے ریاست کا دبدبہ نکل گیا تھا۔ ہر شہر اور قصبے میں پیپلز پارٹی کے جتنے جیالے تھے ان میں سے بیشتر پہلے ہی اٹھا لیے گئے تھے، جو بچ گئے وہ زیرِ زمین تھے یا گھر بدل بدل کر کبھی یہاں کبھی وہاں نمودار و غائب ہو رہے تھے۔ جئے سندھ الگ تھلگ تھی، اے این پی گو مگو میں تھی۔ مگر پھر تحریک کیوں چل رہی تھی؟ جمعیت علمائے اسلام یقیناً مزاحمتی میدان میں تھی مگر اس کی جڑیں اتنی تو زیادہ پھیلی ہوئی نہیں تھیں۔ روزانہ خود کو گرفتار ہونے کے لیے پیش کرنے والے کون لوگ تھے۔

مارشل لا انتظامیہ کو یہ سمجھنے میں بہت دقت پیش آ رہی تھی کہ مزاحمتی گراف روزبروز اوپر ہی اوپر کیسے جا رہا تھا اور یہ عورتیں اور لڑکیاں کون ہیں جو روزانہ کسی نہ کسی ناکے یا سڑک پر نعرے لگاتی ہیں اور صف آرا محافظوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ انھیں گرفتار کرنا ہے کہ نہیں کرنا ؟ ان سب کو منظم کون کر رہا ہے کیونکہ ہر قابلِ ذکر ضیا مخالف معروف قیادت اور کارکنان تو پہلے ہی قابو کیے جا چکے ہیں۔

پھر مخبروں کی رپورٹیں آنے لگیں کہ کوئی عوامی تحریک ہے جو یہ کارخانہ چلا رہی ہے؟ کراچی اور لاہور والوں کو تو بالکل ہی سمجھ میں نہ آیا کہ پیپلز پارٹی تو سمجھ میں آتی مگر عوامی تحریک کیسے سیاسی بلا بن سکتی ہے؟ پلیجو اور فاضل راہو تو برسوں سے جیل میں ہیں۔

ایم آر ڈی تحریک دراصل راہو پلیجو نظریاتی لیبارٹری میں تیار ہونے والی مزاحمتی پروڈکٹ کی پہلی فیلڈ ٹیسٹنگ تھی۔ مجھے برطانوی اخبار گارڈین میں شایع ہونے والا تجزیہ یاد ہے جس کا لبِ لباب تھا کہ ضیا رجیم کے لیے پیپلز پارٹی نہیں، عوامی تحریک خطرہ ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے رسول بخش پلیجو کے سیاسی سفر سے کوئی دلچسپی نہیں۔ حیدر بخش جتوئی کی ہاری تحریک سے لے کر ون یونٹ مخالف تحریک تک، مشرقی پاکستان و بلوچستان میں فوجی آپریشن کی مخالفت، تنگ نظر قوم پرستوں سے تعلیمی اداروں میں پنجہ آزمائی، بہاری نہ کھپن، محروم صوبوں کا سیاسی اتحاد، ولی خان اینڈ کمپنی سے معانقہ و علیحدگی، اینٹی کالا باغ ڈیم تحریک، وفاقی سیاست میں پنجاب کے دوہرے کردار پر انگشت نمائی، طبقاتی و قومی جدوجہد کی بین الاقوامی ترقی پسند جدوجہد کے ساتھ یکجائی کا تجربہ، محکوم عورتوں سے مفلوک بچوں تک سب کو سیاسی بیداری کے دائرے میں لانے کی کوشش، ہر سال کسی نہ کسی مسئلے پر لانگ مارچ۔ کیا پلیجو بس یہی تھا؟

اور جب پلیجو دنیا سے رخصت ہوا تو بس ایک خبر تھا؟ سینئیر سیاستداں؟ بزرگ سندھی سیاستداں، قوم پرست سیاستداں، مزاحمتی سیاستداں آج انتقال کر گئے۔ وہ فلاں کے والد تھے، انھوں نے کئی سیاسی تحریکوں میں حصہ لیا۔ پسماندگان میں ان ان کو چھوڑا۔ زید اور بکر نے دکھ بھرے ٹویٹ کر دیے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ ۔ ہاں بھئی یہ بتاؤ ریحام خان کی کتاب کے بارے میں تازہ مصالحہ کیا ہے؟

میری آخری ملاقات پلیجو صاحب سے قریباً دو ماہ پہلے کراچی میں ہوئی۔ نقاہت زیادہ تھی لہذا اپنے آپ سے سوال کرتے؟ کیا میں ناکام رہا ؟ پھر خود ہی جواب دیتے کامیابی منزل پا لینا ہے یا سفر کے دوران تھک کے بیٹھ جانا؟ اگر کامیابی منزل پا لینا ہے تو شاید میں ناکام ہوں۔ اگر چلتے رہنا ہے تو پھر مجھ سے زیادہ کامیاب تو کوئی ہے ہی نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ میرے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی چل رہا ہوگا۔ ہو سکتا ہے وہ مجھ سے بہتر ہو۔ روح کہتی ہے ابھی نہیں جانا، بہت کام باقی ہے، جسم کہتا ہے تجھے ایک لمبی نیند چاہیے۔ اب دیکھو ان میں سے کون جیتتا ہے؟ اور دو روز پہلے سات جون کو پلیجو کا جسم جیت گیا۔ روح اب کوئی اور جسم ڈھونڈھ رہی ہو گی۔

پلیجو صاحب سے پچھلے بیس برس میں کئی ملاقاتوں کے بعد جا کے کھلا کہ وہ کتنے زیرک آدمی ہیں۔ طالبِ علمانہ معصومیت سے گفتگو کا آغاز کرتے اور جب آپ کسی بھی سوال کا اپنی علمی اوقات کے حساب سے جواب دے کر نہتے ہوجاتے تو پھر پلیجو صاحب منطق در منطق تاریخ و فلسفے کا سیاست کے فرمے پر دھاگہ در دھاگہ، گانٹھ در گانٹھ جواب بنتے چلے جاتے اور ملاقات ختم ہوتے ہی مہمان علم و منطق کا یہ تھان اٹھائے گھر روانہ ہو جاتا۔

جس شخص کے ڈرائنگ روم میں قالین گھس گھس کے دری بن چکا ہو، دیواروں سے سفیدی ٹوٹ ٹوٹ کے گر رہی ہو۔ پورے کمرے میں بس ہوچی منہ کی ایک تصویر اور کسی پرستار کی بنائی بہت ہی بور سی کوئی پینٹنگ لٹکی ہوئی ہو۔ مسہری اتنی کہنہ ہو کہ اس کی چوبی پٹیوں کے ریشے تک ہر آنے جانے والے کو ازبر ہو جائیں۔

مگر اس ماحول میں بھی گفتگو لطیف کے سُر سے موڈی کی تازہ باریکیوں، مارکسی جدلیاتی اصولوں کے لاطینی امریکا سے ایشیا تک اطلاق میں کامیابیوں اور ناکامیوں کی وجوہات سے ہوتی ہوئی اچانک ٹھٹھہ سے آنے والے کسی پریشان حال ہاری کے بیٹے کی ضمانت کا راستہ ڈھونڈنے کی جانب مڑ جائے اور پھر دریائے سندھ کے اوپری اور زیریں علاقوں کو کتنے ملین مکعب فٹ پانی کی درکاری کے چارٹ کی جانب رخ کرتے ہوئے اچانک تنگ نظر قوم پرستی کے تلخ تجربات، سن چالیس کی قرار داد کے پاکستان اور آج کے پاکستان کے موازنے کا موڑ کاٹ کر مقامی اشرافیہ کی سامراجی دلالی اور متوسط طبقے کی چھوٹی چھوٹی چالاکیوں پر منتج ہو کر چاول کی روٹی بنانے کی پانچ آسان ترکیبوں کے بیان پر ختم ہو جائے۔ ایسے شخص کے بارے میں کم از کم مجھے کوئی نہ سمجھائے کہ وہ کتنا بڑا یا چھوٹا آدمی ہے؟

پلیجو صاحب نے مجھے لطیف سمجھانے کی کئی بار ناکام کوشش کی۔ پھر انھیں ایک روز خود ہی احساس ہو گیا کہ یہ آدمی پیدل ہے اس پر توانائی لگانا بے کار ہے۔ مگر آج میں اعتراف کر سکتا ہوں کہ غالب اور بلھے شاہ کا کلام پڑھتے ہوئے جہاں جہاں اٹکتا تھا وہاں وہاں پلیجو ہاتھ بڑھا کر دلدل سے نکال لیتا تھا۔ کبھی کبھی تو شک ھی ہوتا کہ یہ تینوں کہیں کلاس فیلو تو نہیں رہے۔ مگر جب دوسرے ہی سانس میں پلیجو صاحب غالب سے نابلد اردو دان جنتا اور بلھے شاہ سے نابلد پنجابیوں کے بارے میں کہتے کہ ان کا زیورِ جہل سے مرصع طرزِ رعونت بتاتا ہے کہ لطافت اور شعری سمجھ چھو کے بھی نہیں گذری تو تینوں کے ہم جماعت ہونے کا شک دور ہو جاتا۔

بقولِ پلیجو جس طرح میں نے غالب اور بلھے شاہ کو پڑھا اگر پنجابی اور اردو کے ٹھیکیدار پڑھ لیتے تو انھیں بنگالی، بلوچ اور سندھی کی تکلیف بھی فوراً سمجھ میں آجاتی۔ بے وقوف رعایا ہونا اتنی خراب بات نہیں۔ مگر بے وقوف اشرافیہ ہونا دراصل وہ عذابِ علیم ہے کہ جس کی بشارت خدا نے دی ہے۔

میں پلیجو کو کسی ایک علمی، فکری، نظریاتی یا سیاسی خانے میں بند کرنے یا ڈیڑھ نمبر کی فکری عینک سے دیکھنے سے قاصر ہوں۔ میں اتنا بینا بالکل نہیں کہ پورا ہاتھی ایک نگاہ میں ناپ سکوں۔ میرا موہوم سا تصورِ پلیجو اگر ہے بھی تو بس اتنا کہ ایک شخص کہیں سے آیا اور آئینے بیچتا بیچتا شام ڈھلے بازار سے چلا گیا۔ کتنے آئینے بکے یا ٹوٹے؟ وہ جانے رب جانے۔

یہی سب کچھ تھا جس دم وہ یہاں تھا

چلے جانے پے اس کے جانے کیا نئیں (جون ایلیا)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں