سوات میں زمین اور جنگلات کے تصّرف پر ’رواج ‘ کا راج


Picture_Zubair Torwali“سایہ دار ہیں۔ پھل اور پھول کثرت میں ہیں۔” یہ بات 629ء میں چینی یاتری زوان زانگ (XuanZang) نے سوات کے اپنے دورے کے بارے میں لکھی۔ چینی یاتری کے اس قول کو سوات سے تعلق رکھنے والے مورّخ ڈاکٹر سلطانِ روم نے اپنی نئی کتاب “سوات میں زمین اور جنگلات کا انصرام؛ قبائیلی نظام سے ریاست سوات اور پاکستان میں منتقلی”

“(Land and forest governance in Swat; transition from tribal system to State to Pakistan)

میں نقل کیا ہے۔ یہ کتاب اسی سال اوکسفورڈ یونیورسٹی پریس (Oxford University Press) نے شائع کی ہے۔

بدقسمتی سے حالیہ سالوں میں سوات طالبان شورش کی وجہ سےزیادہ جانے لگا ہے۔ تاہم یہ خوبصورت وادی تاریخی ورثے کے ساتھ ساتھ حیاتیاتی، نباتاتی اور ثقافتی تنوع سے بھی مزیّن ہے۔ سوات پاکستان میں سیّاحوں کی ایک مقبول و محبوب منزل بھی ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ہر قسم کے سیّاح ادھر کا رخ کرتے ہیں۔ امریکی پر گیارہ ستمبر 2001ء کے حملوں سے پہلے سوات میں غیر ملکی سیّاح بھی کثیر تعداد میں آتے تھے۔ ان میں بدھ مت سے تعلق رکھنے والے وہ یاتری بھی ہوتے تھے جو جنوب مشرقی ایشیا سے آتے تھے۔ اسی طرح یورپ اور امریکا سے بھی سیّاح یہاں کا رخ کرتے تھے۔

دورِ قدیم کےعجائبات اور رسوم کے علاوہ سوات اپنے باغات، جھیلوں، پہاڑوں، چراگاہوں بلور ندّیوں اور دریاؤں کے لئے بھی مشہور ہے۔ ماحولیات میں اس تنوع کی اصل وجہ یہاں کے خوبصورت جنگلات ہیں جو کہ بد قسمتی سے کئی وجوہات کی بنا پر سکڑتے جارہے ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ کسی ملک اور خطے پر حملوں کی اہم وجہ وہاں کے وسائل پر قابض ہونا ہوتا ہے۔ سوات کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ سوات کی زرخیز زمین اور وافر قیمتی جنگلات نے ماضی میں طالع آزماؤں کو اپنی طرف راغب کیا اور یہاں کے حسن پر ان حملہ آوروں نے بری نظر ڈالی۔

24طالبان شورش کی وجہ سے سوات پوری دنیا میں تبصرہ نگاروں اور میڈیا کا محور رہ چکا ہے۔ کئی محقیقین نے سوات میں اس شورش کی وجوہات پر تبصرے کئے ہیں۔ کئی لوگ اس شورش کی وجہ مبینہ طور پر شریعت سے یہاں کے لوگوں کے لگاؤ کو ٹھہراتے ہیں تو کہیں دوسرے لوگ سوات میں اس جنگ کو ’طبقاتی جنگ ‘ قرار دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس شورش کی وجہ زمین کی غیر منصفانہ تقسیم اور اس سے متعلق تنازعات ہیں۔ اسی طرح سوات میں طالبان شورش کو ملک کے دوسرے حصّوں سے الگ کر کے بھی دیکھا جاتا ہے۔

سلطان روم صاحب کی مذکورہ کتاب اگرچہ خالص زمین اور جنگلات کے انصرام سے متعلق ہے تاہم اس کتاب کو پڑھنے کے بعد سوات میں اس حالیہ شورش کی وجوہات کو بھی پرکھا جاسکتا ہے۔

یہ کتاب آٹھ ابواب پر مشتمل ہے جو کہ کل چھ سو صفحے بنتے ہیں۔ پہلا باب سوات کی مختصر سیاسی تاریخ ہے جس میں قدیم دور سے لے کر گذشتہ سال تک سیاسی تاریخ کا مختصر مگر جامع تذکرہ کیا ہے۔ دوسرا باب سوات میں زمین اور اس سے متعلق امور پر بحث کرتا ہے۔ تیسرے، چوتھے اور پانچویں ابواب میں سوات میں جنگلات کے انصرام پر قدیم، ریاستی ادوار اور پاکستانی حکومت کے حوالے سے مفصل بحث کی گئی ہے۔ اخری دو ابواب کالام کے جنگلات کے انصرام اور انتظام سے متعلق ہیں۔

محمود غزنوی نے سوات پر گیارویں صدی کے شروع میں قبضہ کیا۔ لیکن تاریخی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو محمود غزنوی نے ہندوستان پر اپنی دوسری مہمات کی طرح سوات پر قبضہ کرنے کے بعد اس پر مکمل توجہ نہیں دی۔ اثرات بتاتے ہیں کہ اس نے سوات پر مستقل طور پر حکمرانی نہیں کی اور یوں سوات اس وقت کے ہندو راجاؤں کے پاس رہا اور یہاں اس وقت کے وہ غیر مسلم باشندے بھی رہے جو تاریخ کی کتابوں میں ’سیاہ پوش کافر ‘ کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔ ان لوگوں میں اکثریت کا اپنا ’آبائی مذہب ‘ بدستور قائم رہا۔

Kalam-Valley-Swat-Pakistan-a-forestسولہویں صدی میں سوات پر یوسفزئی پختون قابض ہوئے۔ ان کے دور تک بھی یہاں وہ کافر آبادی آباد تھی لیکن رفتہ رفتہ سکڑ رہی تھی۔

جب یوسفزئی پختون سوات پر قابض ہوئے تو سب سے بڑا مسئلہ جو اس فاتح قبیلے کو درپیش رہا وہ یہاں کی مفتوح آبادی سے چھینی ہوئی زمین کی تقسیم کا تھا۔ یہاں کی ساری زمینیں چونکہ ایک ہی معیار کی نہیں تھیں لہٰذا مستقل تقسیم کی صورت میں جھگڑوں کا امکان ذیادہ تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لئے ایک زیرک شخص مسموم شیخ ملی نے ایک نظام وضع کیا جس کو پختو زبان میں ‘ویش’ کا نام دیا گیا۔ شیخ ملی نے سوات کی زمینوں کا ایک جائزہ لیا اور اس کو ریکارڈ کرکے لکھا۔ یہ ریکارڈ ‘دفتر’ کے نام سے مشہور رہا۔

ویش نظام میں زمین کسی کی مستقل ملکیت میں نہ تھی بلکہ ایک خاص مدّت مثلاً پانچ، دس، پندرہ یا بیس سالوں کے لئے کسی ایک خاندان کو دی جاتی۔ معیاد ختم ہونے پر یہ خاندان زمین کے کسی دوسرے حصّے پر جاتا اور پہلا والا حصّہ کسی اور خاندان کے حصّے میں آجاتا۔ یہ تقسیم اکثر قرعہ اندازی کے ذریعے کی جاتی۔ قرعہ کے وقت سخت لڑائیاں بھی ہوتیں۔

یہ عارضی انتظام اصل میں یوسفزئی قبائل کے بیچ تنازعات رکوانے کے لئے ہوتا تھا اور اس کا مقصد ہرگز مساوات نہیں تھا جیسا کہ کئی مصنفین نے لکھا ہے۔ سبط حسن اپنی مشہور کتاب ’موسی سے مارکس تک ‘ میں ویش کے اس نظام کو اشتراکیت سے منسوب کرتے ہیں حالانکہ تاریخی حوالوں کے ساتھ سلطان روم اپنی کتاب میں بتاتے ہیں کہ ویش والی تقسیم کبھی بھی مساویانہ نہیں تھی۔

Miandam-Swat-a-bridge-over-stearm-with-hillsویش والی اس تقسیم کے بڑے منفی اثرات یہاں کی زرخیز زمینوں اور باغات پر ہوئے۔ اس کا اظہار کئی محقیقن نے کیا بھی ہے۔ 1929ء میں اریل سٹین (Aurel Stein) نے اس نظام کے اثرات کا ذکر یوں کیا ہے، ’مگر اس زرخیز اور اچھی زمین پر باغات اور پھلوں کا فقدان دل دہلا دیتا ہے۔ یہ پورے سوات میں اس پختون ویش نظام کے مہلک اثرات کے نمونے ہیں’۔ اےایچ میکماھان اور اے۔ ڈی۔ جی رمزے (A.H. McMahon and A.D.G. Ramsay)  نے ان اثرات کا ذکر ان الفاظ میں کیا، ’ویش نظام کے برے اثرات ہر ایک کو ہر طرف دِکھتے ہیں۔ کہیں کوئی باغ نہیں ہے، کوئی درخت نہیں بچا ہے ماسوائے زیارت (مقبروں) کے، اردگرد جہاں چند ایک درخت نظر آتے ہیں۔ مساجد بھی گھاس پوس سے بنائے گئے ہیں یا ہر اس چیز سے جو سستی ملتی ہو”۔

اس کا ذکر پشتو کے شاعر اور رہنما خوشحال خان خٹک نے اپنے منظوم سفرنامے ’سوات نامہ ‘ میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’سوات کا قدرتی حسن بادشاہوں کے ذوق کا ہے لیکن یوسفزئیوں نے اسے تباہ کردیا ہے۔’ وہ آگے لکھتے ہیں کہ سوات میں اب بھی کافروں کے گھر شاندار ہیں جہاں خوبصورت حسینائیں رہتی ہیں۔

شیخ ملی کا یہ ویش والا نظام ہارڈین (Hardin) کے نظریہ عام (مشترک ) کا المیہ ‘ (Tragedy of the commons) کی مانند تھا۔ یہاں عام یعنی commons سے مراد وہ مشترک قدرتی وسائل ہیں جن کا تصرف ہر کوئی کرتا ہے لیکن ملکیت کے حق کے نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ان کو کو اپنا نہیں گردانتا۔ اس لئے ان وسائل کو تباہ کیا جاتا ہے۔ یہی صورت حال سوات کی زمینوں کی اس ویش نظام کے تحت تھی۔ ایک خاندان ویش میں دیئے گئے حصّے پر درخت اگاتا تھا نہ ان زمینوں کے لئے مستقل طور پر آبپاشی کا کوئی بندوبست کرتا۔ بلکہ معیاد ختم ہوتے ہی وہ سارے درخت اور پودے کاٹ کر لے جاتا۔ صرف مٹی رہ جاتی۔ اسی طرح یہ لوگ اس نظام کے تحت ایک خانہ بدوش زندگی گزارتے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کوئی مستقل مکان بھی نہیں بناتے۔

369311315_a00609706cویش کے اس نظام سے لوگوں کی اتنی رغبت تھی کہ بقول خوشحال خان خٹک ’سوات میں لوگ دو چیزوں پر قربان ہوتے ہیں۔ ایک شیخ ملی کا دفتر (ویش کا ریکارڈ) اور دوسرا اخوند درویزا کا ’مخزن ‘۔( مخزن السلام اخوند درویزہ بابا کی کتاب ہے)۔

کثرت استعمال سے شیخ ملی کا دفتر بعد میں ’دوتر ‘ بنا اور ریاست سوات کے وقت جب زمینوں کی ’توریران ‘ یعنی مستقل طور پر تقسیم ہوئی تو اس کی بنیاد بھی ویش کو بنایا گیا اور ’دوتر ‘ سے مراد زمین اور جنگل پر ملکیتی حق تسلیم کیا گیا۔

’دوتر‘ کا یہ ملکیتی تصّور پختون معاشرے میں سرایت کر گیا۔ دوتر کا ہونا پختون شناخت بن گیا۔ اگر کوئی اپنا دوتر بیچ دیتا تو وہ اپنی پختون شناخت بھی کھو دیتا۔

رواج کے مطابق دوتر گاؤں کے خان یا ملک کو ہجرہ چلانے اور مہمانوں کی خاطر داری کے لئے بھی دیا جاتا۔ یہ عموماً بڑی زمینیں ہوتیں۔ اسی طرح مذہبی پیشواؤں کو بھی مذہبی خدمات پر مستقل بنیادوں پر یہ حق دیا جاتا۔ یہ ذیادہ تر مستقل طور پر ہوتا اور اس کو ’سیرئی‘ کہا جاتا۔ یوں اس ویش نظام اور اس پر مبنی مستقل تقسیم نے سوات میں جاگیرداری نظام کو مظبوط کیا جس سے دو طبقے، خوانین اور مذہبی پیشوا زیادہ مستفید ہوئے۔

اسی طرح ریاست کے دوران سوات میں کبھی شریعت اسی طرح قائم نہیں رہی جس طرح کہا جاتا ہے۔ سوات میں زمین اور جنگلات سے متعلق قوانین شریعت کی بجائے رواج پر مبنی رہے۔ ویش نظام کے تحت بھی خواتین کو ان کا وہ حق نہیں دیا جاتا جسے شریعت نے واضح کیا ہے۔ ریاست کے دوران بھی کبھی ایسا نہ ہوا۔ دوتر اور زمین پر ملکیت کا حق صرف مرد کا ہوتا تھا۔

خوشحال خان خٹک نے بھی ویش کی برائیوں میں عورت کی حق تلفی کا ذکر کیا ہے:

’’ دا بابا د مال یوازے میرث خور دی، نہ پہ ترور دی، نہ پہ مور دی، نہ پہ خور دی۔ ‘

(بابا کا مال سارا ہڑپ کرنے والا ہے، نہ بہن کی پروا، نہ پھوپھی کی نہ ماں کی)۔

ریاست سوات کے دور میں شریعت کبھی ہمہ گیر طور پر نافذ نہ رہی۔ ریاست سوات کے پہلے حکمران میاں گل عبدالودود المعروف باچا صیب نے اس کا اعتراف خود ان الفاظ میں کیا ہے کہ ریاست کے دوران وراثت کا قانون شریعت کی بجائے ’رواج‘ پر مبنی تھا۔

IMG_1960سلطان روم صاحب نے زیر نظر کتاب میں سوات کے بارے میں کئی مشہور محقیقین کی چند اہم باتوں کو غلط ثابت کیا ہے۔ سوات پر مشہور محقق اکبر ایس۔ احمد نے لکھا ہے، ’باچا صاحب (میاں گل عبدالودود) کی حکمرانی کے دوران سوات میں صنف نازک کو معاشرے میں برابر مقام پر بحال کیا گیا اور ان کو ان تمام مراعات اور حقوق سے نوازا گیا جو شریعت نے دئیے ہیں.’ اس بات کی تردید، جیسا کہ اوپر بتایا گیا، خود باچا صاحب نے اپنے بیان میں کی ہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ خواتین اپنا ’حق مہر ‘ بھی بیچنے کی مجاز نہیں تھیں۔

اس کتاب کے دو دلچسپ باب کالام وادی اور یہاں کے جنگلات سے متعلق ہیں جو کہ سوات کوہستان کا حصّہ ہے۔ سوات کوہستان کے دوسرے حصّے توروال یا توروالی پٹی کو 1923ء میں بغیر کسی بڑی مزاحمت کے ریاست سوات میں شامل کیا گیا۔ لیکن کالام وادی بشمول اتروڑ اور اوشو کبھی ریاست کا حصّہ نہ رہی۔ اس کی بنیادی وجہ اس علاقے پر دیر کے نواب، سوات کے والیان اور چترال کے مہتر کے دعوے تھے جن کی وجہ سے یہ علاقہ متنازعہ رہا اور اس کا انتظام وانصرام براہ راست برطانوی حکومت کے پاس رہا جسے وہ ملاکنڈ میں موجود دیر، سوات اور چترال کے لئے انگریز پولیٹیکل ایجنٹ کے ذریعے کرتے تھے۔ کالام پر ریاست سوات نے 15 اگست 1947ء کو قبضہ کیا تاہم حکومت پاکستان نے اس قبضے کو کبھی نہیں مانا۔ 1954ء کو پاکستانی حکومت نے ریاست سوات کے ساتھ معاہدہ کر کے والی سوات کو تنخواہ پر کالام کا ایڈمنسٹریٹر (administrator) مقرر کیا۔ کالام کی یہ حیثیت 1969ء میں ریاست سوات کے پاکستان میں ادغام تک برقرار رہی۔ جس کے بعد کالام کو ضلع سوات میں شامل کیا گیا۔

کالام کے جنگلات پر سے البتہ ریاست سوات کے حکمرانوں نے اپنے ساتھ اپنے منظور نظر افراد کو بھی خوب نوازا۔ اسی طرح شروع میں برطانوی حکمرانوں نے بھی اپنے منظور نظر لوگوں کو یہاں کے جنگلات سے مستفید کرایا۔

swat-43اس سلسلے میں کاکاخیل میاں گان بہت اہم رہے کہ ان کے باچا صاحب اور انگریز حکمرانوں دونوں سے اچھے مراسم تھے۔ ان میاں گان کو ریاست سوات کے قیام سے پہلے بھی اپنے دینی رتبے اور سلسلے کی وجہ سے میاں گل عبدلغفور المعروف سیدو بابا سے قربت رہی اور یوں سیدو بابا کی دینی مقبولیت سے وہ کالام اور سوات کے جنگلات کی تجارت کرتے رہے۔ ان میاں گان میں سے ایک اہم شخص نے برطانوی حکومت کے لئے جنگ چترال میں خدمات انجام دیں جنہوں نے بدلے میں ان کو سوات کے جنگلات کی کٹائی سمیت کئی انعامات سے بھی نوازا۔ نوازنے کا یہ عمل ریاست کے دور میں بھی جاری رہا۔ والی سوات کے وزیروں، مشیروں اور حکام کی اولادوں نے ان جنگلات خصوصاً سوات کوہستان، شانگلہ اور انڈس کوہستان کے جنگلات سے خوب مال بنایا۔

سلطان روم کی کتاب کے مطابق جب انگریزوں نے پہلی بار کالام کے جنگلات کا جائزہ لیا تو انہوں نے یہاں کے دیودار کے جنگلات کو پوری دنیا میں اچھے اور محفوظ جنگلات قرار دیا۔ وہ کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح یہاں کے جنگلات کا پائیدار تصرف کیا جائے لیکن کالام کے لوگوں نے ان کی ایک نہ مانی۔ یہ سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔

کئی سوالات اب بھی تحقیق طلب ہیں۔ سلطان روم صاحب لکھتے ہیں کہ سوات کوہستان میں باقی سوات کی طرح ویش کا کوئی نظام رائج نہیں رہا۔ یہاں دوتر کی تقسیم قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے۔ اگر سوات کوہستان میں دوتر قدیم روایات سے ایسی ہی چلی آرہی ہے تو یہاں کی مقامی زبانوں میں اس کے لئے کوئی الفاظ ہونے چاہئے تھے۔ یہاں بھی اس تقسیم کے لئے دوتر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جس کی تاریخ شیخ ملی کے دفتر سے ہوتی ہوئی ریاست سوات تک آتی ہے۔ اسی طرح توروالی پٹی میں دریا کے دونوں کناروں پر تقسیم کی ایک ہی قسم کی روایت ہونی چاہئے تھی۔ ایک جانب دوتر کی تقسیم توروالی کے چار قبائل میں سولہ سولہ حصّے کر کے کی گئی ہے جبکہ دوسری جانب لوگی (گھرانے کے حساب سے جنگلات کی رائیلٹی کا حق جسے دوتر کی طرح بیچا نہیں جاسکتا) کو رائج رکھا گیا ہے۔ ‘لوگی’ کے لئے مقامی زبانوں میں لفظ ‘دھیمی’ مستعمل ہے۔ تقسیم کا یہ دہرا طریقہ کیونکر رائج رہا اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر سلطان روم صاحب این ڈبلیو ایف پی فارسٹ آرڈینینس  (NWFP Forest Ordinance 2002)اور دیگر احکامات کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ گو اس آرڈیننس کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو جنگلات کی ملکیتی حق سے بظاہر دستبردار کیا گیا لیکن اب بھی اس سلسلے میں ابہام موجود ہے اور یہ مسئلہ ہنوز حل طلب ہے۔

یہ کتاب بلاشبہ سوات پر مجموعی تحقیق میں گراں قدر اضافہ ہے۔ اس میں زمین اور جنگلات سے متعلق تحقیق کی گئی ہے کہ جس پر بہت کم لکھا گیا ہے اور یہ سوات کی تاریخ کا ایک اہم حصّہ ہے۔ یہ کتاب سوات کی تاریخ، حالیہ شورش اور زمین و جنگلات سے متعلق تنازعات کو سمجھنے میں محقق، طلبا، محکمہ جنگلات، وکلا اور ماحولیات میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے یکساں طور پر مفید ثابت ہوگی۔ خوشی ہوتی ہے جب اپنے ہی سوات کے کسی باشندے کی قلم سے سے ایسی کوئی کتاب پڑھنے کو ملتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments