انتخابات کا کھیل


انتخابی شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے۔ سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدواروں کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ تحریک انصاف نے سب سے پہلے اپنے ٹکٹ یافتہ افراد کے ناموں کا اعلان کر دیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کا اجلاس جاری ہے، پیپلز پارٹی بھی اپنے پتے پھینٹ رہی ہے۔ کئی دوسری جماعتیں بھی سر جوڑ کر بیٹھی ہوئی ہیں، اور کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طرح اپنے وجود کو منوانا چاہتی ہیں۔ عمران خان نے بیک وقت پانچ حلقوں سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد، بنوں اور میانوالی سے۔ وہ مختلف امیدواروں کا سامنا کریں گے۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے بھی 1970ء میں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا تھا۔ پنجاب میں ان کا مقابلہ فرزندِ اقبال، ڈاکٹر جاوید اقبال سے ہوا، اور وہ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔

اس حلقے سے ”محافظِ لاہور‘‘ جنرل سرفراز خان بھی امیدوار تھے۔ اُنہیں یہ خطاب اِس لیے ملا تھا کہ جب 65ء کی جنگ میں بھارتی فوج لاہور پر حملہ آور ہوئی، تو یہاں فوجی کمان ان کے پاس تھی۔ ان کے مداحوں نے فتح کا سہرا، ان کے سر باندھ دیا، جبکہ مخالف اسے تسلیم کرنے پر تیار نہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سرحدوں پر حملہ ہوا، تو فوجی قیادت اس سے بالکل بے خبر تھی، اللہ تعالیٰ کے خاص کرم نے لاہور کو محفوظ رکھا کہ حملہ آور فوج اپنے مقابل کوئی لشکر نہ دیکھ کر وسوسوں میں مبتلا ہو گئی کہ کہیں وہ گھیرے میں نہ آ جائے، اور پیش قدمی روک دی۔ لاہور کو داتا کی نگری سمجھنے والے اسے سید علی ہجویری (المعروف داتا گنج بخشؒ) کی دُعا کا اعجاز سمجھتے تھے کہ حملہ آور کو خود اس کے وسوسوں نے بیڑی ڈال دی… بہرحال میجر جنرل سرفراز ایک اپنی شان رکھتے تھے۔ متاثر کن شخصیت کے ساتھ تقریر کے فن سے بھی آشنا تھے۔ پاکستان جمہوری پارٹی میں شامل ہوئے، اور نوابزادہ نصراللہ خان کی آنکھ کا تارا بن گئے کہ اس وقت یہ ایک اُبھرتی ہوئی جماعت تھی۔ جنرل سرفراز نے بھی اسی حلقے سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے۔ انتخاب سے پہلے ڈاکٹر جاوید اقبال اور جنرل سرفراز کے درمیان ایک دوسرے کو دستبردار کرانے کے لیے گھمسان کا رن پڑا۔ مولانا مودودیؒ اور نوابزادہ نصراللہ خان کے تعلقات میں دراڑ پڑی، لیکن بھٹو کے مقابلے میں مشترکہ امیدوار لانے کی کوشش کامیاب نہ ہو پائی۔

ڈاکٹر جاوید اقبال کا دِل شکست کے بعد سیاست سے اچاٹ ہو گیا، انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کی ججی میں پناہ ڈھونڈ لی، اور ان ہم وطنوں کو انصاف فراہم کرنے میں لگ گئے، جنہوں نے ان کے ساتھ انصاف نہیں کیا تھا۔ یہ انتخابی معرکہ پاکستانی سیاست میں شریف خاندان کے ظہور کی وجہ بھی بن گیا۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کے ساتھ اقبالی تعلق کی وجہ سے میاں محمد شریف مرحوم نے ان کی انتخابی مہم میں مالی معاونت کی۔ بھٹو مرحوم نے ان کے نام کے گرد سرخ دائرہ لگا لیا۔ برسر اقتدار آئے تو اتفاق فائونڈری پر بھی قومیانے کے نام پر قبضہ کر لیا۔ میاں محمد شریف مرحوم کے ہاتھ خالی ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس واردات نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ پاکستانی سیاست میں کردار ادا کیے بغیر یہاں کی معیشت کو سنبھالا نہیں جا سکتا۔

عمران خان نے1997ء میں سات نشستوں سے انتخاب لڑا تھا، لیکن کسی ایک میں بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی۔ تحریک انصاف کی عمر اُس وقت ایک سال کے لگ بھگ تھی کہ عمران خان نے انتخابی اکھاڑے میں قدم رکھ دیا۔ اس وقت مَیں نے عمران سے استفسار کیا تھا کہ آپ نے سات نشستوں پر امیدوار بننے کا فیصلہ کیوں کیا ہے؟ ان کا ترت جواب تھا کہ بڑے بڑے لیڈروں کی نشستیں خالی تو نہیں چھوڑی جا سکتی تھیں۔ اس پر عرض کیا گیا تھا کہ بڑے لیڈروں کی محفوظ نشستوں پر عموماً ان کے مخالف توانائی ضائع کرنے سے گریز کرتے ہیں، اگر آپ کے پاس اس کی مقدار بہت زیادہ ہے تو پھر قومی اسمبلی کی ہر نشست سے کھڑا ہو جانا چاہئے تھا، باقی کیوں خالی چھوڑ دیں؟ وہ اس پر بھنّا کر رہ گئے تھے… لیکن اب حالات بہت بدل چکے ہیں۔ 1997ء کا انتخاب مسلم لیگ (ن) کے لیے خاص ہو چکا تھا، وہ دو تہائی اکثریت حاصل کر گزری۔ اب منظر تبدیل ہو چکا ہے۔ عمران خان کی جدوجہد کو دو عشروں سے زیادہ گزر چکے، کوئی جو بھی کہے ان کی استقامت کی داد دیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ انہوں نے ہمت نہیں ہاری، اپنے حریف اول کو انتخاب سے پہلے ہی ایوانِ اقتدار سے نکال باہر کیا۔ ایک بڑی سیاسی جماعت کے رہنما کے طور پر اکھاڑے میں موجود ہیں، اور وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر شدت سے نگاہیں لگا چکے ہیں۔

اقتدار و اختیار کے سارے مراکز 25 جولائی کو یوم انتخاب قرار دینے کا اعادہ کر رہے ہیں، اس کے باوجود وسوسوں اور اندیشوں کے تاجر بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کوئی گرمی کی دہائی دے رہا ہے، تو کوئی دہشت گردی کے خدشات میں مبتلا ہے۔ بے یقینی کی فضا پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتوں میں سے کسی نے بھی التوا کی حمایت نہیں کی کہ یہ خود کش دھماکہ ہو گا۔ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف میں زور کا جوڑ ہے، پیپلز پارٹی سندھ سے باہر نکلنے میں لگی ہوئی ہے، لیکن پیش قدمی کر نہیں پا رہی، تحریک انصاف اپنے منہ زوروں کی زد میں ہے۔ ریحام خان کی مبینہ کتاب کے قابلِ اعتراض حصوں کو انہوں نے اس طرح اچھالا ہے کہ ماحول گدلا سا گیا ہے۔ دفاع کے نام پر اپنے خلاف جارحیت کی اس سے بری مثال شاید ہی تلاش کی جا سکے۔ گھنائونے الزامات خود ہی پھیلا کر خود ہی ان کو جھٹلایا جا رہا ہے۔ سیاسی فضا کو ذاتیات سے آلودہ نہ ہونے دینا جہاں اہلِ سیاست اور میڈیا کی ذمہ داری ہے، وہاں الیکشن کمیشن اور نگران حکومتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے ابتری پھیلانے والوں پر بھی کڑی نظر رکھنا ضروری ہو گا۔ انتخاب کو کھیل کی طرح کھیلا جائے، اسے جنگِ عظیم بنانے والے جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں، اپنے ہاتھ جلا لیں گے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے جنرل (ر) پرویز مشرف کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان واپس آئیں۔ یقین دلایا گیا ہے اُنہیں گرفتار نہیںکیا جائے گا۔ انہیں کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔ گزشتہ عام انتخابات کے موقع پر پشاور ہائی کورٹ نے چترال کی ایک نشست پر انتخاب لڑنے کا ان کا ارادہ ناکام بنا دیا تھا۔ وہ تاحیات نااہل قرار پائے تھے۔ مختلف سیاسی حلقوں نے چیف جسٹس کے تازہ حکم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے جنرل موصوف کے خلاف متعدد مقدمات زیر سماعت ہیں، لیکن ابھی تک انہیں مجرم گردان کر سزا نہیں دی گئی۔ قانون کی نظر میں وہ ابھی تک ایک ملزم ہیں۔ انہیں پاکستان واپس آ کر مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے، اور ایک شہری کے طور پر ان کا انتخاب میں حصہ لینے کا حق بھی بحال ہونا چاہیے۔ تادمِ تحریر سیاست میں حصہ لینے کا شوق ان کو پورا کرنے کا حق ہے، اس پر کسی کو کسی تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔

پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ پروفیسر حسن عسکری رضوی کو آئین کے مطابق الیکشن کمیشن نے نامزد کیا، اور وہ اپنے عہدے کا حلف اٹھا چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے ان کی نامزدگی پر شدید احتجاج کیا ہے، کئی دوسری سیاسی جماعتیں بھی اس کی ہم نوا ہیں۔ نامور کالم نگار برادرم سلیم صافی نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ وہ ازخود اِس منصب سے دستبرداری اختیار کر لیں۔ لیکن حسن عسکری صاحب کا موقف ہے کہ اُن کی کارکردگی اُن کی غیر جانبداری ثابت کر دے گی۔ یہ درست ہے کہ حسن عسکری ایک میڈیا پرسن اور قلم کار کے طور پر قومی سیاسیات میں واضح موقف رکھتے ہیں، اور مسلم لیگ (ن) کے ناقد سمجھے جاتے ہیں، لیکن ان کی تقرری آئین میں درج طریق کار کے مطابق ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اُس نے اتفاق رائے سے میرٹ پر فیصلہ کیا ہے۔ جسٹس (ر) سائر علی، ایڈمرل ذکاء اللہ اور ایاز امیر کے مقابلے میں پروفیسر حسن عسکری کے انتخاب پر کمیشن کے تمام ارکان کو اطمینان ہے۔ بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر الیکشن کمیشن ہی نے علائوالدین مری کا انتخاب کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انہوں نے ایف اے کا امتحان تین کوششوں کے بعد پاس کیا۔ ان کے مقابلے میں اپوزیشن کی طرف سے سابق سپیکر اسلم بھوٹانی اور پاکستان کے مایہ ناز سفارت کار جہانگیر اشرف قاضی کے نام پیش کئے گئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ بھی (اپنے بقول) میرٹ پر کیا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں