ٹکٹوں کی تقسیم پر تحریک انصاف میں اختلافات شدت اختیار کر گئے


عام انتخابات 2018کے ٹکٹوں کی تقسیم کے تنازع تحریک انصاف کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں بھی پھیل گئے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں بھی اختلافات سامنے آنا شروع ہوگئے۔ تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے عام انتخابات کیلئے ٹکٹوں کی مبینہ غیرمنصفانہ تقسیم کیخلاف عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر شدید احتجاج کیا گیا۔ بنی گالہ میں عمران خان کی رہائشگاہ کے باہر تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان جمع ہوئے اور ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف شدید نعرے لگائے۔ کارکنان نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 54 سے سرور خان کو ٹکٹ دینے کی مخالفت کی اور کہا کہ انہیں سرور خان بطور امیدوار قبول نہیں۔ پی ٹی آئی کارکنان نے مطالبہ کیا کہ این اے 54 پر اجمل راجا کو پارٹی ٹکٹ دیا جائے۔

پاکستان تحریک انصاف نے شوکت یوسفزئی اور شہریار آفریدی سمیت متعدد امیدواروں کو میدان میں اتارنے کیلئے مزید ٹکٹ جاری کردئیے ہیں البتہ تحریک انصاف کا چہرہ سمجھے جانے والے سابق ایم این اے علی محمد خان کو ٹکٹ نہ مل سکا تاہم علی محمد خان نے ٹکٹ نہ ملنے پر پارلیمانی بورڈ کیخلاف اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان انہیں جانتے ہیں اگر فیصلہ پارلیمانی بورڈ نے کیا ہے تو پارٹی چیئرمین کو خود اس پر نظرثانی کرنی چاہیے کیونکہ پارلیمانی بورڈ کے حیران کن فیصلہ سے پارٹی کارکن انتہائی مایوس ہیں۔

دوسری جانب پشاورمیں بھی پارٹی ٹکٹ نہ ملنے والے امیدواروں اور پارٹی کارکنوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، پشاور میں ارباب نجیب خان خلیل کو قومی اور ارباب عثمان کو صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ نہ ملنے پر پارٹی کارکن سراپا احتجاج ہیں اور انہوں نے پارلیمانی بورڈ کا فیصلہ مسترد کیا ہے۔ جمعہ کے روز پارٹی ٹکٹ سے محروم رہنے والے تحریک انصاف کے سابق ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اور سابق ایم پی اے شوکت یوسفزئی کو پشاور کی بجائے شانگلہ کے صوبائی حلقہ کا ٹکٹ جاری کردیا گیا ہے اسی طرح کوہاٹ سے سابق ایم این اے شہریار آفریدی کو ٹکٹ جاری نہیں کیا گیا تھا جنہیں ہفتہ کے روز کوہاٹ کے قومی حلقہ سے میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا گیا اور پارلیمانی بورڈ نے انہیں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے35کا ٹکٹ جاری کردیا ۔

پاکستان تحریک انصاف نے فردوس عاشق اعوان کو باضابطہ ٹکٹ جاری کر دیا، فردوس عاشق اعوان سیالکوٹ کے حلقہ این اے 72 سے میدان میں اتریں گی۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے بہت مضبوط امیدوار میدان میں اتارے ہیں اور انتخابات میں ان پہلوانوں کا مقابلہ کرنا آسان نہیں ہو گا۔ تحریک انصاف کے مرکزی پارلیمانی بورڈ نے عام انتخابات کیلئے چار مزید امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیئے ہیں، پی ٹی آئی کی پریس ریلیز کے مطابق مرکزی پارلیمانی بورڈ کے ہفتہ کے روز اجلاس میں این اے 72 سیالکوٹ سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان ،کوہاٹ سے این اے35 کیلئے شہریار آفریدی ،شانگلہ سے صوبائی اسمبلی کی نشست کیلئے شوکت یوسفزئی جبکہ دیر سے صوبائی اسمبلی کیلئے حمیدہ شاہد کو بھی ٹکٹیں جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ این اے 59راولپنڈی سےکرنل (ر) اجمل صابر راجہ کو ٹکٹ نہ ملنے پر بنی گالہ میں عمران خان کی رہائشگاہ کےباہرپی ٹی آئی کارکنوں نےاحتجاج کیا، مظاہرین کے مطابق غلام سرور خان پنڈی میں پیدا ہوئے اور نہ ہی یہاں رہتے ہیں پی ٹی آئی کو چند لوگوں نے ہائی جیک کر دیا ہے۔

مردان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کارکنوں نے شکوہ کیا مردان کے صوبائی حلقہ پی کے 52اور 53میں ٹکٹوں کی تقسیم کے دوران نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کیا گیا، الیکشن 2018 کیلئے تحریک انصاف نے ضلع اوکاڑہ کے مختلف حلقوں میں نظریاتی اور پارٹی کیلئے جدوجہد کرنیوالے کارکنوں کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے، سب سے بڑا اپ سیٹ این اے 141 اوکاڑہ ون کی ٹکٹ پر ہو ا جس پر 2013 میں ضلع بھر میں واحد کامیاب ہو نیوالے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری مسعود شفقت ربیرہ کو نظر انداز کرتے ہوئے پیپلزپارٹی سے آنیوالے سابق وفاقی وزیر سید صمصام بخاری کو ٹکٹ دیدیا گیا جس پر کارکنوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا، این اے 141 کے عوام کے مطابق چوہدری مسعود شفقت ربیرہ، محمد اکرم بھٹی اور رائے حماد اسلم کھرل کا پینل ضلع میں پی ٹی آئی کا سب سے مضبوط پینل قرار دیا جاتا تھا ، پارٹی ٹکٹ چوہدری مسعود شفقت ربیرہ کو نہ دینے پر اس بار بھی پارٹی کے کئی ٹکٹ ہولڈر اپنی ضمانت نہیں بچا سکیں گے، چوہدری مسعود شفقت ربیرہ اور محمد اکرم بھٹی سمیت مضبوط امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر کارکن شدید احتجاج کررہے ہیں۔

تحریک انصاف نے موروثی سیاست پر گوجرانوالہ کے 3 خاندانوں کو نواز دیا ہے، سابق وزیر رانا نذیر میاں طارق فیملی کو 3,3، حامد ناصر چٹھہ کے بیٹے احمد چٹھہ کو 2 ٹکٹ جاری کئے گئے، پی ٹی آئی کے امتیاز صفدر کو ٹکٹ نہ مل سکا، ناصر چٹھہ این اے 79 اور پی پی 52 سے میدان میں اتریں گے، مسلم لیگ چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شمولیت کرنیوالے رانا نذیر این اے 83سے الیکشن لڑیں گے جبکہ پی پی 63 سے رانا عمر نذیر کو بھی گرین سگنل مل گیا۔ پی ٹی آئی کی سابق رہنما عائلہ ملک اور دیگر نے عمران خان کے مدمقابل الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ضلع ہنگو میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر شدید رد عمل سامنے آگیاہے اور بعض کارکنوں نے این اے 33 اور پی کے 83 کی ٹکٹوں کو دوبارہ پرانے امیدواروں کو دینے پر ناراضگی کا اظہار کیا، سوات میں بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر پارٹی میں بغاوت پھوٹ پڑی‘ نظریاتی رہنماؤں نے ڈویژنل صدر محمود خان اور سابق ایم این اے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر پارٹی تباہ کرنے کے الزامات لگا دیئے، نظریاتی کارکنوں نے انصاف ورکرز فورم کے پلیٹ فارم سے تمام حلقوں سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا، سابق ایم این اے سلیم الرحمٰن کو این اے 3اور سابق ایم پی اے ڈاکٹر امجد کو دو حلقوں کے ٹکٹ دینے پر بھی سوالات اٹھا دیئے ،پارٹی رہنماؤں سہیل سلطان ایڈووکیٹ‘ تحصیل کونسلر باز خان‘ ضلعی کونسلر محمد زیب خان‘ اقبال محمود‘ سردار عالم خان‘ انجینئر شوکت حیات اور ارشد خان نے پارٹی ٹکٹ ہولڈر سابق ایم این اے سلیم الرحمٰن کیخلاف کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں، اسی طرح سابق ایم پی اے فضل حکیم کو دوبارہ ٹکٹ ملنے کیخلاف تحصیل کونسلر باز خان‘ ضلعی کونسلر ضیاء اللہ عرف جانا‘ وسیم اکرم‘ نعمان اور فضل الرحمٰن نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ہیں۔ حلقہ پی کے 4 سے سابق ایم پی اے عزیز اللہ گران کو ٹکٹ ملنے کے خلاف فضل اکبر بابا‘ طاہر خان اور بخت عمر‘ سابق ایم پی اے ڈاکٹر امجدعلی کیخلاف حسین احمد‘ ڈاکٹر ضیاء اللہ اور انجینئر شرافت علی میدان میں آگئے ہیں۔ مراد سعید کے خلاف سعید خان ڈھیرئی نے این اے 4 اور ڈاکٹر امجدعلی کے خلاف پی کے 7 سے الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے، پی کے 7 کے پارٹی کارکنوں نے مرادسعید کے آبائی علاقے کبل میں سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا، کارکنوں نے پارٹی کے سینئر نائب صدر سعید خان کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے پر بھرپور ساتھ دینے کا اعلان کیا۔

دریں اثنا چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیر صدارت پارٹی کی میڈیا اسٹرٹیجی کمیٹی کے اجلاس میں ملک گیر انتخابی مہم کے میڈیا پلان پر مفصل غور اور ٹکٹوں کی تقسیم سے پیدا ہونیوالی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، پی ٹی آئی کی پریس ریلیز کے مطابق اجلاس میں ٹکٹوں سے محروم رہنے والوں کیلئے مرکزی، صوبائی اور ضلع کی سطح پر مصالحتی کمیٹیوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا جبکہ نوجوانوں، خواتین اور دیرینہ کارکنوں کو انتخابی میدان میں اتارنے پر پارلیمانی بورڈ کی کو خراج تحسین پیش اوراگلے مرحلے میں مزید مضبوط اور بہتر امیدوار میدان میں اتارنے پر اتفاق کیا گیا ،اجلاس میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کی نامزدگیوں پر ن لیگ کی صفوں میں اضطراب کا بھی جائزہ لیا گیا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں