فیشن شو میں خواتین کی جگہ ڈرونز کا استعمال


جدہ فیشن شو

Getty Images

تصور کریں کہ اگر فیشن شو میں ماڈلز کی جگہ ڈرونز کا استعمال کیا جانے لگے تو کیسا لگے گا؟

گذشتہ دنوں سعودی عرب کے معروف شہر جدہ میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔

جدہ میں منعقدہ ایک فیشن شو میں مختلف قسم کے ملبوسات کے لیے ماڈلز یا خواتین کی جگہ ڈرونز کا استعمال کیا گیا اور ڈرونز کے ذریعے ہی ملبوسات کی نمائش کی گئی۔

جدہ فیشن شو

BBC

لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ڈرونز کے ذریعے ملبوسات کی پیشکش پرکشش ہونے کے بجائے ڈراؤنی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب پہلے فیشن شو کے لیے تیار

سعودی عرب میں تفریحی صنعت کے لیے 64 ارب ڈالر مختص

جدہ فیشن شو

BBC

کمرے کے خلا میں ڈرونز کے ذریعے ادھر ادھر جھولتے یا گھومتے ملبوسات کا منظر کسی ‘ہارر فلم’ سے کم نہیں تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ کوئی غیر مرئی قوت ان کپڑوں کے ساتھ کمرے میں چکر لگا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

قطر میں پاکستانی خواتین اپنی جگہ بنا رہی ہیں

فیشن کے ذریعے سیکولرازم کا پیغام

جدہ فیشن شو

BBC

فیشن شو کے منتظمین میں سے ایک نبیل اکبر نے بی بی سی عربی کے ساتھ ایک انٹرویو میں بڑے فخر سے کہا کہ ‘کسی خلیجی ملک میں یہ اپنی قسم کا پہلا شو ہے۔’

یہ بھی پڑھیے

’ آج پھر جینے کی تمنا ہے‘

’کوئی کیوں طے کرے کہ آپ کون ہیں؟‘

جدہ فیشن شو

BBC

انھوں نے بتایا کہ اس کی تیاری میں دو ہفتے لگے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈرونز کے ذریعے انہی ملبوسات کو پیش کیا گیا جو رمضان کے محترم بالشان مہینے کے شایان شان ہو۔

سوشل میڈیا میں جہاں اس شو پر غصے کا اظہار کیا گیا وہیں اسے مذاق کا بھی نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

میلان فیشن شو میں سر ہاتھوں میں لیے ماڈل

جدہ فیشن شو

Twitter

چند لوگوں نے اس بات پر ناراضی ظاہر کی کہ سعودی عرب نے خواتین کو اتنا حق بھی نہیں دیا کہ وہ ان ملبوسات کے لیے ریمپ پر چل سکیں۔

جبکہ بعض دوسرے ملبوسات کی نمائش کے لیے ڈرونز کے استعمال پر ہنستے اور اس کی نقل یا میم کرتے نظر آئے۔

https://twitter.com/MowatinTafran/status/1004667761635745792?ref_src=twsrc%5Etfw&ref_url=https%3A%2F%2Fwww.washingtonpost.com%2Fnews%2Fworldviews%2Fwp%2F2018%2F06%2F07%2Fa-saudi-fashion-show-skipped-the-models-and-showed-dresses-using-drones%2F

ایک صارف ویلری نے لکھا: ‘سعودی عرب، جہاں ڈرونز کو خواتین سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔’

جبکہ جینا نے لکھا: ‘میں سعودی عرب میں منعقدہ شو میں جانا چاہتی ہوں۔ وہاں ماڈلز تھیں ہی نہیں۔’

خیال رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں عرب فیشن کونسل کے زیرِ اہتمام ایک فیشن شو 26 مارچ سے 31 مارچ تک منعقد کیا گیا جس میں ماڈلز نے شرکت کی تھی۔

جدہ فیشن شو

Twitter

سعودی عرب میں خواتین کے لباس کے تعلق سے کئی قسم کی پابندیاں ہیں۔ یہاں کے قانون کے مطابق عام مقامات پر خواتین کے لیے حجاب یا عبایہ پہننا ضروری ہے۔

خیال رہے کہ جدہ سعودی عرب کے ان شہروں میں سے ایک ہے جہاں خواتین نسبتا زیادہ آزاد کہی جاتی ہیں۔

سعودی خاتون

Getty Images

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے دور میں یہاں کے معاشرے میں بہت سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

گذشتہ دنوں سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی بار شہر جدہ میں خواتین شائقین کو سٹیڈیم میں جا کر مردوں کے فٹبال میچز دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

اور اس کی تازہ مثال خواتین کو ڈرائیونگ کا حق ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4898 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp