توثیق حیدر بچپن کا سفیر


جب تک ہم بچے رہتے ہیں، بہت خود مختار اور آزاد ہوتے ہیں۔ خیالوں میں ہی کئی جہاں بنا ڈالتے ہیں۔ کبھی صبح اٹھتے، سکول جاتے ہوئے، سردی میں خوشگوار حرارت سے بھرپور دھوپ سے ڈھکے رستے میں۔ اور کبھی سونے سے پہلے پنکھے کی ہوا ایسے ہی لگتی ہے جیسے اُڑتے ہوئے فضا آپکے مقابل مصروفِ مزاحمت ہو۔ ایسے ہی کسی لمحے میں میں نے اپنے ذہن میں ہی ایک دنیا بنا لی جو کہ بادلوں کے اوپر آباد تھی۔ جب بھی مطلع ابر آلود ہوتا، حسرت بھری نگاہیں کالی گھٹاوں میں گڑی رہتیں، کہ شاید جن پریوں کے بارے میں دادی اماں نے بتایا تھا وہ آئے۔ کاش کوئی بیچ اوپر سے گرے اور ایک درخت اگ کر بادلوں تک پہنچے جس کی مدد سے میں اپنے جہانِ تخیل تک پہنچ سکوں۔ اور دیکھ سکوں کہ وہ دنیا کیسی دنیا ہے۔

ایسی ہی ایک صبح جب جاگا تو میرے ہر ارمان کو ایک ترجمانی سی مل چکی تھی۔ دو بچے اپنے لکڑی کے گھر سے باہر نکلے۔ گھر کے ایک طرف ایک فلک شگاف درخت ہے جس کے ساتھ ایک سیڑھی بھی موجود ہے۔ اور اس سیڑھی کی مدد سے دونوں بچے، اور ایک ان کا بونا ملازم بادلوں کے اوپر پہنچ گئے۔ اور پھر روز ہی ایسا ہوتا۔ اور مجھے روز اپنے خیالوں کی عکاسی ٹو-ڈی کارٹونز کی صورت میں مل جاتی۔

یہ تھا توثیق حیدر کا مارننگ شو۔ جس کا نام تو مجھے یاد نہیں، مگر آج بھی، اس وقت اس تحریر کے دوران وہ احساس مکمل طور پر ترو تازہ ہے۔ اپنی زندگی کا پہلا مارننگ شو بھی وہی تھا، اور جس میڈیا پرسن سے سب سے پہلے واقفیت ہوئی وہ بھی توثیق حیدر ہی تھے۔ جس کا آغاز السلام علیکم اور اللہ اور اسکے رسول صلى الله عليه وسلم کے ذکر سے ہوتا تھا۔ اور پھر فوری بچوں کا وقت ہوتا (برعکس آج کل کے مارننگ شوز کے جنہیں بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنا نہ تو دین اجازت دیتا ہے اور نہ ہی نابالغوں کے حقوق)۔ اس میں تین کارٹون سیریز دکھائی گئیں۔ جو واقعی بچوں کے دیکھنے کے لیے مناسب تھیں۔ مگر بڑوں کے لیے بھی خاصی دلچسپ تھیں۔

بچپن کے اہم عناصر میں سن 2005 کا زلزلہ بھی شامل تھا۔ پاکستان کی تاریخ کا دوسرا بڑا حادثہ جس نے شہر کے شہر اجاڑ دیے۔ میڈیا نے مہینوں تک زلزلے کے اثرات اور معاملات کو کوریج دی۔ مگر ایک تصویر جو آج تک یاد ہے، اور وہ لوگ جو تمام معاملات میں پیش پیش رہے، جنہوں نے گھر گھر جا کر متاثرین کے بحالی کے لیے فنڈ اکٹھے کیے ان میں بھی توثیق حیدر پیش پیش رہے۔

اور لہجہ اور انداز وہ ہے کہ آج بھی دل چاہتا ہے کہ ان جیسے بن سکیں۔ بر عکس آج کل کے رنگیلے ست رنگی اینکرز اور ٹی وی میزبانوں سے جن کو دیکھنے کا واحد مقصد ٹرالنگ اور میمز بنانا ہوتا ہے۔ توثیق حیدر آج کل منظر عام سے غائب رہتے ہیں۔ مگر توثیق حیدر اور وہ نشریات جن کا وہ حصہ تھے، ان عناصر میں شامل ہیں جن سے آئیندہ نسل شائد کبھی بھی مفید نہ ہو سکے۔

بڑی دیر منظرعام سے غائب رہنے کے بعد کچھ دن پہلے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں حاضر ہوئے۔ تو یہ دیکھ کر بہت حیرانگی ہوئے کہ وہ شخصیت شوبز کی شوخ و چنچل دیوی سے دور ہونے کہ باوجود آج بھی ویسے ہی ہشاش بشاش ہے۔ جس کی وجہ انکے مطابق یہ تھی کہ آج کل انہوں نے درختوں سے دوستی کر لی ہے۔ وہ درخت اگاتے ہیں۔ اور درختوں سے ہی باتیں کرتے ہیں۔ اور میرے خیال سے اس حوالے سے بھی توثیق حیدر جیسے لوگ بہت کم ہیں جو درختوں کو فیس بک پوسٹس سے زیادہ بھی کچھ اہمیت دیتے ہیں۔

یہاں اس بات کا بھی ذکر کرنا ضروری سمجھوں گا کہ توثیق حیدر اور مزید بہت سی خوبصورت یادوں جن میں عینک والا جن وغیرہ بھی شامل ہیں، کا ماخذ “مرحوم قومی چینل پی-ٹی-وی” ہی ہے۔ اور میں پی-ٹی-وی اور توثیق حیدر کا ہمیشہ مشکور رہوں گا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عبدالرحمان قدیر کی دیگر تحریریں
عبدالرحمان قدیر کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں