مس امریکا کے مقابلے میں زیر جامہ پہننا ممنوع


’می ٹُو‘ کا نتیجہ: مس امریکا کے مقابلے میں زیر جامہ پہننا ممنوع

جنسی استحصال کے خلاف شروع کی جانے والی می ٹُو تحریک کو آٹھ ماہ ہو گئے ہیں۔ اس تحریک کو اب عالمی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

مس امریکا کے مقابلہ حسن کو بھی جنسی استحصال کے خلاف تحریک می ٹُو کی شدت کا سامنا ہے اور اس کے بعض ضوابط کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

منتظمین نے اس تحریک کے تناظر میں امریکا کی حسین ترین خاتون کے انتخاب کے سالانہ مقابلے میں شریک خواتین کے لیے زیر جامہ اور شام کے مہین گاؤن پہننے کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔

خواتین کے حقوق کی کئی تنظیمیں ملکہ حسن کے انتخاب میں ایسے پہناوے زیب تن کرنے کو خواتین کے جنسی استحصال کے زمرے میں شمار کرتی ہیں۔ سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں منعقد کیے جانے والے مقابلہٴ ہائے حسن میں صنفِ نازک کے خلاف مردوں میں پائے جانے ایک مخصوص حاسدانہ رویے کو ضابطے کی شکل دی جا چکی ہے۔

’می ٹُو‘ کا نتیجہ: مس امریکا کے مقابلے میں زیر جامہ پہننا ممنوع

رواں ہفتے کے دوران امریکی مقابلہٴ حسن کے انتظامی ادارے کی سربراہ گریٹشن کارلسن کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ اب مس امریکا کے سالانہ مقابلوں کے ضوابط میں بنیادی تبدیلیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں اور شریک خواتین کی طرف سے جسمانی نمائش سے اجتناب کیا جائے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں