ماں کے جنازے کا حساب


 

امی کی میت آغاخان اسپتال کے برف خانے میں رکھی ہوئی تھی۔ برف کی طرح ٹھنڈی، جذبات خواہشات تضادات سے مبرّا، پیار سے بھری ہوئی آنکھیں بند تھیں۔ چوڑی پیشانی پر پڑی ہوئی شکنیں کہیں کھو گئی تھیں۔ مسکراتے ہوئے ہونٹوں سے ان کے سامنے کے دو چمکتے ہوئے دانت نظر آرہے تھے اورہمیشہ منور رہنے والا چہرہ نور سے خالی تھا مگر چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔ میں نے لمحے کے لئے بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس طرح سے یکایک مجھے چھوڑ کر چلی جائیں گی۔ ایسا لگا تھا جیسے دھوپ بھری دوپہر میں یکایک کسی نے سر سے سایہ چھین لیا ہو۔ ماں مر جائے تو ایسا ہی محسوس ہوتا ہے مجھے پہلی دفعہ یہ احساس ہوا تھا۔

لوگوں کے فون آرہے تھے، دوست احباب، رشتہ دار، پڑوس، جاننے والے اور جاننے والوں کے جاننے والے۔ لوگوں کے محبت بھرے جذبوں سے بھرپور احساسات اور خواہشات کے باوجود میں اکیلی پریشانیوں سے مقابلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ دکھ اور غم جیسے میرے پورے جسم میں سرایت کر گیا تھا، یاس کی ایک کہر تھی جس میں ڈوبتی جا رہی تھی کہ اس صبح وہ پانچ خواتین گھر آگئیں۔

سب نے کالے برقع پہنے ہوئے اور کس کر اپنے چہرے کو چھپایا ہوا تھا۔ چوکیدار نے گیٹ کھولا اور وہ پانچوں کی پانچوں تیز تیز چلتی ہوئی لان کو پھلانگتی دروازے کو دھکا دے کر میرے سامنے آ گئیں، میں ابھی انہیں پہچاننے کی کوشش ہی کر رہی تھی کہ ان میں سے ایک نے زمین پر بچھی ہوئی دری پر رکھے گئے چنوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

اس بدعت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

میری کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔

ہوا یہ تھا کہ چھ دن انٹیسو کیئر میں رہنے کے بعد امی کی موت واقع ہوگئی پاکستان میں، میں اکیلی امی کے ساتھ رہتی تھی۔ ہم دونوں ماں بیٹی زندگی کے اس مرحلے پر زندگی کا صحیح معنوں میں لطف اٹھا رہے تھے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہاں کی زندگی کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ نہ نوکرچاکر کی کمی تھی اور نہ ہی مہنگائی ایسی کہ دانتوں تلے پسینہ آجائے۔ جو میرے وسائل تھے وہ یہاں کے لحاظ سے بہت زیادہ تھے۔ امریکہ میں یہ رقم تو ایک شہر سے دوسرے شہر کا ٹکٹ لینے میں ختم ہو جاتی۔

دوسری بات یہ تھی کہ کراچی میں وقت کی کمی نہیں تھی جس سے چاہو جتنی دیر بات چیت کرلو۔ جب چاہو بغیر فون کئے ہوئے کسی عزیز رشتہ دار، دوست کے گھر چلے جاﺅ، مل گئے تو بھی ٹھیک، نہ ملے تو بھی کوئی شکایت نہیں۔ خراب حالات ہونے کے باوجود کراچی ابھی بھی شہر ایسا تھا کہ میں نے کبھی یہاں سے باہر جانے کا سوچا تک نہیں تھا۔ امریکہ میں تو بلی کتوں کے پاس بھی وقت نہیں ہے۔ میرا ایک بھائی واشنگٹن شیاٹل میں تھا جبکہ چھوٹا منصور سڈنی آسٹریلیا میں کام کررہا تھا۔ دونوں بہنیں کینیڈا میں ہنسی خوشی رہ رہی تھیں۔

 آٹھ سال پہلے امجد آفس سے واپس آئے اور رات کا کھانا کھا کر ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ دل کا جان لیوا دورہ پڑا اور اسپتال پہنچنے سے پہلے پہلے انہوں نے جان دے دی۔ سلیم میرا بیٹا ایک ماہ کے بعد امریکہ جانے والا تھا اس نے کہا بھی کہ وہ امریکہ نہیں جائے گا اور پاکستان میں ہی پوسٹ گریجویشن کرے گا کہ میں اکیلی رہ جاﺅں گی مگر میں نے سختی سے منع کردیا اس کی تو پوری زندگی تھی۔ ہم دونوں کی خواہش تھی کہ وہ امریکہ جائے اور اپنی تعلیم مکمل کرے۔ بڑا ڈاکٹر بنے جو کچھ اس نے اپنی زندگی کا پلان بنایا تھا اسے مکمل کرے۔ سرجری کا اسے شوق تھا اور امریکہ میں اسے سرجری میں تربیتی پروگرام میں کام بھی مل گیا تھا اس چھ سال کے عرصے میں وہ کئی دفعہ یہاں آیا اور میں بھی امریکہ جاتی رہی تھی۔

امریکہ کینیڈا اور آسٹریلیا کا دورہ ہوتا رہتا تھا۔ سارے بھائی بہنوں سے ملاقات ہو ہی جاتی تھی۔ امجد کچھ اس طرح کے انتظامات کر گئے تھے کہ ایک خطیر رقم ہر ماہ ملتی تھی جو ہم ماں بیٹی کے لئے ضرورت سے زیادہ تھی۔ اب تو سلیم کی بھی سرجری میں تعلیم و تربیت مکمل ہوگئی تھی اور اس نے واپس آنے کا پروگرام بنا لیا تھا۔ امریکہ میں اسے کئی اچھی نوکریوں کی پیشکش کی گئی تھیں مگر اسے بھی میری طرح پاکستان سے جنون کی حد تک پیار تھا اور وہ بھی کراچی کے علاوہ کسی بھی شہر میں رہنے کا خواہشمند نہیں تھا۔

نہ جانے کیوں میں اور امجد کبھی بھی پاکستان سے باہر نہیں جانا چاہتے تھے۔ امجد کے بھائی اور بہن کیلیفورنیا میں رہتے تھے بہت دنوں تک وہ امجد کو کہتے رہے کہ وہ بھی امریکہ چلے آئیں مگر ہم دونوں کا یہی فیصلہ تھا کہ پاکستان سے باہر نہیں جانا ہے حالات خراب ضرور تھے مگر ایسے بھی نہیں کہ ملک چھوڑ دیا جائے۔

 پھر دیکھتے دیکھتے امی کے سارے بچے ملک سے چلے گئے۔ جو جہاں منتقل ہوتا گیا یہی فرمائش کرتا رہا کہ باجی آجائیں پاکستان میں کیا رکھا ہے کچھ بھی تو نہیں ہے نہ قانون ہے، نہ پانی ہے نہ بجلی ہے، نہ پولیس ہے، نہ حفاظت ہے۔ صبح نکلو تو شام واپسی کی امید نہیں ہوتی، روز روز کے جھگڑے،سنی شیعہ کا جھگڑا، سندھی مہاجر کا جھگڑا، مہاجر پٹھان کا جھگڑا۔ سکون تو ہے ہی نہیں۔ راہ چلتے گولی مار دیتے ہیں، لاشیں بوریوں میں ملتی ہیں کیا فائدہ اس ملک میں رہنے کا۔

مگر مجھے اور امجد دونوں کو کراچی اچھا لگتا تھا۔ تمام تر خرابیوں کے باوجود یہاں کی صبح حسین تھی، یہاں کی شام رنگین تھی سمندر ویسا ہی تھا جیسے بچپن میں تھا۔ رات کے وقت ہم لوگ گھنٹوں ساحلِ سمندر پر ٹہلتے رہتے تھے۔ شہر میں ابھی بھی پرانی کتابوں کے ڈھیر سے پسند کی کتاب خرید لیتے تھے۔ بندر روڈ پر مندر میں جا کر سبزی بھی کھاتے اور برنس روڈ پر چٹخارے لے لے کر مجید کبابئے کے کباب اور نہاری سے فیض یاب ہوتے۔ کراچی ابھی بھی رنگین تھا۔ ملک چھوڑنے کا ہم نے کبھی بھی سوچا نہیں تھا۔

باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں