جے ڈاٹ کی ہیڈ لیس (Headless) عورتیں


جے ڈاٹ جیت گیا۔ ان کے ایڈورٹائزنگ ہورڈنگز نے ہم جیسے شریف لوگوں کے دل موہ لیے ہیں۔ ان ہورڈنگز کے اوپر آپ کو آئیڈیل عورت نظر آتی ہے۔ صحیح معنوں میں وہ عورت جو کہ ہمارے جیسے غیرت مند اور جنسی طاقت کے گھمنڈ سے مالامال مردوں کے معاشرے کا نشان ہے۔ یعنی گردن سے پاؤں تک تو بہت ہی پرکشش ہو لیکن اس کا سر (دماغ) نہ ہو۔ یہی ایک آئیڈیل عورت کا نمونہ ہو سکتا ہے۔ جے ڈاٹ کی ذہانت، عظمت، غیرت اور منافع خوری کا کمال ہے کہ وہ اسی نیک عورت کا امیج پروموٹ کر رہے ہیں جو ہمارے معاشرے کو بگاڑنے کی شیطانی طاقت سے مکمل طور پر عاری ہے اور ہم مردوں کے لیے ایک نعمت کا درجہ رکھتی ہے۔

ہمارا سارا معاشرہ بچیوں کو ایسی ہی ہیڈلیس عورتیں بنانے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے۔ ہم نے اپنی بچیوں کو ہیڈلیس عورتیں بنانے کی مہارت حاصل کر لی ہوئی ہے۔ ایسی عورتیں جن کا دماغ کبھی استعمال نہ ہوا ہو، وہ کبھی کوئی سوال نہ کر سکیں، ہمارے کسی حکم یا فیصلے کو چیلنج نہ کر سکیں، جس کھونٹے کے ساتھ ہم باندھ دیں اسی کو اپنا نصیب سمجھیں تاکہ ہم ایک غیرت مند قوم کا اپنا امیج برقرار رکھ سکیں۔ عورت کا ایسا زبردست ماڈل پروموٹ کرنے کا سہرہ ہونا بھی تو جے ڈاٹ ہی سر چاہیے تھا۔ یہی تو وہ خواتین ہوں گی جو آپ سے ڈرئیونگ لائسنس کا مطالبہ نہیں کریں گی اور آپ کی زندگی سکھی رہے گی۔

خواتین کو ہیڈلیس بنانے کے ہمارے معاشرے پر بڑے اچھے اور گہرے اثرات ہیں۔ ہماری بہت سی خوشیاں اور فخر اسی بات سے جڑے ہوئے ہیں کہ خواتیں سوچنے کی قوت نہ رکھتی ہوں۔ ہم نے عورتوں کو جو عزت اور اعلی مقام دے رکھا ہے اسی کا ثمر ہے کہ پچھلی دو مردم شماری کے درمیان میں ہماری آبادی پہلے سے پانچ کروڑ بڑھ گئی اور ہم 16 کروڑ سے 21 کروڑ ہو گئے۔ اسی میں بڑے بڑے راز چھپے ہیں۔ پہلے آپ عورت کو ہیڈلیس بنائیں گے تبھی آپ اسے ساری زندگی فیملی پلاننگ جیسی لعنت سے دور رکھ سکتے ہیں۔ اور اگر وہ خاندانی منصوبہ بندی جیسی لعنت سے دور رہے گی تبھی تو پندرہ سے 45 برس کی عمر کے درمیان دس سے 15 مرتبہ حاملہ ہو گی۔ اور اگر ایک عورت اپنی زندگی کے ان اہم ترین سالوں میں مسلسل خطرناک زچگی کی زد میں رہے گی، آٹھ سے دس بچے پالے گی، اور چند ایک بچوں کو ان کی پانچویں سالگرہ سے پہلے دفنائے گی تو اس کے پاس اپنے بارے میں کوئی خواہش رکھنا تو درکنار سوچنے کے لیے بھی وقت ہو گا نہ ہمت۔ سوال اٹھانے کے قابل ہونا تو خیر بہت دور کی بات ہے۔ اسی سے ہمارے معاشرے کا مشرقی تشخص برقرار رہے گا۔ اور یورپ کی طرح ہمارا خاندانی نظام تباہ و برباد نہیں ہو جائے گا۔ “کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے” پرانا ہوا، اب تو ہم کچھ کھونے کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ ہیڈلیس عورت یہ قربانی آسانی سے دے دیتی ہے۔ جو اس قربانی پر سوال اٹھاتی ہے اس کا مطلب ہے اس کی پرورش میں کچھ کمی رہ گئی ہے۔ اس کا سر اتار دیا جاتا ہے۔ آخر معاشرے کا مشرقی تشخص برقرار رکھنے کے قربانی تو درکار ہو گی، ایسے نہیں تو ویسے ہی سہی۔

ہیڈلیس ہو گی تو ہی ہم اس حقیقت پر فخر کر پائیں گے کہ “ہمارے گھر کی عورتوں کو تو محلے کی پچھلی گلی چھوڑ آؤ تو بھی واپس گھر کا راستہ نہیں ڈھونڈ پائیں گی”۔ جہالت پر فخر کرنے کے لیے پاکستانی مرد ہونا ضروری تو نہیں لیکن کافی ہے۔

جی ہاں عورت جس کے کندھوں پر سر رکھا گیا ہو وہ بسا اوقات بے چارے مردوں کے لیے مسئلے کھڑے کرتی رہتی ہے اور معاشرے کے لیے بگاڑ کا باعث بنتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہت سارے مسائل اس لیے ہیں کہ کچھ عورتوں کو یہ احساس ہو گیا ہے کہ ان کے کندھوں پر سر رکھا گیا ہے اور وہ اس کا استعمال شروع کر دیتی ہیں۔ اس سے ان کے آس پاس مردوں کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر کام کی جگہ پر ایسی ہی عورتیں اچھی لگتی ہیں جو اپنے سر یعنی دماغوں کا استعمال نہ کریں۔

کچھ عورتوں نے اپنے دماغوں کا استعمال شروع کیا تو جنسی ہراسانی جیسے نئے نئے الفاظ ایجاد ہو گئے جن کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ صرف نقصان ہی نقصان ہے۔ آپ کو معلوم ہی ہو گا کہ بے چارے مردوں کے لیے کتنے مسائل پیدا ہو گئے۔ عورتوں کا دفتروں میں وجود کسی فائدے کی بجائے الٹا مصیبت بن گیا۔ عورتوں کے کام کی جگہ پر ہونے سے جو تھوڑی دل لگی وغیرہ ہو جاتی تھی اور دفتر میں دل لگا رہتا تھا وہ بھی جاتا رہا۔ اب تو کسی خاتون رفیق کار سے ہلکے سے گھسٹ جاؤ یا مذاق میں ہلکی سی چٹکی کاٹ دو تو بہت پرابلم ہو سکتا ہے۔ جنسی ہراسانی کے خلاف کمیٹی ہوتی ہے جو شکایات وصول کرتی ہے اور وہ خاتون وھاں سے بھی مطمئن نہ ہو تو صوبائی اور وفاقی محتسب بھی بنا دیے گئے ہیں جن کا کام ہی صرف یہی ہے کہ بے چارے مردوں کو ہلکی سی دل لگی پر بھی پکڑ لو۔ اور تو ساری دنیا میں ان دماغ والی عورتوں نے می ٹو جیسا ٹرینڈ چلا کر ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ بڑے بڑے مرد اس کا نشانہ بنے اور انہوں نے اگر چند درجن عورتوں کو کام دینے سے پہلے ان سے ایک قدرتی سی فیور مانگ ہی لی تھی تو اس میں کیا حرج تھی۔ اس سے ان عورتوں کا کیا نقصان ہو گیا تھا۔ ایک اور بات یہ ہے کہ اگر آپ بنی ٹھنی خوب صورت عورت سے ایک اتنی سی فیور نہ مانگ سکتے ہوں تو پھر ایک مرد کو بڑے بڑے عہدے حاصل کرنے کا فائدہ کیا ہوا۔ بھاڑ میں جائیں یہ عہدے، پیسے اور طاقت۔

یہ سر والی عورتیں بھائیوں کے لیے بھی مصیبت کا باعث بنتی ہیں۔ جائیداد سے حق مانگ لیتی ہیں۔ حالانکہ والدین سے جہیز بھی لیا ہوتا ہے جس میں زمین، مکان، دکان اور کاروبار کے علاوہ سبھی کچھ تو ہوتا ہے۔ لیکن ان باتوں کی قدر تو ایک ہیڈلیس اور نیک عورت کو ہی ہو سکتی ہے۔

عورتوں کے ہیڈلیس ہونے کے سارے فائدے گنوانا مشکل ہے۔ جے ڈاٹ کا شکریہ کہ وہ عورت کا وہی امیج پروموٹ کر رہے ہیں جس میں سب کا فائدہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 177 posts and counting.See all posts by salim-malik