مسلمانوں کی بے راہ روی اور یورپ


mujahid ali چیک ری پبلک کے تارکین وطن مخالف صدر میلوس زمان نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو یورپ میں آباد کرنا اور ان معاشروں کا حصہ بنانا ممکن نہیں ہے۔ انہیں اپنے ملکوں میں رہتے ہوئے اپنی ثقافت اور تہذیب کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہئے۔ اسی طرح نئے سال کے موقع پر کولون اور دیگر یورپی شہروں میں پیش آنے والے واقعات سے بچا جا سکتا ہے۔ نئے سال کے موقع پر یورپ کے متعدد شہروں میں مسلمان مہاجرین کے جتھوں نے خواتین کو بڑی تعداد میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ جرمنی کے شہر کولون میں اس قسم کے 500 سے زائد واقعات کی شکایات درج کروائی گئی ہیں۔ 13 نومبر کو پیرس میں داعش کے حملوں کے بعد یورپ بھر میں مسلمان مہاجرین کے خلاف آواز بلند کی جا رہی ہے۔ کولون میں سال نو کی تقریبات کے موقع پر مسلمان مہاجرین نے جس وحشت اور درندگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی روشنی میں یہ بحث مزید سنگین ہو گئی ہے۔ صدر میلوس زمان اگرچہ صرف ایک کروڑ کی آبادی کے ملک کے سربراہ ہیں اور یورپ میں تارکین وطن کی صورت حال اور مسلمانوں کے بارے میں کسی طرح بھی اتھارٹی نہیں ہیں لیکن ان کی باتوں کو صرف یہ کہہ کر نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ ایک انتہا پسند شخص نے کہی ہیں۔

اتوار کے روز ہی پوپ فرانسس نے 5 ہزار تارکین وطن کو سینٹ پیٹرز برگ میں مدعو کیا اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اس سے قبل اگست میں جب شام کے پناہ گزین بڑی تعداد میں یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے، تب بھی پوپ فرانسس نے تمام عیسائی گھرانوں کو مہاجرین کے لئے اپنے دروازے کھولنے کا مشورہ دیا تھا۔ کل تارکین وطن سے خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسس نے کہا کہ “عزیز پناہ گزینو آپ میں سے ہر کسی کی اپنی ہی کہانی ہے۔ اور آپ قیمتی ثقافتی ورثے اور اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ہمارے عہد کی بدنصیبی ہے کہ آپ لوگوں کو مصائب، استحصال اور خوف کی صورتحال کا سامنا ہے۔“ پوپ فرانسس نے آج ایک خطاب میں یورپی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ احتیاج اور جنگ سے فرار ہونے والے پناہ گزینوں کی امداد کا سلسلہ جاری رکھیں۔

یورپ کے دو لیڈوں کے یہ متضاد بیانات اس براعظم میں پائے جانے والے دو رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگرچہ بہت بڑی تعداد میں لوگ جنگ زدہ علاقوں سے ہجرت کرنے والے لوگوں کی مدد کرنے پر آمادہ ہیں لیکن دنیا میں اسلامی دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے اور یورپ میں ہونے والے حملے رائے عامہ پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ پیرس میں ہونے والے حملوں میں اگرچہ صرف 130 افراد ہلاک ہوئے لیکن ان حملوں نے پورے براعظم میں خوف کی ایک فضا پیدا کر دی اور یہ تاثر عام ہونے لگا ہے گویا شام یا دیگر ملکوں سے آنے والے تمام پناہ گزین خود کش حملہ آور یا دولت اسلامیہ کے بھیجے ہوئے دہشت گرد ہیں۔ سستی مقبولیت کے خواہاں سیاسی لیڈروں نے اس صورتحال کو بھیانک انداز میں پیش کر کے عام لوگوں کے جذبہ خیر سگالی کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں اگرچہ پوپ فرانسس جیسی مثبت اور طاقتور آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں لیکن شمالی یورپ سے لے کر جنوب اور مشرق تک عام طور سے پناہ گزینوں اور خاص طور سے مسلمان پناہ گزینوں کے خلاف رائے عامہ زیادہ مضبوط ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے مین اسٹریم کے سیاسی لیڈر بھی جو عام طور سے اعتدال اور بھائی چارے کی بات کرتے ہیں، اس تبدیل ہوتی ہوئی رائے عامہ کا ساتھ دینے پر مجبور ہیں۔

ان حالات کا اثر براعظم یورپ میں کئی نسلوں سے آباد مسلمانوں پر بھی مرتب ہو رہا ہے۔ اس وقت یورپ میں مسلمانوں کی تعداد ساڑھے چار کروڑ کے قریب ہے۔ ان کی بڑی تعداد فرانس ، جرمنی ، برطانیہ اور اٹلی جیسے ملکوں میں آباد ہے۔ یورپ کے کم و بیش ہر ملک میں مسلمان آبادیاں موجود ہیں جنہوں نے اپنے مراکز اور مساجد بھی قائم کی ہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض لوگ تو تین یا چار نسلوں سے یورپ میں آباد ہیں لیکن ان کے بارے میں عام طور سے یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ وہ مقامی ثقافت ، اقدار اور اصولوں کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ تاثر عام ہونے کی ایک وجہ تو یورپی ملکوں کے اقتصادی مسائل ہیں جن کی وجہ سے وہاں پہلے سے سماجی بے چینی موجود ہوتی ہے۔ اس صورت حال میں پاپولسٹ سیاستدان نئے گروہوں کو ان مسائل کا ذمہ دار قرار دے کر نفرت ، تعصب اور امتیازی رویوں کو عام کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ مثلاً یونان اور اسپین میں یہ صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔ ان ملکوں میں گزشتہ تین دہائیوں کی غلط معاشی پالسیوں اور سماجی سہولتوں کے لئے کثیر قرضے لینے کی وجہ سے شدید اقتصادی بحران سامنے آئے ہیں۔ لوگوں کے کاروبار تباہ ہو گئے اور بے روزگاری میں تباہ کن حد تک اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور سے نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

اس صورتحال کو متفقہ سیاسی اقدامات سے حل کرنے کی بجائے عوام کے غم و غصہ کا رخ تارکین وطن، اسلام یا مسلمانوں کے خلاف موڑنا آسان ہو جاتا ہے۔ یونان میں تارکین وطن پر نوجوان گروہوں کے حملوں کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ چیک ری پبلک بھی یورپ کے بدحال ملکوں میں شامل ہے۔ اگرچہ ایک کروڑ سے کچھ زائد آبادی کا یہ ملک یورپین یونین اور نیٹو کا ممبر بن چکا ہے لیکن ابھی تک سب لوگوں کے لئے روزگار اور سماجی سہولتوں کا مناسب انتظام ممکن نہیں ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ترکی اور یونان کے راستے پناہ گزینوں کا ریلا گزشتہ موسم خزاں میں یورپ کی طرف روانہ ہوا تو یہ ملک بھی ان کے راستے میں آیا- شام یا دیگر ملکوں سے پناہ کے لئے یورپ آنے والے لوگوں کی اکثریت اگرچہ مغربی یورپ کے ملکوں جرمنی ، سویڈن ، فرانس یا ڈنمارک و ناروے وغیرہ میں آباد ہونا چاہتی ہے لیکن یورپین یونین نے جن ایک لاکھ 60 ہزار پناہ گزینوں کو قبول کرنے کا اعلان کیا ہے، یورپ کے ہر ملک کو ایک خاص قاعدے کے تحت ان میں سے اپنے حصے کی تعداد کو قبول کرنا پڑے گا۔ میلوس زمان جیسے سیاسی لیڈر اسی ذمہ داری سے گریز کے لئے عوام کو مشتعل کرنے اور پناہ گزینوں کا راستہ بند کرنے کے لئے مقبول عام بیان دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

تاہم اس تصویر کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا یورپی سیاسی لیڈروں کی کوتاہی اور سستی شہرت حاصل کرنے کی کوششوں کا ذکر ضروری ہے۔ اس پہلو کا تعلق براعظم یورپ میں آباد مسلمان تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے رویے اور طرز عمل سے ہے۔ یورپ کے بیشتر ملکوں میں کثیر تعداد میں اسلامی مراکز اور مساجد قائم کی گئی ہیں لیکن یہ ادارے سماجی ضرورتوں اور سیاسی حالات و واقعات کو سمجھنے اور ان پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔ یورپ میں جب بھی اسلام، دہشت گردی یا مسلمانوں کے سماجی رویوں کے حوالے سے بحث ہوتی ہے تو عام طور سے یہ ادارے اس بحث کا حصہ نہیں ہوتے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ان اداروں کے منتظمین اور وہاں پر مقرر مذہبی لیڈروں اور اماموں کو مقامی زبان سے شناسائی نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ میزبان معاشروں کے مزاج ، تہذیب اور سیاسی ڈھانچہ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ناروے کے ایک جنوبی شہر میں قائم ایک مسجد کے امام نے حال ہی میں یہ بیان دیا کہ سالگرہ منانا، اس روز مبارک باد دینا یا کرسمس کے موقع پر خوشی منانا یا اپنے ہمسایوں کو اس تہوار کی مبارکباد پیش کرنا غیر اسلامی اقدام ہے۔ اگرچہ بعد میں مسلمان سیاسی و مذہبی لیڈروں نے اس احمقانہ بیان کو مسترد کرنے کی کوشش کی لیکن اس بیان سے جو نقصان پہنچ چکا تھا، اس کا ازالہ بعد میں دئیے گئے بیانات سے نہیں ہو سکتا۔

مسلمان لیڈر اور امام حقوق العباد یا عقیدے کے سماجی اور انسانی پہلوؤں کی نشاندہی کرنے اور لوگوں کو ان کے مطابق عمل کرنے کے لئے تیار کرنے میں بھی بری طرح ناکام ہیں۔ اس کے برعکس مقامی معاشروں کو دیار کفر اور آبادیوں کو گمراہ  قرار دے کر، مسلمان مقتدیوں کو اسی معاشرے سے متنفر اور بدظن کیا جاتا ہے،  جہاں سے ان لوگوں کا روزگاروابستہ ہے اور جہاں ان کے بچے بڑے ہو رہے ہیں۔ رہی سہی کسر گزشتہ ایک دہائی کے دوران سامنے آنے والی اسلامی دہشت گردی یا اسلام کے مسخ شدہ سیاسی تصور کے پرچار نے پوری کر دی ہے۔ مقامی مذہبی لیڈروں کی ناکامی اور نااہلی کی وجہ سے بہت سے نوجوان مسلمان انٹرنیٹ کے ذریعے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح انتہا پسند اور شدت پسند عناصر ان پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ان میں سے بعض نوجوانوں کو دہشت گردی جیسے مذموم اقدام کرنے پر آمادہ و تیار کر لیتے ہیں۔

نئے سال کے موقع پر مسلمان پناہ گزینوں نے جس طرح یورپی لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی اور جس طرح ان افسوسناک واقعات کی تشہیر ہوئی ہے، اس سے بھی مسلمانوں کا امیج اور باہمی احترام کے حوالے سے ان کے رویے کے بارے میں شبہات سامنے آئے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ میلوس زمان جیسے انتہا پسند یورپی لیڈر ان واقعات کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن مسلمان لیڈروں کی طرف سے اس بارے میں عام طور سے خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ نہ ہی ان المناک اور انسانیت سوز واقعات کو واعظ و خطبات کا موضوع بنا کر نئے اور پرانے مسلمانوں کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ان کا رویہ اسلام کی شہرت اور مسلمانوں کے مفادات کے خلاف ہے۔ اسی طرح مساجد اور آئمہ مسلمان شہریوں کو مقامی قوانین کا احترام کرنے کا سبق دینے میں بھی ناکام رہتے ہیں۔ سماجی بے راہ روی کے علاوہ ٹیکس چوری ، انسانی اسمگلنگ اور دیگر جرائم کے بارے میں عام طور سے خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس یک طرفہ موقف کی وجہ سے عام طور سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ مقامی قوانین کی خلاف ورزی اور سماجی روایات کو قبول نہ کرنا دراصل اسلامی تعلیم و تربیت کا حصہ ہے۔ میلوس زمان جیسے لیڈر اس تصور کو راسخ کرنے کی کوشش کر کے حالات خراب کرتے رہتے ہیں۔

یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے مقامی سیاسی پارٹیوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایک ایسی اقلیت کے بارے میں تعصب اور نفرت کو فروغ نہ دیں جو متعدد یورپی ملکوں میں کثیر تعداد میں آباد ہے۔ لیکن جب تک مسلمان لیڈر اور مذہبی رہنما اس حوالے سے اپنی سماجی ، دینی اور قانونی ذمہ داری محسوس نہیں کریں گے، ان مباحث میں توازن قائم نہیں ہو سکے گا۔ ان حالات میں مسلمان ہی خسارے میں رہیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali