نسٹ کے طالب علم محمد مرسلین کا معافی نامہ اور میرا ذاتی تجربہ


” جو بھی عورت گھر سے باہر نوکری کے لئے قدم رکھتی ہے اسے مرد کی ہر بات سننا ہوگی کیو نکہ اس نے اپنے لئے ذلت کا راستہ خود چنا ہے ویسے بھی دفتر اور وہ بھی میڈیا میں کام کرنے والی لڑکیاں کون سی پارسا ہوتی ہیں”۔

یہ ایک جملہ نہیں ہے بلکہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا میں مرد بنا کر انھیں اس لئے بھیجا گیا کہ وہ ہر عورت کو کمتر اور کمزور جانیں، اسے ذلیل کرنے کا، بے حیائی کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ اگر انھوں نے اس عورت کی جو باہر ملازمت کے حصول کے لئے نکلی ہے توہین نہ کی تو وہ مرد کہلانے کے لائق نہیں رہیں گے۔ اگر انھوں نے عورت کو یہ نہ بتایا کہ نوکری پیشہ عورت عزت کے لائق نہیں تو شام یا رات کو اپنے ہم عصروں کے سامنے چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے وہ اپنا کالر کھڑا کر کے کیسے بتا پائیں گے کہ اس نے آج ایک عورت کی عظمت، جس کو وہ گھمنڈ سے تشبیہ دیتے ہیں، ایسے زیر کیا ہے۔

ایسی سوچ کے حامل مردوں کا سامنا ہر عورت کو کبھی نہ کبھی اپنی زندگی میں ضرور کرنا پڑتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ کسی کو زیادہ تو کسی کو کم لیکن یہ تلخ تجربہ ہوتا ضرور ہے۔ لیکن ان سب میں ایک بات طے ہے کہ طبقہ کوئی بھی ہو، ڈگری کتنی ہی بڑی ہو، ادارہ کتنا ہی معتبر ہو، ایسی پسماندہ سوچ کا کچھ نہیں سنوار سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مانی جانی، اعلی شہرت کی حامل یونیورسٹی نسٹ کے طالب علم نے، جسے گریجویٹ ہوئے ابھی دو سے تین روز ہی ہوئے تھے، لاہور سے اغوا ہونے والی خاتون صحافی گل بخاری کے لئے جو زبان استعمال کی اس نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا جب اس کے ٹوئیٹر اکاونٹ کا جائزہ لیا گیا۔ عموما یہ تاثر ہے کہ نسٹ یا اس کی ہم عصر یونیورسٹی میں پڑھنے والے لڑکے کسی جنٹلمین سے کم نہیں۔ ذہانت و فصاحت میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ ملک کی وہ کریم ہے جو چن چن کر ان یونیورسٹی میں لی جاتی ہے اور پھر ان کی صلاحیتوں اور قابلیت کو مزید سنوار کر ملک کے لئے سب سے بہترین شہری تیار کئے جاتے ہیں جن کے مدمقابل آنے میں دوسرے ہمیشہ صرف ٹھنڈی آہیں بھرتے یا خالی جیب کھنگالتے ہوئے قسمت کو کوستے دکھائی دیتے ہیں۔

 افسوس کہ مرسلین نامی اس نوجوان کے پاس وسائل بھی ہیں اور ذہانت بھی، قابلیت بھی ہے اور اہلیت بھی لیکن وہ شعور نہیں جس پر اس کے گھر کی عورتیں اب فخر کرسکیں۔ معروف صحافی گل بخاری کے لئے جنسی تشدد کی خواہش رکھنے والے اس نوجوان کی ایک ٹوئیٹ نے راتوں رات اسے ہیر و نہیں، زیرو بنا ڈالا ہے اور یہ سوال بھی کھڑا کردیا ہے کہ ایسی پست ذہنیت رکھنے والا نوجوان جب کسی اہم منصب پر پہنچے گا تو اس کی عورتوں سے متعلق سوچ اسے کیا کیا فیصلے لینے پر مجبور کرے گی؟

مرسلین کسی بھی طور پر اپنے الفاظ واپس نہ لیتا اگر بات اس کا فخر چھیننے پر نہ آتی۔ لوگوں کے احتجاج اور کڑی تنقید کے سبب نیشنل یونیورسٹی آف سائینس اینڈ ٹیکنالوجی ”نسٹ” کو وضاحت دینی پڑ گئی بلکہ یونیورسٹی کو اس نوجوان کی اس حرکت کے خلاف کارروائی کا عندیہ بھی دینا پڑا ۔ یقینی طور پر یونیورسٹی کو یہ محسوس ہوا ہوگا کہ بات صرف مرسلین کی ذات پر نہیں، ان کی جامعہ کے وقار اور تربیت پر بھی آ گئی ہے۔

سوال یہ ہے کہ جس رویے کی بنیاد پر یونیورسٹی نے یہ قدم اٹھایا، کیا اس نوجوان کے والدین اس سے ناواقف تھے؟ ہرگز نہیں۔ بچہ کیا سوچ رکھتا ہے؟ کیا عمل کرتا ہے؟ کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس کا رویہ اپنے اردگرد بسنے والوں کے ساتھ کیسا ہے؟ یہ سب باتیں والدین کے علم میں ضرور ہوتی ہیں۔ فرق یہ ہے کہ جن گھروں میں ان باتوں کو “وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجائے گا” سے تعبیر کیا جائے یا یہ سوچ کر نظر انداز کیا جائے کہ “یہ محض ایک سوچ ہے اس سے ابھی تک کسی کو تکلیف تو نہیں پہنچی”، ایسے گھرانوں میں اس ذہن میں پلنے والی غلاظت کو مزید تقو یت ملتی ہے۔ پہلے یہ معاملہ غلاظت کے اکٹھے ہونے تک رہتا ہے اور پھر ا س میں کیڑے کلبلانے لگتے ہیں جس کی صفائی ہو بھی جائے تو بدبو پھر بھی ختم نہیں ہوتی کیونکہ برسوں کا گند ایک دن میں صاف نہیں ہوسکتا ۔ جو کام گھر کا تھا وہ تو نہ ہوسکا لیکن غلاظت کا ڈھیر صاف کرنے کے لئے نسٹ کو میدان میں اترنا پڑا۔ تب ہی اس تناظر میں آنے والی ٹوئیٹ میں موصوف نے فرمایا کہ میں اب عورت کی عزت کرنا سیکھوں گا اور اس میں نسٹ کا سینٹر فار کانسلنگ اینڈ کیرئیر ایڈوائزری میری رہنمائی کرے گا۔

نسٹ کے اس اقدام کو نہ صرف سراہا گیا بلکہ یہ امید بھی جاگی کہ چلو معاشرے میں کسی ایک کو اپنی غلطی کا احساس دلا کر اس کے سدھار کا کام تو شروع ہوا۔ لیکن کیا آپ کو لگتا ہے کہ ایسا ہو گا؟ میرے نزدیک ایسا نہیں ہے اگر یہ یونیورسٹی یہ ایکشن نہ لیتی اور مرسلین کو اپنی ڈگری معطل ہونے یا بدنامی کا خوف نہ ہوتا تو یہ سلسلہ چلتا رہتا۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 66 posts and counting.See all posts by sidra-dar