کیا پاکستانیوں کے لئے بھی خودکشی حرام ہے؟


گزشتہ روز سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کسی نے واٹس ایپ پر بھی بھیج دی۔ چند سیکنڈز کی اس ویڈیو نے دل مٹھی میں جکڑ لیا۔ حرم شریف میں بالائی منزل سے کود کے جان دینے کا یہ دلدوز کلپ مبینہ طور پر کسی فرانسیسی نومسلم کا ہے۔

ویسے تواس ویڈیو کے ساتھ گردش کرتے تبصروں ، سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے حوالے سے ہونے والی بحث کو پڑھ کے یہ اطمینان ہوا کہ مسلمانوں کی اکثریت اس امر سے باخبر ہے کہ خودکشی اسلام میں ممنوع ہے اور اسے حرام موت قرار دیا گیا ہے۔ یہ مشورہ بھی پڑھنے کو ملا کہ خودکشی کرنا ہی تھی تو ایسی مقدس جگہ کا انتخاب کیوں کیا اور بھلا کوئی شخص کیونکر خدا کے گھر میں ایسے کافرانہ فعل کو سرانجام دے سکتا ہے۔ ان تبصروں کو پڑھ کے ہم نے خود کو تسلی دی کہ شکر ہے کہ مسلمانوں میں خودکشی کے امکانات بہت کم دکھائی دیتے ہیں کیونکہ اکثریت اس حوالے سے باشعور ہے۔ لیکن پھر اس اطلاع کا کیا کیا جائے کہ حرم شریف میں ہی گزشتہ برس بھی ایک شخص نے خودسوزی کی کوشش کی تھی جسے وہاں موجود سیکورٹی اہلکاروں نے ناکام بناتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا۔

پاکستان میں بھی کوئی دن ایسا نہیں گزرتا ہے جس دن اخبارات میں حالات کی ستائی کسی مجبور ماں کی بچوں سمیت نہر میں کود کے جان دینے یا بھوک سے بلکتے بچوں کی تکلیف دیکھ کے خود پر تیل چھڑک کے آگ لگانے والے باپ کی خودکشی کی خبر نگاہ سے نہ گزرتی ہو۔ تو کیا یہ لوگ اسلام کے اس اصول سے بے خبر ہوتے ہیں جو چودہ سو برس قبل طے کر دیا گیا کہ اسلام میں خودکشی حرام ہے اور مایوسی کفر؟ یا پھر یہ انسانی نفسیات میں پیدا ہونے والے کوئی خلل ہے جو خودکشی پر منتج ہوتا ہے اور جسے پاکستان میں بالعموم نظرانداز کر دیا جاتا ہے؟

اس حوالے سے سب سے مقبول توجیح یہ ہوتی ہے کہ عبادت میں دل لگانے سے مایوسی دور بھاگتی ہے اور ڈپریشن جو انجام کار خودکشی کی صورت بنتا ہے، قریب نہیں پھٹکتا۔ تو پھر کیا یہ فرض کر لیا جائے کہ خودکشی کرلینے والے افراد دراصل روحانیت اور اسلام سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ عبادت وغیرہ میں انکا دل نہیں لگتا، اسی لئے وہ خودکشی پر آمادہ ہوجاتے ہیں؟ ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو حرم میں خودکشی کا یہ دوسرا واقعہ منظرعام پر نہ آتا۔ ذاتی مشاہدے میں بھی کم از کم دو واقعات ایسے ضرور ہیں جہاں موت کو بخوشی گلے لگانے والے عبادت گزار تھے۔

اس وقت پاکستان میں اعداد و شمار انتہائی خوفناک صورتحال کی نشاندہی کر رہے ہیں اور بتایا جا رہا ہے کہ ملک میں کم و بیش تین لاکھ افراد خودکشی کے درپے ہیں۔ یہ دعویٰ آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ سائیکیٹری کے پروفیسر اور بین الاقوامی ادارہ برائے تدارک خودکشی کے پہلے پاکستانی سربراہ پروفیسر مراد موسیٰ خان نے رواں برس کے اوائل میں کیا تھا۔ ان کے مطابق ہر برس پاکستان میں (اندازے کے مطابق) پندرہ ہزار افراد خودکشی کی کوشش میں کامیاب رہتے ہیں۔( اس حوالے سے حتمی نتائج کی عدم دستیابی کی وجہ پاکستانی قوانین ہیں جس کی بدولت زیادہ تر خودکشی یا اقدام خودکشی کے واقعات پر پردہ ڈالا جاتا ہے اور نتیجے میں عالمی ادارہ صحت کو بھی اس ضمن میں اعداد و شمار فراہم کرنا ممکن نہیں ہے)۔

خودکشی کے یہ تمام واقعات غربت کے ہاتھوں ستائے مجبورطبقے یا پھر محبت میں ناکامی کا شکار نوجوانوں سے متعلق نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال دو ہفتے قبل اسلام آباد کے مشہور مال کی تیسری منزل سے کود کے جان دینے والے نوعمر نوجوان کی خودکشی ہے جس کے پس پشت خودکشی کی عمومی وجوہات میں سے کوئی ایک بھی کارفرما نہ تھی۔ اس کے اساتذہ نے اس کے نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے کی تصدیق کی ہے جبکہ اطلاعات کے مطابق وہ نفسیاتی معالج کے پاس بھی جاتا رہا ہے۔ بدقسمتی سے یہ علاج اس کی زندگی بچانے میں تو ناکام رہا لیکن اگر پاکستان میں نفسیاتی مسائل کوشجر ممنوعہ کی فہرست سے خارج کردیا جائے تو بہت سے افراد کو خودکشی سے بچایا جاسکتا ہے۔

کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے کہ میں علمائے کرام سے پوچھوں کہ کیا پاکستانی معاشرے میں بھی خودکشی حرام ہے۔ ایسا معاشرہ جہاں خودکشی پر آمادہ افراد کے لئے گھٹن کے سوا کچھ نہ ہو۔ لعن طعن، حرام موت مرنے کے طعنے، ناشکرے پن کا لیبل چسپاں کرنا عام ہو، مناسب رہنمائی کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہو اور نفسیاتی معالج سے رابطہ کرنے کی صورت میں پاگل ہونے کا سرٹیفکٹ پانے کا خطرہ پوری شدت سے منڈلا رہا ہو، کیا وہاں پر بھی برضا موت کو گلے لگا لینے والے شخص کی موت کو حرام موت ہی تصور کیا جائے گا؟

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

ملیحہ ہاشمی

ملیحہ ہاشمی ایک ہاؤس وائف ہیں جو کل وقتی صحافتی ذمہ داریوں کی منزل سے گزرنے کر بعد اب جزوقتی صحافت سے وابستہ ہیں۔ خارجی حالات پر جو محسوس کرتی ہیں اسے سامنے لانے پر خود کو مجبور سمجھتی ہیں، اس لئے گاہے گاہے لکھنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

maliha-hashmi has 12 posts and counting.See all posts by maliha-hashmi