میں نے فرشتے دیکھے ہیں


 بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ میں ایک عرصہ یعنی تقریباً 30 برس یکسر غیر مذہبی رہا تھا۔ ملحد اس لیے نہیں کہتا کیونکہ میں نے ہمیشہ مذہب کو انسانوں کا ذاتی معاملہ مانا ہے جو ان کے اور ان کے خدا بیچ ہے۔ کون کیسا اور کتنا مذہبی ہے، اس میں اس کی اپنی فہم، اس کی سوچ کی اپنی سطح، اس نے مذہب کے بارے میں کیا اور کتنا کیسے لوگوں سے سنا اور جانا، کیا وہ مذہب کو جذباتی معاملہ خیال کرتا ہے یا ایک عاقلانہ و منطقی انتخاب، اس کی پیدائش اور تربیت کیسے معاشی و سماجی ماحول میں ہوئی ، اس کی تربیت کس سوچ اور رویوں کے حامل لوگوں نے کی بشمول ماں باپ یا ان میں سے کوئی ایک، یا ان میں سے کسی نے کم کسی نے زیادہ حد تک، اساتذہ، دوستوں اور بولنے و لکھنے والوں کے، کا عمل دخل ہوتا ہے۔

باوجود اس کے کہ گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے میں پھر سے مذہب کی جانب راغب ہوں، مذہبی رسوم پر اپنی مرضی سے اور سچ جان کر عمل کرتا ہوں، تشکیک میں مبتلا ضرور رہتا ہوں۔ بعض شکوک تو ایسے ہوتے ہیں جو کفر کے قریب لے جاتے ہیں مثال کے طور پر سورہ الفیل میں ابابیل، ان کا حجم، ان کی چونچ میں کنکری کا وزن، اس کی اڑان کی بلندی، پرندوں کی تعداد چاہے وہ ماہر ترین طیارہ بازوں کے اڑائے گئے طیاروں کی طرح جڑے جڑے اڑیں، سب کو ذہن میں رکھ کر ہاتھیوں کی کھال کی موٹائی اور سختی اور ان کی کھال کا بھس بن جانے کو نظر میں رکھ کر طبیعیات کے فارمولے کمیت ضرب بلندی برابر ہے طاقت ( کی شدت) کے، پر غور کرتا ہوں تو یہی سوچ کر لاحول پڑھتا ہوں کہ اللہ جو چاہے کر سکتا ہے، اس میں طبیعیات کے ایسے فارمولوں کا کیا لینا دینا جو انسانوں نے دنیاوی اشیا و حرکات کو سامے رکھ کے مرتب اور ثابت کیے ہوں۔ مگر ابابیل بھی دنیاوی ہیں، کنکر بھی زمینی اور ہاتھی بھی ارضی جانور۔۔۔۔ مطلب یہ کہ میں کوئی کٹڑ مذہبی شخص نہیں ہوں اور اپنے علم، سوچ اور سابقہ روش کے مطابق نہ ہو سکتا ہوں۔

 پھر بحیثیت ایک ڈاکٹر اور علم نفسیات میں دلچسپی کے حامل شخص کے تخئیل، گمان، شائبے اور غلط فہمی کے نفسیاتی عوامل و عوارض سے بھی آگاہی رکھتا ہوں۔ میں شکر الحمداللہ آج تک کسی ایسے عارضے میں مبتلا نہیں رہا جو گمان یا شائبے کا موجب بنے چنانچہ میں جو واقعہ بیان کرنے چلا ہوں وہ پوری صداقت اور یقین کے ساتھ ویسا ہی بیان کروں گا جیسے واقع ہوا تھا۔ مجھے اس سلسلے میں کسی کو یقن دلانے کی قطعی ضرورت نہیں ہے، جس کا جی چاہے مانے اور جس کا جی چاہے مجھے دیوانہ خیال کر لے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ دس سال گذرنے کے باوجود میں اس واقعے کو ویسے ہی سچ سمجھتا ہوں جیسے اس روز جس روز یہ ہوا تھا۔

قریب نو دس برس پہلے کی بات ہے کیونکہ سگریٹ نوشی میں نے 2008 میں ترک کی تھی، 26 اور 27 رمضان کی درمیانی رات تھی۔ مہینہ جولائی اگست کا ہوگا جن دنوں یہاں رات کے گیارہ ساڑھے گیارہ تک روشنی رہتی ہے اور اس کے بعد بھی گھپ اندھیرا نہیں ہوتا۔ مئی سے ستمبر تک میری اہلیہ گھر کی بجائے شہر سے باہر دیہات میں زمین پر واقع گھر میں رہتی ہے اور سبزیاں وغیرہ کاشت کرتی ہے جو یہاں گرمیوں کا رواج ہے۔ ہمارا اپارٹمنٹ ایک کمرہ، ایک کچن اور ایک بالکنی پر مشتمل ہے جو ایک بڑی عمارت کی آٹھویں منزل پر ہے ۔ میں بہتر ماحول کی غرض سے بالکنی کا دروازہ کھول کر نوافل پڑھ رہا تھا۔ کچھ تھک گیا تو سوچا بالکنی میں کھڑا ہو کر ایک سگریٹ پی لیتا ہوں۔ پھر کلی کر کے نوافل دوبارہ سے پڑھنا شروع کر دوں گا۔

میں بہت بے دھیان آدمی ہوں، بعض اوقات سامنے دیکھ بھی رہا ہوں تو نہیں دیکھ رہا ہوتا کچھ سوچ رہا ہوتا ہوں، بالعموم لغو سوچیں۔۔۔ خیر سگریٹ پیتے ہوئے جو افق پر دھیان گیا تو کوئی ایک سو میٹر کی دوری سے مجھے قطار در قطار آسمان سے کوئی مخلوق اترتی دکھائی دی جو ان گنت تعداد میں تھی اور جس کا اترنا ایسے سہل تھا کہ برف کے گالوں کی رفتار سے بھی سست مگر تسلسل کے ساتھ۔ اور ہاں میں ماورائی مخلوق سے متعلق خاصا ڈرپوک بھی ہوں مگر مجھے بالکل بھی ڈر نہیں لگا بلکہ کسی بھی کیفیت کا احساس تک نہیں ہوا بس دیکھتا رہا پھر سوچا یہ کیا ہے؟ کہیں میرا وہم تو نہیں؟ کہیں مجھے غلط فہمی تو نہیں ہو رہی؟ میں نے آنکھوں کو جھپکا، مسلا مگر مخلوق کا اترنا جاری رہا۔ یہ بھی میرے خیال میں نہیں تھا کہ شب قدر کو فرشتوں کا آسمان سے اترنا بھی بتایا جاتا ہے۔ اچھا میں آرام سے مخلوق کو اترتے دیکھتا رہا مگر مجھے یہ خیال بھی نہ آیا کہ یہ فرشتے ہیں۔ میں نے آرام سے سگریٹ پی کر تمام کی۔ سگریٹ بجھا کر پھینکا، کچن کے سنک سے پانی لے کر کلی کی اور نفل نیت لیے۔

جب میں دوسرے رکوع میں تھا تو میں نے یک لخت دیکھا کہ اترنے والی مخلوق کے دو نفر میرے دائیں پہلو میں رکوع میں جھکے ہوئے ہیں۔ ڈر تو جیسے تھا ہی نہیں۔ نماز پڑھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ سلام پھیر کر ان سے بات کرتا ہوں۔ سلام پھیرنے کے بعد مجھے وہ ہیولوں کی مانند دکھائی دیے ویسے واضح نہیں جیسے دوری سے دیکھنے میں ۔ میں نے سوال کیا، “تمہاری (میں نے آپ نہیں کہا) زبان کیا ہے؟” جواب ملا، ” ہماری کوئی زبان نہیں، جو جس کی زبان ہو وہی ہماری زبان ہوتی ہے”۔ میں نے سوال زبان سے نہیں بلکہ دماغ سے کیا تھا اور جواب بھی آواز میں نہیں بلکہ دماغ میں وصول کیا تھا۔ اس کے بعد نہ صرف وہ دو غائب ہو گئے بلکہ افق کی جانب دیکھا تو وہ بھی صاف تھا۔ میں اتنا پر سکون ہو گیا تھا جتنا میں نے نہ کبھی محسوس کیا تھا اور نہ آج تک کرتا ہوں۔ سکون کی یہ کیفیت گھنٹوں رہی تھی۔

 وہ مخلوق کیسی تھی۔ قد دو فٹ سے زیادہ نہیں تھا۔ بدن شیشے کی مانند شفاف تھے۔ ہئیت ماں کے بطن میں جنین کی سی تھی۔ آنکھیں واضح نہیں تھیں مگر ان میں نیلا سبزی مائل رنگ جھلکتا تھا۔ افق پر جو کم بلندی پر تھے ان کے پر دکھائی نہیں دیتے تھے مگر زیادہ بلندی پر موجود مخلوق کے پر کرہ ارض کے دوسری طرف سے پڑتی سورج کی کرنوں کے سبب دکھائی دیتے تھے شفاف شیشے ایسے مگر کرنوں کی وجہ سے ان میں سات رنگ ایسے دمکتے بجھتے تھے جیسے ابرق چمک رہا ہوں۔

کیا یہ خلائی مخلوق تھی یا آسمانی مخلوق؟ خلائی مخلوق لاتعداد اتر نہیں سکتی اور انہیں کسی چیز جیسے خلائی جہاز کی ضرورت ہوگی۔ اگر یہ فرشتے تھے تو مجھے مذہب کے بارے میں یکسر مشکوک نہیں ہونا چاہیے۔ اگر فرشتے نہیں تھے تو کیا تھے کیونکہ مجھے وہم و گمان والا نہ تو کوئی مرض تھا اور نہ ہے اور نہ ہی اس کے بعد کسی اور برس کے 26، 27 رمضان کی درمیانی شب میرے ساتھ ایسا واقعہ دوبارہ ہوا۔ میں نے تب کوئی نشہ آور مواد بھی استعمال نہیں کیا ہوا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں