انسان ہیں تو درد بھی تو ایک سا ہے


wisi 2 babaغلط موقع پر غلط بات کرنے کی قومی عادت کا مظاہرہ کیا اور اپنی جان پھنسا لی۔ بس اتنا ہی کہا کہ شعیب اختر بریٹ لی سے زیادہ تیز گیند پھینکتا ہے۔ اس سے زیادہ اچھا بالر ہے۔ ایرک نے کہا تم ہمارے گروپ میں رہو گے۔ ایرک کو کہا لیکن حسن والیاں تو ساری کہیں اور جا رہی ہیں۔ میں تمھارے گروپ میں کیا کروں گا۔ ایرک بولا انہیں جانے دو جہاں جا رہی ہیں۔ تم پشاور کے ہو تو ہم بھی پشاور ہی جائیں گے۔

اس ایک اعلان سے سیاحت کے سارے ارمان مٹی ہو گئے۔ اپنے ہی شہر میں اب کیا سیاحت کرتے۔ ان گوروں کو ساتھ لے کر لور لور ہی پھرنا تھا بس۔ یہ دو ہزار آٹھ تھا اور ہم لوگ الیکشن آبزرور تھے۔ ایرک نے کہا تم ٹھیک کہتے ہو شعیب بہتر بالر تھا۔ سمجھ آ گئی کہ ظالم نے اس ایک بات کی وجہ سے ہماری ساری سیاحت غرق کر دی ہے۔ ساری گوریاں باقی پاکستان میں الیکشن ہوتا دیکھنے جا رہی تھیں، ہم اپنے اعلان حق کی وجہ سے اپنے ہی شہر پشاور جا رہے تھے۔

ایرک نے پوچھا تم اپنے شہر جا کر خوش نہیں ہو۔ اسے کہا اپنے شہر کے الیکشن نتائج کا ابھی سے اندازہ ہے۔ شہر اندر باہر سے سو بار دیکھ رکھا ہے۔ اب اس میں کیا خوش ہونے کی بات ہے، حالانکہ بعد میں بہت کچھ نیا دیکھنے سیکھنے کو ملا ۔ الیکشن نتائیج کے لئے پشاور جانے کی کیا ضرورت ہے ادھر ہی بیٹھ کر نتائج بنا لیتے ہیں۔

ایرک نے کہا یہی دھاندلی پکڑنے تو ہم پاکستان آئے ہیں۔ تم جیسے لوگ نتائج خراب نہ کریں۔ ایرک کو کہا یہ جمہوریت ایک فضول نظام ہے۔ ادھر بادشاہت ہی ٹھیک تھی۔ پاکستان میں بادشاہت ہوتی تو ہمارے بادشاہ کا حرم بھی ہوتا۔ تمھاری ساری گوریاں ہم ادھر ہی رکھ لیتے۔ ایرک بولا تم کسی صورت بادشاہ بننے کے قابل نہیں تھے۔ کم بخت پوری طرح جلا رہا تھا۔ ایرک بولا دل چھوٹا نہ کرو پشاور جا رہے ہیں تو ایک پیار سا گورا بھی ہمارے ساتھ ہو گا۔ وہ ظالم پشاور کی بدنام محبتوں سے بھی واقٖف تھا۔

اس پیارے سے گورے کا نام بورس تھا۔ وہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی پیارا تھا، پشاور کے ایک ساتھی ممبر نے کہا کہ ہم کام کریں گے یا اس کی حفاظت کریں گے۔ اس ساتھی کو بتایا کہ ہم کام کریں گے اور بورس کی صرف تم سے ہی حفاظت بھی کریں گے۔ ابتدائی تعارف ہوا تو پتہ لگا کہ بورس سرب ہے۔ اس کا تعلق سابق یوگوسلاویہ سے ہے۔ سربیا کا سن کر ہمیں وہاں کے مسلمان اور سربوں کی جنگ بھی یاد آ گئی۔

بورس بہت اچھا لڑکا تھا۔ ہم لوگ البتہ اس سے تھوڑا سا کھنچ کر ہی رہے ۔ الیکشن آبزرویشن کا کام کافی تھکا دینے والا تھا۔ ہمارا ٹیم لیڈر ایرک ان تھک قسم کا روبوٹ تھا۔ وہ ہر اس جگہ گیا جہاں اسے جانے سے منع کیا گیا تھا۔ ہم لوگ روڈ سے دور کسی پولنگ سٹیشن کا دورہ کرنے چلے جاتے۔ پولیس کی دوڑیں لگ جاتیں کہ کدھر غائیب ہو گئے گوروں کو ساتھ لے کر۔ آخر کار ہم پشاوری ٹیم ممبران کو پولیس والوں نے بلا ہی لیا۔ یہ تم لوگ کیا کر رہے ہو۔ دہ فرنگیان  بہ چپا شی ( یہ فرنگی مریں گے) منگ لا کار گورے تاسو یعنی ہمارے لئے کام دیکھ رہے ہو۔

ایک  بہت ہی وڈے افسر نے کہا کہ تم لوگوں کو قومی مفاد کا خیال رکھنا چاہئے۔ اسے بتایا کہ وہی کر رہے ہیں الیکشن کی شفافیت چیک کرنے کو ہی مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے آگے کچھ بھی نہیں کہا۔ بس الیکشن کو اس کو چیک کرنے کے لئے آئے ہوئے وفد کو شفافیت وغیرہ کو ہی بڑبڑا کر ٹوں ٹوں کرتے رہے۔ ہم نکل آئے۔

افسروں سے عزت کرا کے فارغ ہوئے تو ایرک نے پھر بلا لیا۔ وہ دو دن بے آرام رہنے اور ہمیں بھی کرنے کے بعد تھوڑی دیر سونے گیا تھا۔ ملا تو تازہ دم تھا، اس نے کہا کہ بورس ہمارے ساتھ اب نہیں جائے گا۔ بورس بہت ٹینشن میں ہے۔ اسے آرام کرنے دیتے ہیں۔ ہم لوگوں کو بھی بورس کوئی اتنا اچھا نہیں لگا تھا۔ ملتا تو بڑے اخلاق سے تھا۔ بہت کچھ پوچھتا بھی تھا۔ پاکستان کے بارے میں جاننا بھی چاہتا تھا۔ پختونوں میں بھی اسے دلچسپی تھی۔ لیکن بس سرب ہونے کی وجہ سے ہمیں کچھ الرجی سی تھی اس سے۔ اس کے ساتھ کھل کر گپ لگانے سے پرہیز ہی کرتے تھے۔

ایرک ایک بہت زندہ دل آسٹریلین تھا۔ کرکٹ کے حوالے سے لگاتار جگتیں مارتا تھا۔ اس کے سااتھ گھومنا خوشگوار تجربہ ہوتا۔ جب ہم کہیں بھی جاتے تو انتظامات کا جائیزہ وہ کتاب کے مطابق لیتا تھا۔ ہم لوگ تقریبا سب ہی امیدواروں سے بھی ملے۔ الیکشن کمیشن والوں سے بھی۔ شکایات کا جائیزہ لینے بھی گئے جہاں تک جا سکتے تھے۔ کسی شکائیت کا پتہ لگتا تو وہاں پہنچ جاتے۔ شکایات اکثر افواہ ہی ثابت ہوئیں۔ شکائیت چیک کرنے وہاں بھی چلے جاتے جہاں جانے سے انتظامیہ نے  سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے منع کر رکھا تھا۔ بہت کچھ دیکھا اور سیکھنے کا موقع ملا۔

ہم لوگ  تھک ٹٹ کر ایک جگہ رک کر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ ایرک بولا کہ تم لوگوں نے بورس کے ساتھ زیادتی کی ہے ہم لوگ تھوڑے سے شرمندہ ہو کر ایرک کو دیکھنے لگے۔ تم سب سے گپ شپ لگاتے ہو بورس کے ساتھ سنجیدہ ہی رہتے ہو۔ کوسوو تو سترہ فروری کو آزاد ہو رہا ہے۔ ایرک نے کہا کہ کوسوو کے اعلان آزادی کے لئے ریفرنڈم ہو رہا ہے۔ بورس بہت اداس ہے، تم لوگوں کے ساتھ ملنے کے بعد اس کا کہنا ہے۔ یہ لوگ یہاں پر ہمیں اچھا نہیں سمجھ رہے۔ کوسوو والے کیوں اکٹھا رہنے کے لئے ووٹ دیں گے۔ ایرک سے کہا کہ سربیا والوں نے کچھ اچھا بھی تو نہیں کیا اپنے ساتھ رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ۔ ۔

 ایرک نے کہا انہوں نے سول وار لڑی۔ ہم سب انسان ہیں غلطیاں کرتے ہیں۔ کچھ غلطیاں بہت ہی بڑی ہوتی ہیں۔ ان کے اثرات کئی نسلوں کو بھگتنا ہوتے۔ ہمیں یاد بس اتنا رکھنا چاہئے کہ ہم انسان ہیں۔ انسانیت کے ناتے جب کوئی دکھی ہو تو اس کا دکھ بانٹنا چاہئے۔ ایرک نے ہمیں بتایا کہ آج سترہ فروری کو کوسوو کے مسلمان نمائندوں نے اعلان آزادی کی تصدیق کر دی ہے۔ بورس اپنے ملک کی تقسیم پر اداس ہے۔

ہم لوگ جب واپس ہوٹل پہنچے تو بورس سے ملنے گئے۔ اسے دیکھ کر ہی پتہ لگ گیا کہ وہ پتہ نہیں کب سے اکیلا بیٹھا رو رہا تھا۔ کوسوو سے اعلان آزادی  کے ڈکلیریشن کی تصدیق وہ سن چکا تھا۔ اسے گلے لگایا وہ بھی جیسے اسی انتظار میں تھا کہ کوئی آئے اور کندھا پیش کرے۔ ہم سب سے مل کر خوب رویا۔ وہ گلے لگا ہمیں وہ ساری فلمیں خبریں بھی یاد آتی رہیں جو سربیا میں مسلمانوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں دیکھی تھیں یا پڑھی تھیں۔

بورس چلا گیا ۔ ہمیں چیزوں کو دیکھنے سمجھنے کا ایک نیا رخ سمجھا گیا۔ رفتہ رفتہ یہ سمجھ آنے لگ گیا کہ پاکستان بھی تقسیم ہوا تھا۔ بنگلہ دیش بننے کا دکھ ضرور بہت سوں نے اپنے دل میں رکھا ہو گا۔ ہمارا تو کشمیر کا بھی تنازعہ حل ہونا رہتا ہے۔ ہم نے بھارت کے ساتھ ایک محاذ آرائی کی پالیسی بنا رکھی ہے تو اس کی وجوہات بھی ہیں۔ یہ سب سوچ کر مطمئین ہو گئے۔ فلسفے کا اتنا بڑا سوال جو اپنی دانست میں حل کر لیا تھا۔

کل یوں ہوا کہ صاحب سے ملاقات ہو گئی۔  صاحب کبھی پالیسی سازی میں اہم رہے ہیں۔ صاحب باہر کافی عرصہ گزار کر واپس آئے ہیں۔ ملے تو انہوں نے بتایا کہ وہاں ایک بھارتی بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ پرانی دشمنی کو یاد کرنے کے لئے دونوں شربت پیتے رہے۔

شربت تو پھر شربت ہے اپنا اثر دکھاتا ہے۔ جب دونوں کھل کر بولنے لگے تو صاحب نے کہا کہ مہاشے تم لوگوں نے ہم سے مستقل دشمنی ہی پال رکھی ہے۔ مہاشے بولے کہ صاحب کتنا عرصہ اکٹھا رہے تھے بنگال کے ساتھ۔ تم پاکستانی۔ صاحب بولے کہ چوبیس سال۔ مہاشے نے پوچھا کہ علیحدگی کا دکھ گیا۔ صاحب بولے کہ نہیں گیا بنگال بھی یاد ہے اور تکلیف دہ علیحدگی بھی۔ مہاشے بولے کہ ہمارا بھی نہیں گیا ہم تو ہزاروں سال اکٹھے رہے۔

کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم انسان بنیں گے۔ اپنا دکھ تو جانتے ہیں دوسرے کا سمجھیں گے تو ہی انسانوں کی طرح رہنے بسنے کے قابل ہو سکیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “انسان ہیں تو درد بھی تو ایک سا ہے

  • 29-04-2016 at 5:58 pm
    Permalink

    حسب معمول عمدہ تحریر

Comments are closed.