پانچ اندھے ہندوستانی


کہتے ہیں پانچ اندھے ہندوستانی جنگل کی سیر کو گئے۔ ہندوستانی جنگلات کا حسن ہاتھی جو کہ طاقت کی علامت ہے ، اس سے ان اندھوں کی مدھ بھیڑ ہو گئی۔ ایک کا ہاتھ ہاتھی کے کان پر پڑا تو وہ اِس کو ہاتھ سے جھلنے والے پنکھے کی طرح معلوم پڑا۔ وہ بولایہ تو پنکھا ہے۔ دوسرے کے ہاتھ دُم پر پڑا تو اُس نے اعلان کیا کہ یہ رسی ہے تیسرے کا ہاتھ ہاتھی کے ٹانگ پر پڑا تو اس نے کہا کہ یہ درخت کا تنا ہے۔ چوتھے سرکار کا ہاتھ ہاتھی کے پہلو پر پڑا تو جتنی اُس کے بازوؤں کے حلقے کی وسعت تھی اس مطابق وہ دیوار کہہ کر چیخ اٹھا کہ جنگل میں دیوار کس نے بنائی۔ پانچواں اندھے کا ہاتھ ہاتھی کے دکھانے کے دانتوں پر جا پڑا اور اُس نے اعلان کیا کہ یہ تو نیزہ ہے۔

اس جزوی تجزئیے سے نتیجہ مکمل اختلاف کی صورت نکلا اور اندھے اپنے اپنے گھروں کو اپنے اپنے تجربات لئے لوٹ گئے ۔
یہ حکایت اپنے اندر بہت سارے پہلو ہائے فکر سموئے ہوئے ہے ۔بعض صورتوں میں مکمل کی جگہ جزوی علم رکھنا کسی بھی شے یا شخصیت کے بارے میں اُس کے اصل کردار کو بالکل مسخ کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس حکایت سے ایک یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسانوں میں یہ رغبت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے جزوی تجربات یا کسی بھی پہلو ہائے زندگی پر نا مکمل یا جزوی پہنچ رکھنے کی بناء پر اپنے جزوی سچ کو مکمل سچ مان کر چلتے ہیں اور دوسرے کے جزوی سچ ان کے نزدیک کوئی معنی نہیں رکھتے ۔

اس حکایت کی ایک اور شبیہ یہ بھی ہے کہ حالات اور واقعات کے تناظر میں ایک انسان کے لئے کسی ایک خاص انسان اور اس کے کام کو جان پانا بذاتِ خودایک بڑا کام ہے۔

کچھ افراد کیلئے اس حکایت کے تناظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اپنے سوالوں کا اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں جوابات کا حل ان کیلئے نہایت خوش کن ہوتا ہے۔ بعض کیلئے یہ حکایت خدا کی پہچان کی نہایت چھو لینے والی اور مسحور کن تمثیل بھی ہے۔

کچھ لوگ اس سے یہ معنی اخذ کرتے ہیں کہااس سے انسان کی بے وقوفی کا اظہار ہوتا ہے ۔ جب کہ اس کہانی کا ایک تجریاتی پہلو یہ بھی ہے کہ یہ جزو اور کل کے نظریہ کو بیان کرتی ہے۔ اس پر ایک سائنسی تجربہ کیا گیا ۔ ایک ہاتھی کو سکرین پر دکھایا گیا اور پھر اس کے ایک حصے ،یوں سمجھیں کہ دانت کو زوم کیا گیا حتی کہ منظر پر صرف دانت ہی رہ گیا اور ہاتھی کی حقیقت کہیں گم ہو چکی تھی ہاتھی کے بغیر وہ دانت کسی کو سفید روشنی کی دھار لگا تو کسی کو واقعی نیزہ ۔ ہر کسی کی اپنی نظر اور نظریہ تھا ۔ گویا دانت ہی کُل تھا اور ہاتھی ایک جزو اور یوں ثابت ہوا کہ جزو ہی کُل ہے اور ہر کُل جزو۔

اگر سچ کی تلاش ہو تو پہلے اختلاف رائے پر اتفاق ہونا ضروری ہے ہمیں یہ یاد رکھنا ہو گا کہ جو ہم دیکھتے ہیں وہ بذات خود حقیقت نہیں بلکہ حقیقت وہ ہے جو ہمارے سوال کرنے پر منکشف ہوتی ہے پھر اس کے بعد ہی کوئی منطقی اور حتمی نتیجہ اخذ ہوسکتا ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں