افواہ ساز فیکٹری


تحریر: عافیہ ایس ضیا۔
ترجمہ: مہ ناز رحمٰن۔
کچھ سال پہلے فوربس نے یہ کہانی چلائی تھی کہ پاکستان میں افواہ اڑ رہی ہے کہ ایک روپے کے پرانے سکے کی قیمت ڈھائی ہزار روپے ہے کیونکہ یہ سونے کا بنا ہوا ہے۔ ماضی میں کئی مرتبہ خراب صورتحال کی وجہ سے بنک اکاؤنٹس فریز ہونے کی افواہ بھی پھیلی ہے جس کے نتیجے میں بنکوں میں لوگوں کا رش لگ گیا تھا۔ حال ہی میں ہندوستان کو رقومات کی ترسیل کی افواہیں سامنے آئیں جو اس بات کا ثبوت تھیں کہ غلط معلومات کی طاقت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔

سیاسی رہنماؤں کے قتل کے نہ حل ہونے والے کیسز، سیاسی امور پر فوج کے ترجمان کا مسلسل تبصرہ بھی سازشی تھیوریز اور افواہوں کو ہوا دیتا ہے۔ گورنر تاثیر کا قتل بھی ان غلط معلومات کا نتیجہ تھا کہ وہ توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں جب کہ ان کا اعتراض یہ تھا کہ افواہوں کی بنا پر لوگوں کو غلط طور پر توہین مذہب کے کیس میں ملوث کیا جاتا ہے۔ 1979کے زنا قوانین کی بنا پر بھی غلط الزامات سامنے آئے اور اب آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت بھی ایسا ہی قانونی چیلنج ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔ نیکی، تقویٰ، حب الوطنی اور اخلاقی ضرب کا انحصارمادی عوامل پر نہیں بلکہ کسی کے بار میں پائے جانے والے تاثر اور ریپوٹیشن پر ہوتا ہے۔ عدلیہ کی ہماری روحوں کی گہرائیوں میں جھانکنے کی فوق الانسانی صلاحیتوں کے باوجود ان خصوصیات کو ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

مادی شواہد کی عدم موجودگی میں افواہیں الزامات کو تقویت بخشتی ہیں۔ یوں جدید عہد کا قانونی میدان سترھویں صدی کی جادو گرنیوں اور چڑیلوں کے مقدمے کی سماعت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ بحرانوں، پریشانی یا کسی قسم کی تبدیلی کے زمانے میں افواہیں سب سے زیادہ کام دکھاتی ہیں۔ ان میں بہت زیادہ جذباتی باتیں شامل ہوتی ہیں جو کراہت آمیز ہوتی ہیں۔ تعلیم یافتہ اور با خبر افراد بھی افواہوں کے اثر سے بچ نہیں پاتے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ افواہ خواہ کیسی بھی ہو، اس کو ماننے یا مسترد کرنے کا انحصار آپ کی سیاسی وابستگی یا تعصب پر ہوتا ہے۔

افواہیں تشدد کو تحریک دیتی ہیں۔ مثلاً برما میں مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا کہ وہ زانی ہوتے ہیں اور بدھسٹ عورتوں کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبورکرتے ہیں۔ یا جیسے طالبان لیڈر فضل اللہ نے سوات میں افواہ پھیلائی تھی کہ لیڈی ہیلتھ وزیٹرز کنڈومز لے کر گھومنے والی طوائفیں ہیں۔ افواہوں سے نسلی اور لسانی اختلافات کو ہوا ملتی ہے جس کا نتیجہ روانڈا میں نسلی قتل عام کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اسی طرح ہندوستان میں گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ منشیات کی طرح افواہوں کی بھی لت لگ جاتی ہے۔ سکھ گارڈز کے ہاتھوں اندرا گاندھی کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی گئیں کہ سکھ دہلی کو ملنے والے پانی میں زہر ملا دیں گے۔

یہاں تک کہ اچھے مقاصد جیسے کسانوں کے احتجاج کے لئے بھی بغاوت کی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔ افواہوں کے نتیجے میں شہری افسانوی کردار جنم لیتے ہیں۔ جیسے جامعہ حفصہ کے معاملے اور ام حسان کی کتاب ” ہم پر کیا گزری‘‘ کے معاملے میں ہوا، جس میں لال مسجد کے محاصرے کے دوران عورتوں کی شہادت کے غیر تصدیق شدہ اور جھوٹے دعوے کیے گئے۔ انہوں نے سرکاری بیانیے کی تردید کے لئے صنفی حوالوں سے جذباتی حکمت عملی اپنائی (لیکن ان کے خلاف ابھی تک کسی نے ریاست دشمنی کا دعویٰ نہیں کیا)۔

ترقیاتی پراجیکٹس جن میں مانع حمل طریقے، ایچ آئی وی ایڈز، پولیو ویکسین، ایبولا اور آئیوڈائزڈ نمک کی کیمپئن شامل ہے کے بارے میں افواہوں کے ذریعے طرح طرح کی داستانیں پھیلائی جاتی ہیں جو بدنامی اور رسوائی کا موجب ہوتی ہیں اور رفاہی تنظیموں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ سات سال قبل اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لئے ایبٹ آباد میں گھر گھر جا کے ہپا ٹا ئٹس کے ٹیکے لگانے کا جو جال بچھایا گیا تھا وہ آج بھی پولیو کے قطرے پلانے والوں کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ غیرت کے نام پر ہونے والے تشدد کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کو افواہوں اور منظم انداز میں کی جانے والی گپ شپ کے اثرات کا اندازہ ہے۔

سیاسی افواہیں نقصان دہ ہوتی ہیں کیونکہ وہ پراپیگنڈہ کی شکل میں ہتھیار بن جاتی ہیں۔ چونکہ زیادہ تر افواہیں جنس، پیسے اور سیاست کے بارے میں ہوتی ہیں، اس لئے ریحام جس نے پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان سے شادی کی تھی، کی کتاب کے حوالے سے بوکھلاہٹ سمجھ میں آتی ہے۔ پی ٹی آئی کو افواہوں اور غلط معلومات کی طاقت کا اندازہ ہے کیونکہ اس نے رائے عامہ کو گورنمنٹ، بیوروکریسی یہاں تک کہ افتخار چوہدری کے زمانے میں عدلیہ کے خلاف بھی اس کو استعمال کیا ہے۔

بہر حال پی ٹی آئی کی پنتیس پنکچرز والی افواہ کو آسانی سے نہیں بھلایا جا سکتا۔ مشہور محاورے کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنماؤں کی الماریوں میں بہت سے ڈھانچے دفن ہیں اور آنے والے لوٹے اس میں اضافہ کر رہے ہیں۔ نقصان کو کنٹرول کرنے کا مطلب افواہ ساز فیکٹری کی ملکیت کو اپنے ہاتھ میں لینا ہے تا کہ پارٹی کی اخلاقی برتری جس کا وہ دعویٰ کرتی ہے، اس کے اثرات سے بچی رہے۔ اس کا مطلب اخلاقی، سیاسی اور مالی بد عنوانی کے الزامات اور عورت دشمن، بد ترین افواہیں پھیلا کر ریحام کو تباہ کرنا ہے۔

افواہ سازی کو رد بغاوت کے لئے استعمال کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ حقوق کی بات کرنے والے کو ملک دشمن قرار دے دیا جائے۔ سی پیک کا معاہدہ کر کے نواز شریف غدار نہیں بنا تھا مگر ہندوستان کو رقومات کی ترسیل کی جھوٹی افواہوں نے اسے غدار بنا دیا۔ اگر جنوبی پنجاب حقوق کا مطالبہ کرتا ہے تو وہ صحیح ہے لیکن اگر ایسا مطالبہ خیبر پختونخواہ سے آتا ہے تو غداری کی افواہوں پر آسانی سے یقین کر لیا جاتا ہے اسٹیریو ٹائپس اور نسلی، لسانی گروہو ں کے بارے میں پہلے سے پائے جانے والے مفروضات بھی کردار ادا کرتے ہیں۔

افواہوں کو غلط ثابت کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ باراک اوبامہ عیسائی پادری بن جائے، ہندوستان کے سارے مسلمان سبزی خور بن جائیں، کٹر ہندو جناح کیپ پہننے لگے تب بھی ان سب پر ہمیشہ شک کیا جائے گا۔ اور افواہ ساز فیکٹری کا مالک کبھی بھی ان کو پہلی جیسی صورت میں واپس لا سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

عافیہ شہر بانو ضیا کی دیگر تحریریں
عافیہ شہر بانو ضیا کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں