سوشل میڈیا اور ہمارے رویے


پچھلے پانچ سال میں ہمارے ملک کی سیاست نے تو رخ بدلا ہی بدلا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی رویوں میں جو تبدیلی آئی ہے اس نے بھی خطرے کے الارمز بجا دیے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سماجی تبدیلیاں اور نت نئی ایجادات ایک فطری عمل ہے مگر ان سماجی تبدیلیوں اور ایجادات کو انفرادی طور پر کس طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے یہ ہر شخص پرالگ الگ منحصر ہے۔

 آجکل جو جنگیں سوشل میڈیا پر لڑی جا رہی ہیں ان کو کنٹرول کر نا نا ممکن نظر آرہا ہے۔ اب پھر انتخابات کے دن قریب ہیں تو اس جنگ میں تیزی نظر آنے لگی ہے، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہوں یا افطار کے دسترخوان، ہر بندہ اپنی سیاسی وابستگی کی تلوار نکال کر دوسرے کو کاٹنے کے لئے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔ سماجی رابطوں کو آج کل اظہار رائے کی آزادی کے نام پر پوری طرح سے استعمال کیاجارہا ہے۔میرے خیال میں اظہار رائے کی آزادی کی تعریف بالکل مختلف ہے۔کسی بھی پوسٹ کے ذریعے ہم اپنی رائے کا اظہار کم اور فیصلے زیادہ کر رہے ہوتے ہیں، خواہ وہ سیاسی وابستگیوں سے متعلق ہوں یامذہبی۔اگر ایک لمحے کے لئے سوچ بھی لیا جائے کہ یہ اپنی رائے کا اظہار ہے تو اس اظہار کے بعد دوسرے کو بھی اظہار رائے کا حق دیا جا نا چاہئے۔ مگر یہاں صورتحال بالکل مختلف نظر آتی ہے کسی بھی پوسٹ یا کمنٹ سے متفق نہ ہونے کے بعد نا ختم ہونے والی جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے۔

میں اس کو سوچ میں شدت پسندی ہی کہوں گا جس کے تحت اپنی رائے کو دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کی جاتی ہے اوراگر  کسی سے اختلاف کیا جائے توکمنٹ در کمنٹ الفاظ کی تلخیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہو جاتاہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ مارک زکر برگ کمپنی نے تو کسی بھی پوسٹ کے نیچے کمنٹ کا آپشن دیا تھا جس کا لفظی مطلب رائے ہے مگر ہمارے معاشرے میں اس کو رائے سے زیادہ ری ایکشن کے طور پر لیا جاتا ہے۔

اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی سیاسی دیوانگی اور عقیدت کا فائدہ کیا ہے جس کی خاطر سالوں پرانے رشتے اور دوستیاں داؤ پر لگا دی جائیں، یہی سیاستدان جن کی خاطر ہم صبح شام کسی سے بھی لڑنے کو تیار بیٹھے ہوتے ہیں، ہمیں کیا فائدہ دیتے ہیں؟ اگر نہال ہاشمی اپنے سیاسی قائدین کے حق میں بولنے پر جیل کی ایک ماہ ہوا کھانے کے بعد بھی عدالت کے باہر میاں صاحب اور ان کی بیٹی سے ملنے سے روک دیا جاتا ہے اور ایک سیکیورٹی گارڈ کے بازو کے نیچے بے بسی کی تصویر بنا نظر آتا ہے تو ہم کس فائدے کے لئے اپنے رشتے قربان کرنے پر تلے ہوئے ہیں؟

اگر انسانیت کے پلڑے میں ایک طرف مذہبی اور سیاسی وابستگیاں رکھ دی جائیں اور دوسرے پلڑے میں رشتے تو آپ کو رشتوں کا پلڑا بہت ہلکا دکھائی دے گا۔ اگر ہم سیاسی اور مذہبی وابستگیوں کو اپنی ذات کی حد تک محدود رکھیں تو بہت سے رشتوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔یہ ممکن ہی نہیں کہ آپ کے خیالات سے سوشل میڈیاپر موجود آپ کے سینکڑوں دوست اور پھر دوستوں کے مشترکہ دوست جن کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہوتی ہے، وہ آپ کی کسی پوسٹ سے مکمل طور پر اتفاق کریں۔ یہی خرابی کا آغاز ہوتا ہے ۔

سیاست سے ہٹ کر اگر مذہبی اور مسلکی عقائد کی بات کی جائے تو وہاں بھی کم و بیش یہی ٹرینڈ نظر آئے گا۔ جب بھی کوئی مذہبی معاملہ سامنے آتا ہے تو ایک گروہ اس کے حق میں اور دوسرا اس کے خلاف فتوے دینے کے لئے تیار بیٹھا ہوتا ہے۔

یہاں پر بھی اگر لوگوں کو مذہبی عقائد پر اپنی ذات کی حد تک رہنے کی بات کی جائے تو ایک حدیث کو دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ اگر ایک برائی ہوتی نظر آرہی ہو تو اس کو ہاتھ سے زبان سے یا دل سے برا کہنا چاہئے۔

بحیثیت مسلمان اس حدیث سے بالکل بھی انکار نہیں کیا جا سکتا مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ برائی سب سے پہلے دوسرے میں ہی کیوں دیکھی جائے؟ اگر ہم اس حدیث مبارکہ کا آغاز اپنی ذات سے کر لیں اپنے اندر کی برائیاں تلاش کر کے انہیں اپنے ہاتھ اپنی زبان اور اپنے دل سے روکنے کی کوشش کریں تو میں یہ بات دعوے سے کہتا ہوں کہ اسی میں ہی اتنا وقت درکار ہو گا کہ کسی اور پر انگلی اٹھانے کا وقت ہی نہیں ملے گا، اور یہ خرابیاں معاشرے سے خود بخود ختم ہوتی نظر آنے لگیں گی۔

آج ہم مذہب کے ٹھیکے دار بن کرکسی بھی فردپر فتوی لگانے ،اسکے مذہب اور عقیدے کو غلط کہنے میں دیر نہیں لگاتے مگر کبھی ہم نے یہ بھی سوچا ہے کہ اگر ہم ایک مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں تو اس میں ہمارا کیا کمال ہے؟ اگر ہم اپنے باپ دادا کے عقیدے پر رہ کر دوسروں کے خلاف فتوے دیتے اور اپنے عقیدے کا دفاع کرتے ہیں تو اس میں ہماری کیا جیت ہے؟

پچھلے دنوں ایک نجی ٹی وی چینل پر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا ایک متنازعہ کلپ سامنے آیا پیمرا نے اس پر ایکشن لیا اور ڈاکٹر صاحب پر ایک ماہ کے لئے پابندی لگا کر معاملے کو نمٹا دیا مگر درحقیقت معاملہ یہاں رکا نہیں، بحیثیت مسلمان ہم نے اس معاملے پر اپنی رائے، رائے تو نہیں اسے بھی ری ایکشن کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا، کو مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے سوشل میڈیا کا استعمال بھرپور طریقے سے کیا۔چونکہ معاملہ دو مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کے درمیان تھا، دونوں نے اپنے اپنے دفاع میں فیس بک پیج بنانا شروع کر دیے اور ایک دوسرے کو مرتد اور کافر قرار دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ ہم میں سے کسی ایک نے بھی نہیں سوچا کہ میں اگر اپنے موقف پر ٹھیک بھی ہوں تو اس پر درگزر کرنا بھی ہمیں دین نے ہی سکھایا ہے۔ عفوو درگز ر کی تعلیمات کو پس پشت ڈال کر، اپنی برائیوں پر پردہ ڈال کر کسی دوسرے کو غلط قرار دینا کس حد تک ٹھیک ہے اس پر فیصلہ ہر شخص کو خود کرنا ہے۔

بقول بلہے شاہ
پڑھ پڑھ عالم فاضل ہویا
کدی اپنے آپ نوں پڑھیا ای نیں
جا جا وڑدا مسجداں مندراں اندر
کدی من اپنے اچ وڑیا ای نیں

 ہمیں اپنے آپ کو پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر کسی پر تنقید سے پہلے اپنے من کے اندر جھانکنا شروع کر دیں گے تو معاشرے سے زبان اور لہجوں میں تلخی کا خاتمہ شروع ہو جائے گا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
وقاص علی - اسلام آباد کی دیگر تحریریں
وقاص علی - اسلام آباد کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں