الیکٹیبلز کو ساتھ ملانے کا گناہِ بے لذت


انتخابی دنگل کا پہلا رائونڈ ختم ہونے کو ہے اور سیاسی جماعتیں اپنے اپنے امیدوارنامزد کرنے کے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہی ہیں۔ زیر نظر تحریر شائع ہونے تک مسلم لیگ (ن) اپنے امیدواروں کا اعلان کر چکی ہو گی۔ پیپلز پارٹی کی مفلوک الحالی کا یہ عالم ہے مفاہمت کے بے تاج بادشاہ آصف زرداری حامد سعید کاظمی کو ٹکٹ دینے کیلئے بذات خود ملتان تشریف لے گئے مگر انہوں نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے سے معذرت کر لی۔ اس سے پہلے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی بھی کراچی سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ لینے سے انکار کر چکے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر پیپلز پارٹی سے متعلق بھانت بھانت کے لطیفے زیر گردش ہیں جن میں سے سب سے دلچسپ لطیفہ یہ ہے پیپلزپارٹی کے رہنما لاہور کے چند گھروں میں پارٹی ٹکٹس پھینک کر فرار۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ سب کی نظریں نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ کرنے والوں پر ہیں۔ پی ٹی آئی کے ٹکٹ جاری ہوئے تو میڈیا پر بھونچال آگیا اور آفٹر شاکس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ناقدین کا اعتراض ہے کہ عمران خان نے پارٹی کے مخلص اور پرانے کارکنوں کو نظر انداز کرکے وفاداریاں تبدیل کرکے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے والے ’’لوٹوں ‘‘ کو ترجیح دی ہے۔ خواجہ آصف فرماتے ہیں کہ پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے 272 حلقوں پر ٹکٹ جاری کر دیئے ہیں اور ان میں سے 25 افراد تحریک انصاف سے بھی لئے گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کیلئے قربانیاں دینے والے اور کپتان سے بے لوث محبت کرنے والے ٹکٹوں کی تقسیم پر جی بھر کر اعتراض کر سکتے ہیں لیکن میرا خیال ہے کہ ان کے مخالفین کو اس بندر بانٹ پر انگلی اٹھانے کا کوئی حق حاصل نہیں کیونکہ اکھاڑے میں کس پہلوان کو کس سے مقابلہ کرنے کیلئے اتارنا ہے یہ ٹیم کی قیادت کرنے والے کا استحقاق ہوتا ہے اور پھر تکلف برطرف یہی ’’لوٹے‘‘ جب مسلم لیگ (ق) سے اپنے گھر واپس لوٹے تو آپ نے بھی 2008ء اور 2013ء میں انہیں خوش آمدید کہا اور ٹکٹ جاری کئے۔ یہ اور بات ہے کہ جس طرح باقی جماعتیں ان لوٹوں پر انحصار کرنے کا نتیجہ بھگت رہی ہیں اسی طرح کپتان کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ان نام نہاد الیکٹیبلز کے ساتھ عمران خان وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوں گے یا پھران لوٹوں کو ساتھ ملانے کا فیصلہ محض گناہ بے لذت ہی ثابت ہو گا؟ انتخابی سیاست کے اسرار و رموز پر نظر رکھنے والے میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جب مقبولیت کی لہر زقندیں بھرتی آگے بڑھتی ہے تو ان الیکٹیبلز کے سفینے ڈوب جاتے ہیں۔ آپ ماضی بعید کی مثالیں مد نظر نہ بھی رکھیں تو 2008ء اور 2013ء کے عام انتخابات میں بڑے بڑے برج الٹ جانے کے حوالوں کو کیا نام دیں گے؟ مثال کے طور پر چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی کے بارے میں کوئی سوچ سکتا تھا کہ انہیں گجرات میں اپنے آبائی حلقے سے شکست ہو جائے گی؟ شیخ رشید احمد جو 1985ء سے مسلسل الیکشن جیت رہے تھے اور فرزند راولپنڈی کہلایا کرتے تھے، انہیں ملتان سے آ کر الیکشن لڑنے والے جاوید ہاشمی نے چاروں شانے چِت کر دیا۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین کو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ حامد ناصر چٹھہ ہار گئے۔ وصی ظفر اور اویس لغاری کے سفینے ڈوب گئے۔ شیر افگن نیازی اور رائو سکندر اقبال اپنی نشستیں بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ 2008ء کا قصہ ہے اور 2013ء کی کہانی بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ نذر گوندل اور ندیم افضل چن جیسے الیکٹیبلز جن پر تحریک انصاف انحصار کر رہی ہے، گزشتہ انتخابات میں ہا رگئے۔ راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ اور چوہدری احمد مختار جیسے مضبوط امیدوار اس لہر کے سامنے نہ ٹھہر سکے۔ منظور وٹو، فردوس عاشق اعوان اور صمصمام بخاری کو شکست ہوئی۔ اے این پی کے خلاف جو لہر اٹھی، اسفند یار ولی، غلام احمد بلور اور میاں افتخار حسین جیسے الیکٹیبلز اس کی زد میں آگئے۔ آپ یہ تمام حوالے خاطر میں نہ بھی لائیں تو NA154 لودھراں کا ضمنی الیکشن ایک ڈرائونے خواب کی طرح پریشان کرتا رہے گا۔ جہانگیر ترین کے فرزند علی ترین جو ہیلی کاپٹر پر اپنی انتخابی مہم چلا رہے تھے اور تحریک انصاف یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ معاملہ الیکشن جیتنے کا نہیں بلکہ لیڈ اور مارجن بڑھانے کا ہے، انہیں مسلم لیگ(ن) کے ایک غیر معروف امیدوار پیر اقبال شاہ نے 25000 ووٹوں سے شکست دیدی۔ جو ادھار پر لی گئی ایک چھوٹی گاڑی پر ووٹ مانگتے رہے۔

اگر پانچ برس قبل 2013ء میں ہونے والے عام انتخابات کی بات کریں تو قومی اسمبلی کے تین حلقوں پر الیکشن ملتوی ہو گئے باقی 269نشستوں میں سے 40حلقوں پر تحریک انصاف نے کوئی امیدوار کھڑا نہیں کیا۔ 229حلقے جہاں پی ٹی آئی نے ٹکٹ جاری کئے ان میں سے 93امیدواروں کی ضمانتیں ضبط ہو گئیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کاسٹ ہونیوالے ووٹوں میں سے 12.5فیصد ووٹ بھی حاصل نہ کرسکے۔ پی ٹی آئی نے 28نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور بعد ازاں ضمنی انتخابات میں شکست کے بعد ان نشستوں کی تعداد 25رہ گئی۔ تقریباً 20حلقے ایسے تھے جہاں سے پی ٹی آئی مقابلے کی پوزیشن میں تھی یعنی ایک ہزار سے دس ہزار ووٹوں کے مارجن سے جیت یا ہار کا فیصلہ ہوا۔ ان میں سے بھی کئی سابق ارکان قومی اسمبلی کو ٹکٹ نہیں ملا یا انہوں نے پارٹی چھوڑ دی لیکن فرض کریں حالات موافق ہیں، قسمت کی دیوی مہربان ہے اور پی ٹی آئی نہ صرف 2013ءمیں جیتی گئی 25نشستیں واپس لینے میں کامیاب ہو جاتی ہے بلکہ ان 20نشستوں پر بھی اسے کامیابی نصیب ہوتی ہے جہاں گزشتہ عام انتخابات میں سخت مقابلہ نہیں ہوا تو بہر حال مقابلے کی فضا تھی۔ اگرچہ الیکٹیبلز کے بارے میں پہلے سے بتا چکا ہوں کہ جب کوئی لہر آگے بڑھتی ہے تو کس طرح انہونیاں ہو جاتی ہیں اور بڑے بڑے برج الٹ جاتے ہیں لیکن باالفرض محال ایسا نہیں ہوتا تو کیا پوزیشن ہو گی؟

حال ہی میں پی ٹی آئی نے دیگر جماعتوں سے آنے والے جن الیکٹیبلز کو ٹکٹ دیئے ہیں ان میں سے ہر ایک کا جائزہ لیا جائے اور انتہائی فراخدلی کیساتھ تجزیہ کیا جائے تو زیادہ سے زیادہ 25 الیکٹیبلز کے جیتنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ یوں کھینچ تان کر بھی پی ٹی آئی کی متوقع نشستوں کی تعداد 70تک پہنچتی ہے جبکہ حکومت بنانے کیلئے کتنی نشستیں درکار ہوتی ہیں، یہ تو پی ٹی آئی کے دوستوں کو معلوم ہی ہوگا۔ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ بھرپور تائید و حمایت کے باوجود پی ٹی آئی کی انتخابی مہم وہ مومینٹم حاصل نہیں کر سکی جو گزشتہ عام انتخابات کے موقع پر دکھائی دیتا تھا اور اس کے برعکس نوازشریف کے اس بیانئے نے عوام میں خاصی پذیرائی حاصل کی ہے کہ’’ووٹ کو عزت دو‘‘تو کیا اسٹیٹس کو کی علامت سمجھے جانے والے نام نہاد الیکٹیبلز کو ساتھ ملانے کا فیصلہ گناہ بے لذت ثابت ہو گا ؟ میرے نزدیک تو اس سوال کا جواب ’’ہاں ـ‘‘ ہی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں