کیا حکومتِ پنجاب کا ٹوئٹر اکاؤنٹ نون لیگ کی تشہیر کر رہا ہے؟

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو، لاہور


پاکستان میں گذشتہ حکومت نے 31 مئی کو اپنے پانچ سال مکمل کیے۔ ان پانچ سالوں میں مرکز اور صوبائی حکومتوں نے جو ترقیاتی کام یا فلاحِ عامہ کے اقدامات کیے ان کا چرچا ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی کیا جاتا رہا۔

ان میں سب سے زیادہ سرگرم پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی حکومت رہی جس کی زیادہ تر توجہ ٹوئٹر پر مرکوز رہی۔

سابق وزیرِ اعلٰی پنجاب شہباز شریف کا ایک ذاتی اکاؤنٹ ہے جس کو فالو کرنے والوں کی تعداد لگ بھگ 40 لاکھ کے قریب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے سابق ہونے کے باوجود اس اکاؤنٹ کا ہینڈل یعنی شناخت آج بھی سی ایم شہباز یعنی چیف منسٹر شہباز ہی ہے۔

صوبہ پنجاب میں گذشتہ پانچ سالوں کے دوران ہونے والے ہر ترقیاتی کام کا حوالہ آپ کو اس اکاؤنٹ پر مل جاتا تھا جس سابق وزیرِ اعلٰی کا عملہ چلاتا ہے۔

اس کے علاوہ حکومتِ پنجاب نے از خود ایک عدد اکاؤنٹ پنجاب گورنمنٹ کی نام سے بھی بنا رکھا تھا جس کو فالو کرنے والوں کی تعداد دو لاکھ سے کچھ زیادہ تھی۔

تاہم اب حکومتِ پنجاب کے ٹویٹر پر دو اکاؤنٹ سامنے آ گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قائم مقام وزیرِ اعلٰی پنجاب حسن عسکری کے آٹھ جون کو عہدے کا حلف اٹھانے کے ساتھ ہی حکومتِ پنجاب کا تصدیق شدہ پرانا اکاؤنٹ ’آرکائیو‘ کر دیا گیا ہے۔

ٹوئٹر کی بحث

پاکستان تحریکِ انصاف نے ٹویٹر پر حکومتِ پنجاب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اس عمل سے نہ صرف پاکستان کے عوام کا پیسہ ضائع کیا گیا بلکہ دانستاٌ پاکستان مسلم لیگ نون کی تشہیر کی جا رہی ہے۔

حکومتِ پنجاب کے آرکائیو اکاؤنٹ (پنجاب گورنمنٹ 18-2013) پر آخری ٹویٹ سات جون کو کی گئی جو سابق وزیرِ اعلٰی اور پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کی پریس کانفرنس کی ایک ویڈیو تھی۔

تاہم اس کے سرورق پر جو ٹویٹ چسپاں کیا گیا ہے یعنی جو سب سے پہلے نظر آتا ہے وہ دو منٹ انیس سیکنڈ کی ایک ویڈیو ہے جس کا عنوان ’پانچ سال جو اس صوبے کا خادم رہا۔۔۔اس کا ہر دن کیسا رہا؟‘

ٹوئٹر پر پی ٹی آئی کی جانب سے اس عمل پر حکومتِ پنجاب کا محاسبہ کیا گیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سرکاری اکاؤنٹ نے گورنمنٹ آف پنجاب اور پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئر مین ڈاکٹر عمر سیف کو مخاطب کر کے سوال پوچھا کہ پاکستانی عوام کے پیسوں سے بنایا جانے والا اکاؤنٹ پاکستان مسلم لیگ نون کی سابقہ حکومت کا آرکائیو اکاؤنٹ کیوں بنایا گیا ہے؟ اس کو جماعت کی تشہیر کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پنجاب انفرمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر عمر سیف کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ ’ایسی کوئی بھی پیش رفت میرے علم میں نہیں۔ یہ اکاؤنٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک ریلیشنز پنجاب سنبھالتا ہے۔‘

عوام کا پیسہ اور ٹوئٹر اکاؤنٹ

ڈکشنری کے مطابق آرکائیو وہ ریکارڈ یا دستاویز ہے جسے کسی چیز کے ثبوت کے طور پر محفوظ کیا گیا ہو۔ عموماً کسی بھی قسم کے سرکاری ریکارڈ یا ڈیٹا کو محفوظ کرنے کے لیے ایک مخصوص ادارہ ہوتا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکریٹری سوشل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آرکائیو کیا گیا اکاؤنٹ کسی فردِ واحد کا یا کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پنجاب حکومت کا اکاؤنٹ تھا۔

’اس کو آرکائیو کرنے کا مطلب ہے کہ جو نئی حکومت آئے گی وہ نئے سرے سے اکاؤنٹ بنائے گی۔ یعنی نئے سرے سے فالوور اکٹھے کرنے کے لیے حکومت کا مزید پیسہ خرچ ہو گا۔‘

ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز پنجاب نبیلہ غضنفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ پرانا اکاؤنٹ آرکائیو کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی پی آر پنجاب کے سوشل میڈیا وِنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے کا فیصلہ ’گزشتہ حکومت کی مدت ختم ہونے پر کیا گیا۔‘

شہباز شریف

حکومتِ پنجاب کے آرکائیو اکاؤنٹ پر آخری ٹویٹ سابق وزیرِ اعلٰی اور پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف کی پریس کانفرنس کی ایک ویڈیو تھی

پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے سیکریٹری ڈاکٹر ارسلان خالد کا کہنا تھا کہ اصولاٌ پنجاب میں آئندہ کسی بھی جماعت کی حکومت آئے اس کے ٹویٹ حکومت کے اسی بنیادی اکاؤنٹ سے کیے جانے چاہیے تھے جس کے دو لاکھ سے زیادہ فالوور ہیں۔

’اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اسے بنیادی طور پر پاکستان مسلم لیگ نون کے آرکائیو اکاؤنٹ میں تبدیل کر رہے ہیں۔‘

ڈاکٹر ارسلان خالد کا کہنا تھا کہ اس طرح آپ ایک ایسی مثال قائم کر رہے ہیں کہ جو بھی نئی جماعت حکومت میں آئے وہ اپنا علیحدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بنائے گی۔

پی ٹی آئی کے تنقیدی ٹویٹ پر ایک بحث شروع ہوئی جس میں چند افراد کا یہ بھی خیال تھا کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ ٹوئٹر پر کوئی سرکاری اکاؤنٹ آرکائیو کیا گیا ہو۔ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے ایک اکاؤنٹ کا حوالہ بھی دیا گیا جسے آرکائیوڈ کیا گیا تھا۔

تاہم اسے امریکہ کا نیشنل آرکائیوز اینڈ ریکارڈ ایڈمنسٹریشن کا ادارہ سنبھال رہا تھا۔

پی ٹی آئی کے ڈاکٹر خالد ارسلان اس پر امریکہ کے وائٹ ہاؤس کے اکاؤنٹ کی مثال دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں جب نئی انتظامیہ آئی تو پرانا ڈیٹا مٹا کر نیا شروع کر دیا گیا مگر اکاؤنٹ وہی رکھا گیا، اسے آرکائیو نہیں کیا گیا۔

پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی نشاندہی اور اس پر ہونے والی بحث کے کچھ دیر بعد پنجاب حکومت کا ایک اور اکاؤنٹ سامنے آیا۔

اس کا پتہ آرکائیو کیے گئے اکاؤنٹ پر دیا گیا۔ ’یہ پنجاب حکومت کا سنہ 2013 سے 2018 تک کا آرکائیو ڈیٹا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹ کے لیے نئے اکاؤنٹ پر کلک کریں۔‘ اس پر کلک کرنے سے جو صفحہ کھلتا ہے اسے ’گورنمنٹ آف دی پنجاب‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اس کے تاحال محض 842 فالوورز ہیں اور یہ صفحہ ستمبر 2016 میں قائم کیا گیا تھا جو کہ ٹوئٹر سے تصدیق شدہ بھی نہیں ہے۔ تاہم اب اس پر یہ درج ہے کہ یہ حکومتِ پنجاب کا سرکاری اکاؤنٹ ہے اور مزید یہ کہ حکومتِ پنجاب کا مئی 2013 سے جون 2018 تک کا آرکائیو ڈیٹا پرانے اکاؤنٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5664 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp