عمران خان کیخلاف سنگین الزامات موجود ہیں کہ ان کا ایک ’’Love Child‘‘ ہے؛ سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری


سابق چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کیخلاف مبینہ طور پر ان کی اور دولت مند برطانوی خاتون سیتا وائٹ کی اولاد کے معاملے پر سپریم کورٹ میں آرٹیکل 1-62 ایف کے تحت درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسٹر چوہدری کا ارادہ ہے کہ وہ عدالت سے یہ کیس 25؍ جولائی کے الیکشن سے قبل دوبارہ کھولنے کیلئے کہیں گے۔ ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کیخلاف سنگین الزامات موجود ہیں کہ ان کا ایک ’’Love Child‘‘ ہے، مجھے نہیں معلوم اردو میں ان الفاظ کو کیسے بیان کیا جائے کیونکہ ہماری بیٹیاں بھی یہ بات سن رہی ہوں گی، اگرچہ عمران خان پاکستان میں اس بیٹی کو قبول نہیں کرتے لیکن پاکستان سے باہر وہ اسے قبول کرتے ہیں۔ اپنی ایک ٹوئیٹ میں خاتون صحافی نسیم زہرہ نے تصدیق کی ہے کہ سابق چیف جج نے اُن پانچ حلقوں سے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کیا ہے جہاں سے عمران خان آئندہ الیکشن لڑنے جا رہے ہیں، اور یہ بھی کہ ہر امیدوار آئین کے آرٹیکل 1-62 ایف کے تحت عمران خان کی نامزدگی کو چیلنج کرے گا۔ مس زہرہ نے مزید لکھا ہے کہ سابق جج نے دعویٰ کیا ہے کہا انہوں نے وہ ثبوت حاصل کر لیے ہیں جن میں عمران نے ٹیریان کو پاکستان سے باہر اپنی بیٹی تسلیم کیا ہے لیکن پاکستان میں اس بات سے انکار کیا۔ پارلیمانی امیدوار کی اہلیت کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 1-62 ایف کے مطابق ایسا کوئی شخص رکن اسمبلی منتخب ہونے کا اہل نہیں جو سمجھدار اور پارسا نہ ہو، فاسق ہو اور ایماندار اور امین نہ ہو،

عدالت نے اس کے برعکس قرار نہ دیا ہو۔ نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا تھا کہ عمران خان کیخلاف اعتراض ریٹرننگ افسر کے پاس درج کرائیں گےآرٹیکل 62-1Fکے تحت عمران خان پر بڑا سنجیدہ نوعیت کا الزام ہے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی ہمارے ملک کا لیڈر ہو اس پر ایسا الزام نہ ہو عوام کا اعتماد لیڈر پر ہوتا ہے اور لیڈر کو بالکل صاف ستھرا ہونا چاہیے، یہ مسئلہ اپنے منطقی انجام تک پہنچے گا، پی ٹی آئی سربراہ دو بیٹے دکھاتے ہیں اور پاکستان سے باہر بیٹی سیتا وائٹ کو تسلیم کرتے ہیں لیکن پاکستان میں تسلیم نہیں کرتے۔ پاناما کیس پرسوال کے جواب میں افتخار چوہدری نے کہا میں اس پر بہت رنجیدہ ہوں، سپریم کورٹ نے 6؍ ماہ کا وقت دیا یہ کیس تو ایک ماہ میں ختم ہوتا ہے، نواز شریف اور اس کی پارٹی اس کیس کو چلنے نہیں دے رہی، کیس کو اتنا طول دیا، اس میں استغاثہ کی کمزوری ہے، ہم نے عمران خان کے خلاف پانچ کے پانچ حلقوں میں مد مقابل امیدوار کھڑے کیے ہیں، ان کے خلاف ہم یہ چیز عوام میں میں لے کر جارہے ہیں جو آر اوز ہیں وہاں ہم اعتراض داخل کریں گے اور اس اعتراض کا جو نتیجہ آئے گا وہ عوام کو بتائیں گے اس میں ایک شرط یہ ہوتی ہے کہ آپ اسے اُس وقت چیلنج کرسکتے ہیں کہ جب الیکشن ہورہا ہو، اگر کوئی شخص خود پاکستان کا وزیر اعظم پیش کرے یا رکن پارلیمنٹ کہلائے لیکن اپنی بچی سیتا وائٹ کو تسلیم نہ کرے اور اس کی باتیں ساری دنیا میں ہوں تو اگر میں نے اعتراض اٹھایا تو کونسی کوئی عجیب بات ہوگئی۔ 2007 میں شیر افگن نیازی نے ایک پٹیشن دائر کی تھی، اس وقت کے چیف الیکشن کمشنر نے نے کہا تھا کہ یہ اعتراض اس وقت اٹھانا چاہیے تھا جب کاغذات نامزدگی داخل ہوں، میری نظر میں یہ بات غلط تھی۔ ہم اس لئے اس ایشو کو اٹھا رہے ہیں کہ عوام کو پتا چلے کہ ہمارا لیڈر کیسا ہے اور عوام کو پتا ہو کہ ان کا لیڈر ایماندار اور صاف شفاف ہو۔ یہ صرف پاکستان کیلئے نہیں بلکہ ان کی اپنی بیٹی کیلئے انصاف کی بات ہے۔ ہم کبھی اپنے بچے کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کرسکتے چاہے وہ ہمارا جائزیا جیسا بھی ہو، جب ہم اپنانے سے انکار کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس اخلاقیات نہیں، ہم نے باپ کو یہ احساس دلانا ہے کہ آپ 62-1F کے تحت اس کے اہل نہیں کہ آپ پارلیمنٹ کا الیکشن لڑ سکیں، ہمارے پاس عمران خان کے خلاف بہت مواد ہے جس میں ان کے اپنے انٹرویوز ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس بنیاد پر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں، اگر ایسا نہ ہوا تو ہم الیکشن ٹریبونل میں اپیل دائر کریں گے اور آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہر آپشن استعمال کریں گے، رٹ فائل ہوگی اور آخر میں سپریم کورٹ آنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت الیکشن 60؍ روز میں کرانا ضروری ہیں، آئین کے آرٹیکل 224-A کو کیسے تبدیل کریں گے ؟جتنی بھی آوازیں انتخابات کی تاخیر کیلئے اٹھ رہی ہیں وہ غیر آئینی ہیں۔ الیکشن ایک دن بھی تاخیر کا شکارنہیں ہونا چاہیے۔ پنجاب کے نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری پر تنقیدکے حوالے سے پوچھے گئے سوال ان کا کہنا تھا کہ تمام پار لیمنیٹرین کی ناکامی کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا۔ سیاسی جماعتیں اگر ان پر اعتراض اٹھا رہی ہیں تو آئین میں اس کی کوئی گنجائش نہیں، پروفیسر حسن عسکری پڑھے لکھے شخص ہیں، انہیں متنازع بنانے کی گنجائش نہیں۔ کیا آئینی اور قانونی حوالے سے عمران خان کی پکڑ ہوسکتی ہے جو پہلے 6-7 سال میں نہیں ہوئی؟ کے جواب میں افتخار چوہدری نے کہا یہ نواز شریف کا فیصلہ آیا اس میں جو نا اہلی ہوئی ہے اس میں 62-1F کا دائرہ طے کیا گیا ہے۔ اب موقع ہے کہ عمران خان کو اس دائرے میں لا کر ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔ حدیبیہ کیس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اس پر کوئی نیا ریفرنس کیوں نہیں لائے، انہوں نے وہی پرانا ریفرنس جو 2016ءمیں کیا تھا اس پر ہی کارروائی کی، تین کیسز کو یکجا کرکے ایک فیصلہ دیا جا سکتا ہے، اس کیس سے ن لیگ کو الیکشن میں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، نیب کو چاہیے تھا کہ اس کیس میں دلچسپی لیتا، اگر نواز شریف اور مریم نواز کو سزا ہوتی ہے تو بھی مزید کارروائی کیلئے 6؍ ماہ کا عرصہ لگ جائے گا کیونکہ پھر ہائی کورٹ میں اپیل ہوگی اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں تو اس میں مزید 6؍ ماہ لگ سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں