پانامہ لیکس، جمہوریت، گرگ مستور اور احتساب


hashir ibne irshadاس ملک میں ہر وقت کچھ نہ کچھ خطرے میں ہوتا ہے۔ صبح اخبار کھولیں تو پتہ لگتا ہے کہ رات اسلام خطرے میں تھا۔ ناشتے تک وطن خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ دوپہر کا کھانا ابھی میز پر سجتا نہیں ہے کہ جمہوریت خطرے میں آ جاتی ہے۔ عصر کی نماز سے پہلے نظریاتی سرحدوں پر خطرے کے بادل چھا جاتے ہیں۔ اندھیرا چھانے تک غیرت کی رضیہ کو خطرات کے غنڈے گھیر لیتے ہیں ۔ رات کے بلیٹن میں ملکی وقار اور ساکھ کو خطرات کی ٹھوکر لگنی شروع ہو جاتی ہے اور سونے کے وقت تک پتہ لگتا ہے کہ ہماری تو پوری بقا ہی خطرے میں ہے۔

افسوس اس پر نہیں ہے کہ اس ملک میں رسی سے ڈرا کر لوگ سانپ کے کاٹے کا تریاق بیچتے ہیں۔ افسوس اس کا ہے کہ خریداروں کا ایک ہجوم ہے جو شعور کی قیمت پر دھوکہ خریدنے کو تیار بیٹھا ہے۔

یار لوگ قائل ہیں عوامی رائے کے۔ ہم بھی ہیں۔ بوٹوں کی چاپ سے وہ خائف ہیں۔ ہم بھی ہیں۔ آئین شکنی کے وہ ناقد ہیں۔ ہم بھی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہمارے لئے مفروضہ حقیقت نہیں ہے۔ مارگزیدہ ہم بھی ہیں پر ہر رسی کو سانپ نہیں مان سکتے۔ ممکنات کی دنیا بہت وسیع ہے۔ اسے وسیع رہنے دیجئے۔ جو سوال حق ہے اسے حق ماننے ہیں۔ اپنے خوف کی دیوار کے پیچھے اپنے ہی اعتماد کے قاتلوں کو چھپا لینا کون سی دانشمندی ہے۔

کیا احتساب کا حق سنگینوں کی نوک پر ہونا چاہئے؟ ہر گز نہیں۔ پر کیا اس کا مقابل بیانیہ احتساب کا حق ووٹ کی پرچی سے کرنے کا ہے؟ جی بالکل نہیں۔ ووٹ انتخاب کا پیمانہ ہے، احتساب کی چھڑی نہیں ہے۔ عوام نہ محتسب تھے، نہ ہیں اور نہ ہی ہوں گے۔ یہ ان کا کام نہیں ہے۔ اور رہ گئ ووٹ کی بات تو ووٹ کاروبار حکومت ایک طے شدہ حلف کے تحت چلانے کے لئے ایک مقررہ مدت تک آپ پر اعتماد کا اظہار ہے پر اس کا یہ مطلب کہاں سے نکل آیا کہ اس مدت میں آپ حلف کو بالائے طاق رکھ کر کاروبار کے اثاثے بیچنا شروع کر دیں اور کوئ انگلی اٹھائے تو رعونت سے اسے باور کروا دیا جائے کہ پانچ سال بعد کسی اور کو لے آنا اگر دل کرے تو مگر خبردار پانچ سال تک لب سی لو اور خاموش رہو ورنہ جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔

جمہوریت محض انتخاب سے عبارت نہیں ہے۔ اگر جمہوری اور آئینی ادراک نظام تشکیل نہیں دیتا۔ اداروں کی تعمیر نہیں کرتا اور اداروں کو ان کے دائروں میں آزادی سے کام کرنے کی ضمانت فراہم نہیں کرتا تو پھر ایسی جمہوریت سے خیر کی توقع رکھنا ایسا ہی ہے جیسے مرغے سے یہ توقع رکھنا کہ شاید وہ کبھی انڈے دینا شروع کرہی دے۔

جمہوریت اگر مسائل کا حل دینے میں ناکام ہے تو اس کا حل کیا ہے۔ اجتماعی شعور انسانی اب تک جمہوریت سے بہتر نظام نہیں دے سکا ہے تو یہ تو طے ہے جمہوری تسلسل کو توڑنے کی حمایت کسی طرح نہیں کی جا سکتی اور اس کو بہتر بنانے کی سعی ہی واحد راستہ ہے۔ اور یہ بہتری ایک عمل مسلسل ہے اسے انتقال اقتدار کے وقفوں سے عبارت مت کیجئے۔ ادارے دیکھئے، اداروں کی چال دیکھئے۔ ادارے مہاوت کے اشارے پر گج گامنی ادائیں دکھانے کے لئے نہیں بنے۔ آواز اٹھائیے کہ وہ اپنا کام کریں اور بلارو رعایت کریں۔ جمہوریت خود مستحکم ہو جائے گی۔

deiecptپانامہ کے ساحلوں سے تابخاک مارگلہ پہنچنے والی داستانوں نے برازیل، آئس لینڈ اور برطانیہ میں تو نہیں پر ہمارے ملک میں جمہوریت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ کوئی ٹی وی اسکرین سے جھانک کر بتاتا ہے کہ سب ایجنسیوں کی سازش ہے۔ کوئی کالموں کی کھڑکی کھولتا ہے اور “خبردار جاگتے رہنا ” کا نعرہ لگاتا ہے۔ کوئی فیس بک پر بوٹوں کی تصویریں لگاتا ہے، کوئی ٹوئٹر پر ایمپائر کی انگلی دکھاتا ہے تو کوئی جلسوں میں ” باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم” کی جگالی شروع کر دیتا ہے۔

اپوزیشن موقع پرستی کر رہی ہے۔ بالکل درست۔ سیاستدان ہوس اقتدار میں نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ بجا فرمایا۔ عمران خان وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ دریں چہ شک۔ پر بھائی اس میں غلط کیا ہے۔ منٹو کا ایک افسانہ ہے یزید۔ اس میں افواہ اڑتی ہے کہ ہندوستان پاکستان کے دریاؤں کا پانی بند کر دے گا کیونکہ جنگ چھڑنے والی ہے۔ ایک گاوں کی چوپال کا منظر ہے جہاں دیہاتی ہندوستان کو گالیاں دیتے ہیں۔ برا بھلا کہتے ہیں۔ اسی میں ایک کردار کریم داد کا بھی ہے جو مختلف بات کرتا ہے۔ سن سینتالیس میں اس کا باپ بلوائیوں کے ہاتھ مارا جاتا ہے۔ مکان، کھیت کھلیان فسادات کی نظر ہوتے ہیں پر کریم داد کسی کو الزام نہیں دیتا۔ اور اس دن چوپال میں کریم داد کیا کہتا ہے۔ منٹو کی زبانی ہی سنئے

 “دشمن سے میرے بھائی رحم و کرم کی توقع رکھنا بیوقوفی ہے۔ لڑائی شروع ہو اور یہ رونا رویا جائے کہ دشمن بڑے بور کی رائفلیں استعمال کر رہا ہے ہم چھوٹے بم گراتے ہیں وہ بڑے گراتا ہے۔ تم اپنے ایمان سے کہو یہ شکایت بھی کوئی شکایت ہے چھوٹا چاقو بھی مارنے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور بڑا چاقو بھی۔۔۔۔ کیا میں جھوٹ کہتا ہوں۔ “

مکالمہ آگے بڑھتا ہے۔ لوگ اسے دشمن کی حمایت کا طعنہ دیتے ہیں تو کریم داد کہتا ہے

“چوہدری جب کسی کو دشمن کہہ دیا تو پھر یہ گلہ کیسا کہ وہ ہمیں بھوکا پیاسا مارنا چاہتا ہے۔ وہ تمہیں بھوکا پیاسا نہیں مارے گا۔ تمہاری ہری بھری زمینیں ویران اور بنجر نہیں بنائے گا تو کیا وہ تہمارے لیے پلاؤ کی دیگیں اور شربت کے مٹکے وہاں سے بھیجے گا تمہاری سیر تفریح کے لئے یہاں باغ باغیچے لگائے گا۔ “

دلیل ختم ہوتی ہے تو لوگ جھنجلاتے ہیں پر کریم داد بس نہیں کرتا۔ آخر میں طنزاً یوں بات ختم کرتا ہے

” عجیب سی بات ہے کہ لڑائی شروع کرنے سے پہلے دشمن سے نکاح کی سی شرطیں پڑھوائی جائیں۔۔۔۔ اس سے کہا جائے کہ دیکھو مجھے بھوکا پیاسا نہ مارنا بندوق سے اور وہ بھی اتنے بور کی بندوق سے البتہ تم مجھے شوق سے ہلاک کر سکتے ہو”

تو حضور حزب اختلاف کا اور کام کیا ہے۔ اگر وہ آپ کی مدح سرائی کرتی رہے تو حزب اختلاف کیوں کہلائے۔ موقع سے فائدہ نہ اٹھائیں تو کیا ہاتھ پر ہاتھ دھرے آپ کی اگلی باری کے منتظر بیٹھے رہیں۔ شور نہ مچائیں تو اپنا سیاسی وجود کیسے قائم رکھیں۔ نکتہ چینی نہ کریں تو آپ کے حاشیہ بردار بن جائیں کیا۔ جب آپ کو موقع ملا تھا تو جناب راجہ پرویز اشرف، آنجناب یوسف رضا گیلانی اور ظل سبحانی حضرت آصف زرداری کو آپ نے کونسی رعایت دی تھی۔ یہ بھی جمہوری اقدار ہی ہیں۔ ان کا کام ہے تیر برسانا، آپ اپنا دفاع کیجئے پر ان کے تیر بھی اتنے ہی جمہوری ہیں جتنی آپ کی سپر۔

ان کو اقتدار کا لالچ ہے تو آپ کون سا دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے انتخابی مہم میں کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں۔ یہ اقتدار کی جنگ ہے اس ننگی سچائی سے کیا بھاگنا۔ اگر آپ کے لئے اقتدار کی دیوی کی پوجا جمہوریت میں جائز ہے تو پھر ان کے لئے کیوں شجر ممنوعہ ہے۔ آپ کا عشق عشق اور ان کا عشق ہوس۔

خان صاحب وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ تو اور کیا بننے کی خواہش رکھیں؟ سیاسی جماعتوں کے لیڈر کونسلر بننے کی خواہش رکھنے سے تو رہے۔ آپ کی دفعہ تو آپ نے آئینی ترمیم تک کر ڈالی کہ وزیراعظم بننے کا راستہ صاف ہو جائے۔ کچھ لوگوں نے رنگ میں بھنگ نہ ڈال دی ہوتی تو آپ تو ایک قدم آگے امیرالمومنین بننے کو تلے بیٹھے تھے۔ عمران کو بھی اپنے داو پیچ آزما لینے دیں۔ ہاں اگر خان صاحب کسی ایمپائر کے سہارے کسی غیر آئینی سیڑھی پر چڑھ کر دھم سے محفل اقتدار میں کودنے کی کوشش کریں تو ایک پتھر مجھے بھی پکڑائیے کیونکہ پھر رجم جائز ہے۔ ہاں کوئی یہ پوچھ بیٹھا کہ آپ کا سیاسی سفر کون سی آئینی چھتر چھایا میں شروع ہوا تھا تو پھر پہلا پتھر کون مارے گا؟

اگر افواج نے دھرنے کے وقت حکومت کا دھڑن تختہ نہیں کیا۔ پارلیمنٹ پر حملے کے بعد طالع آزمائی نہیں کی۔ میمو گیٹ کے وقت گیٹ کریش نہیں کیا تو پھر اب بھی خاطر جمع رکھئے۔ یوں بھی جب ان کا آنے کا دل ہو گا تو پھر بہانے خود ہی بن جایا کرتے ہیں۔ بچپن میں بھیڑیے اور میمنے کی کہانی تو پڑھی ہی ہو گی۔ لیکن یاد رکھئے کہ بلاوجہ بھیڑیا بھیڑیا چلانے سے رہا سہا اعتبار بھی چلا جاتا ہے۔

عوام بیچاروں نے کیا احتساب کرنا ہے۔ لاڑکانہ اور نوشہرو فیروز میں غربت کا اور بھٹو کا بھوت چار دہائیوں سے اکٹھے محو رقص ہیں۔ تھر میں جانور اور انسان ایک ہی جوہڑ سے پیاس بجھاتے ہیں پر ووٹ سائیں کا ہی ہے۔ بلوچستان میں ساری اسمبلی راتوں رات وفاداری بدلتی ہے پر عوام سردار کے در پر ویسے ہی جھکتی ہے۔ بوریوں اور گولیوں کا کاروبار شروع ہوئے تیس سال ہونے کو آئے پر بھائی بھائی ہی رہا۔ رنگ روڈ سے کسی جگہ سے نیچے اتریئے۔ دو سو گز بعد ابلتے گٹر، کوڑے کے ڈھیر اور ٹوٹی سڑکیں ملیں گی۔ ہسپتالوں کے برآمدوں میں مرتے سسکتے مریضوں کا ڈھیر ملے گا۔ ہر سال ٹوٹے بند جنوبی پنجاب کو ڈبوتے ملیں گے۔ دانش اسکولوں کے سائے میں چھت اور استاد کے بغیر اسکول ملیں گے پر میاں دے نعرے ہی وجن گیں۔ الیکشن میں جیل میں بند ڈاکو جیتے گا۔ پیر کی گدی جیتے گی۔ گھی والی فیکٹری کا پیسہ جیتے گا۔ چائنا کٹنگ جیتے گی۔ لینڈ مافیا جیتے گی۔ جعلی ڈگری جیتے گی۔ ذات جیتے گی۔ برادری جیتے گی۔ اور تو اور قیمے کا نان اور بریانی کی پلیٹ جیتے گی۔ منشور اور احتساب کے ہجے تو عوام کو سکھا دیجئے پھر ان سے توقع لگائیے گا۔ حبیب جالب نے کہا تھا “دس کروڑ یہ گدھے جن کا نام ہے عوام”۔ اب فرق یہ پڑا ہے کہ دس کی جگہ بیس ہو گئے ہیں تاہم جینیاتی اجمال وہی ہے۔ برا لگے گا پر سچ اکثر برا لگتا ہے۔

اداروں سے کروائیے احتساب۔ احتساب کی آوازوں کا گلا اس ڈر سے مت گھونٹیں کہ کہیں آواز کے سہارے شکاری نشانہ نہ لگا بیٹھیں۔ اس ملک میں پولیس کے نام کا ایک ادارہ ہے جو پکڑنے پر آئےتو دھنیا چور کو بھی پکڑ لاتا ہے۔ ایک عدلیہ ہے جو اس دھنیا چور کو بھی جیل بھیجنے سے نہیں چوکتی۔ ایک بینک دولت پاکستان ہے جس کی اجازت بنا کوئی پیسہ باہر نہیں لے جا سکتا چاہے ایان علی جیسا حسن ہی کیوں نہ پاس ہو۔ ایک ایف بی آر ہے جو ماشاءاللہ ہر ٹیکس دہندہ اور نادہندہ پر شکرے کی سی نظر رکھتا ہے۔ ایک ایف آئی اے ہے جو اخبار کی ایک خبر پر چینل بند کر مالک کو دھکے مار مار سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کی طاقت رکھتی ہے۔ بین الاقوامی مقابلوں میں پہلا انعام جیتنے والی انٹیلی جنس ایجنسی ہے۔ اتنے سارے نابغوں کے ہوتے یہ کمیشن کمیشن کھیلنا کوئی زیب نہیں دیتا۔ عوام سے کہئے کہ نکلیں سڑکوں پر ان اداروں کی تقدیس بحال کرنے کے لئے۔ ان کی نادیدہ زنجیروں کو کاٹنے کے لئے۔ ان کے گلوں میں پڑے طوق اتارنے کے لیے۔ ایک دفعہ یہ ہو جائے پھر کتنا مشکل رہے گا جاننا کہ پیسہ آیا کہاں سے اور گیا کہاں پر۔ ہاں ایک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور ایک آڈیٹر جنرل تو رہ ہی گئے۔ امید ہے کہ کل وہ وزارت اطلاعات سے یہ پوچھیں گے کہ شریف خاندان کے دفاع کی جارحانہ تشہیری مہم حکومت پاکستان کے پیسوں سے کیونکر چلائی جا رہی ہے۔ اور سینہ زوری یہ کہ چھپ کر نہیں بلکہ ببانگ دہل حکومت پاکستان کے نشان کے ساتھ۔ ذرا ہم بھی تو جانیں کہ کس آئینی شق اور کس قانون کی چھتر چھایا میں یہ ممکن ہے۔

یہ بات تقریبا طے ہے کہ پانامہ کے قضیے میں قانون مجبور محض ہی ٹہرے گا۔ 1992 سے لے کر 1999 تک کا تحفظ سرمایہ کاری قانون عمرو عیار کی وہ ردا تھی جسے اوڑھ کر دولت پرائے ساحلوں پر اتری تھی۔ پوچھ گچھ خود ہی خلاف قانون تھی۔ سیاں بھئے کوتوال تو ڈر کاہے کا۔ پھر 1947 سے لے کر آج تک کے دے کے نصف درجن ممالک کے علاوہ کسی سے تبادلہ معلومات کا کوئی معاہدہ ہی نہیں کیا گیا کہ حکومتی بزرجمہر معلومات کو سم قاتل سے کم نہیں گردانتے کہ کہیں کوئی آگہی کا در ہی وا نہ ہو جائے۔ تو کھودنے سے چوہا نکلنے کا بھی امکان نہیں پر آواز اٹھے گی تو بات تو ہو گی۔ اخلاقیات ہمارے لئے اجنبی دنیا سہی پر پہلا قدم اٹھائیں گے تو ہی کھوج کا سفر شروع ہو گا۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں یہ سرگوشیاں توانا ہو ہی جائیں گی۔ آواز کا گلا مت گھونٹیں۔ اس میں اپنی آواز بھی ملائیں۔ شعور کی تعمیر کیجئے، خوف کی نہیں۔ گریبان پر ہاتھ ڈالنے دیجئیے۔ قبا بہت کچھ چھپا لیتی ہے۔ ذرا گرگ مستور کو عریاں ہو لینے دیں۔ پہچان ضروری ہے۔

 


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

2 thoughts on “پانامہ لیکس، جمہوریت، گرگ مستور اور احتساب

  • 29-04-2016 at 11:48 pm
    Permalink

    دیوار کو شیشہ کردیا کہ دیوار کے پار صاف صاف دکھائی دے۔۔۔
    مگر کیا کوئی آنکھ کھول کر “دیدِ نظارا” کا تمنائی بھی ھے ؟؟؟؟؟؟
    چلو ھم تو دیواروں کو شیشہ بناتے جائیں، شاید آج نہیں تو کل ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دلربا تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حسبِ معمول

  • 01-05-2016 at 10:01 am
    Permalink

    Brilliantly elaborated

Comments are closed.