قوم بنانی ہے تو تعلیم،فنون اور صحت پر خرچ کیا جائے، حسن عسکری


 
اگر آپ صحافت کے طالبعلم ہیں تو سینئر صحافیوں کالم نگار،تجزیہ نگار اور ادبی شخصیات سے ملاقاتیں ضرور کرنی چاہیں ملاقات سے جہاں معلومات میں اضافہ ہوتا ہے وہاں شخصیت سازی اور اپنے شعبہ میں سیکھنے کے بہت سے مواقع بھی میسر آتے ہیں ۔ڈیڑھ سال قبل عالمی حالات  اورسیاست کے بارے کچھ سوالوں کے جواب جاننے کے لئے تجزیہ نگار اور کالم نگار پروفیسر حسن عسکری سے ملاقات کی  تین گھنٹے کی ملاقات میں تسنیم نیوز ایجنسی کے لئے آدھے گھنٹے میں انٹرویو کیا اور باقی وقت صحافت کے موضوع پر طویل گفتگو ہوئی ۔ انہوں نے نصیحت کی کہ صحافت کے طالبعلموں کو اپنامطالعہ زیادہ سے زیادہ بڑھانا چاہئے اور تاریخ پر خصوصی رکھنے چاہئے
 ۔انٹرویو میں ان سے دنیا کے مستقبل اور نیو ورلڈ آرڈر پرگفتگو کا سلسلہ چلا تو بتایا کہ آئندہ کی صدی میں نالج ،اقتصادیات اور دوستیاں کسی بھی ملک کے لئے تین اہم فیکٹرہونگے  نیا ورلڈ آرڈر پرانے سے مختلف ہوگا۔روس ایک بڑے پلئیر کے طور پر سامنے آرہاہے مغرب سے مدد کے بعداپنے مسائل سے نکل چکاہے طاقت بن کر آرہاہے چین نے بھی بین الاقوامی کردار بنا لیا ہے آئندہ صدی میں نالج اور ٹیکنالوجی اہم ہے جبکہ ماضی میں ایسا نہیں تھا ۔نیا ورلڈ آرڈر مشکل ہوگا جس میں دوستی اور مخالفت اہم ہوگی لیکن وہی طاقت بن کر ابھرے گا جو اقتصادی ،نالج ٹیکنالوجی اور پارٹنر شپ میں آگے ہوگا ۔نئے ورلڈ میں امریکہ بے معنی نہیں ہوگا ہاں البتہ امریکہ سول سپر نہیں رہا ۔
میرا انٹرویو ایران کی ایک نیوز ایجنسی کے لئے  تھاپروفیسر حسن عسکری نے یہ جاننے کے باجود کہ یہ انٹرویو ایران میں فارسی میں بھی پڑھاجائے گا ہرگز اپنا جھکائو ایران کی طرف نہ رکھا بلکہ حقائق کو واضح اور شفاف انداز میں بیان کیاانہوں نے تجزیہ نگاری میں کسی طرف بھی جھکائو نہیں رکھا ۔ جب بھی الیکشن قریب آتے ہیں تو عمومی طور پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس بات کو دہرایاجاتا ہے کہ ہمیں پڑھے لکھے سیاست دان آگے لانے چاہیں تاکہ ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے والنے ملک کو بہترین راہ کی طرف گامزن کریں لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ پروفیسر حسن عسکری کی بطور نگران وزیر اعلی پنجاب ،مسلم لیگ نون کی جانب سے مخالفت کا سلسلہ شروع ہوا اور کارکنان اور قیادت کی جانب سے جانبدار ہونے کا الزام لگایا گیا ۔
پروفیسر حسن عسکری روایتی سیاست دانوں کی طرح ہرگز نہیں ان سے دریافت کیا کہ جب مارشل لا لگتا ہے تو لوگ کہتے ہیں جمہوریت ہی اچھی تھی جب جمہوریت آتی ہے تو عوام کہتی ہے مارشل لا کا زمانہ اچھا تھا آپ کیا سمجھتے ہیں کونساحکومتی نظام بہترہے ؟تو سید ڈاکٹر حسن عسکری کہتے ہیں دونوں نظاموں میں مسائل ہیں  مارشل لا آتا ہے تو وقتی طور پر مسائل کو حل کرتا ہے لیکن سیاسی و اقتصادی مسائل کو حل نہیں کر پاتا ۔سیاسی مسائل میں جمہوریت اور کرپشن مل چکے ہیں سوال یہ ہے کہ جمہوریت کس کے لئے ہے اشرافیہ اور کرپشن کے لئے  ہے یا عوام کے لئے ۔ جمہویت تب تک کامیاب نہیں ہوگی جب تک عوام کی بہتری کے لئے کام نہیں کرے گی ۔پاکستان میں جمہوریت یاکوئی بھی نظام کامیاب نہیں ہوگا چاہئے فوج ہویا سول  ۔
آپ عوام کی صورتحال بہتر نہیں کرتے یا آپ سے عام آدمی کو کوئی فائدہ نہیں یعنی عام آدمی چاہتا ہے اس کاکچن چل جائے،بچوں کی تعلیم ہو ،اس کا مریض اسپتال کے فرش پر نا مرجائے ۔اس لئے اگر قوم بنانی ہے تو تعلیم،فنون اور صحت پر خرچ کیا جائے  پاکستان کا ریاستی نظام عام آدمی کے لئے نہیں ہے اس لئے انتہاپسندی بڑھ رہی ہے کیونکہ نوجوان اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی اپنا مستقبل نہیں دیکھ رہاہوتا۔
دوران انٹرویو میں نے 34 ممالک کے اتحاد پر مبنی فورس کے بارے  دریافت کرنا چاہا  تو انہوں نے اس بارے جو تجزیہ پیش کیا وہ من و عن سچ ثابت ہوا انہوں نے بتایا تھا کہ اگر یہ فورس بن جاتی ہے تو یہ سعودی فورس ہوگی ۔یہ فورس کوئی موثر فورس ثابت نہیں ہوگی کیونکہ دنیا بھر میں بسنے والے مسلمان سیاسی اورنظریاتی طور پر بھی ایک نہیں ہیں ۔جس فورس کا تذکرہ عرصہ سے سنا جارہا ہے وہ صرف کاغذپر موجود ہے یہ کوئی پریکٹیکل پروجیکٹ نہیں ہے البتہ سعودیہ کاغذی کارروائی کرتے ہوئے ایک ایسی فورس بنارہی ہے جس کا بنیادی کام سعودیہ کا دفاع کرنا ہوگا۔
انٹرویو کے اختتام پر ان سے آٹوگراف  لیا تو  لکھا
The Future is,what you make of  it
image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں