نواز شریف، چوہدری نثار سے ناراض کیوں ہیں؟


نواز شریف اور چوہدری نثار کا ساتھ جنرل ضیا کے زمانے سے ہے۔ یہ وہ دور تھا جب یہ دونوں نوجوان 1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں بننے والی مجلس شورا کے رکن منتخب ہوئے۔ چوہدری نثار ان چند اراکین مجلس میں سے ایک تھے جنھوں نے اس زمانے میں نواز شریف کو بے نظیر مخالف رہنما کے طور پر مسلم لیگ کا قاید بننے میں مدد کی تھی۔  تب سے دونوں کا ساتھ وقت کے ساتھ آنے والی آزمائش کی ہر گھڑی میں مضبوط ہی ہوا ہے۔ مشرف کے اقتدار پر قبضہ کرنے اور نواز شریف کی جلا وطنی کے بعد چوہدری نثار مسلم لیگ ن کے ان گنے چنے رہنماوں میں شامل تھے جو نواز شریف کے ساتھ وفادار رہے اور ہوا کی سمت دیکھ کر اپنا راستہ نہیں بدلا۔
تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے صورت حال یکسر مختلف  ہے۔ دونوں میں اختلاف اس حد تک شدید ہو چکا ہے کہ نواز شریف 2018 کے انتخابات کے لیے چوہدری نثار کو ٹکٹ دینے کو بھی تیار نہیں ہیں۔  بظاہر تو یہ اختلافات 30 مئی 2017 کے عدالتی فیصلے کے بعد کھل کر سامنے آئے۔ تاہم تعلقات میں اتار چڑھاو اس واقع سے خاصا پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ چوہدری نثار کا تعلق ایک بااثر  فوجی گھرانے سے ہے۔ اور ماضی میں وہ ہمیشہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور نواز حکومت کے درمیاں ایک پل کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ جب بھی نواز شریف کے فوج کے ساتھ تعلقات خراب ہوئے یہ چوہدری نثار ہی تھے جنھوں نے اپنے ذاتی کردار اور مداخلت سے سول عسکری تعلقات کو متناسب کیا۔
چوہدری نثار اپنی مختلف پریس کانفریسز اور انٹرویوز میں نواز شریف پر خوشامد پسندی کا الزام لگا چکے ہیں انکے بقول ان کے جماعت کی قیادت کے ساتھ اختلافات پیدا کروانے میں جماعت کے خوشامدی ٹولے کا ہاتھ ہے۔ جبکہ حالات و واقعات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملات اتنے سادہ بھی نہیں ہیں۔
ہمیں چوہدری نثار اور نواز شریف کے باہمی اختلافات کی بنیاد جاننے کے لیے تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا۔ دونوں کے تعلقات میں پہلی شکن 2013 میں اس وقت پڑی جب اقتدار سنبھالنے کے کچھ ماہ بعد نواز شریف نے چوہدری نثار کے اصرار پر جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف مقرر کیا۔ تاہم اسی عرصے میں وفاقی حکومت نے کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد اور تمام جماعتوں کی متفقہ رائے کے بعد طالبان سے مزاکرات شروع کیے۔ اس سارے عرصے میں اہم سکیورٹی و عسکری معاملات میں کچھ مبہم اور نا معلوم وجوہات کی بنا پر وزیر اعظم نے وزیر داخلہ کو اہم معاملات میں سایئڈ لاین کرنا شروع کردیا۔
عسکری حکام کے ساتھ روابط کے لیے چوہدری صاحب کی بجائے شہباز شریف پہ زیادہ انحصار کیا جانے لگا۔
2014 کا ایک اہم واقع تحریک انصاف کا اسلام آباد دھرنا تھا۔ حکومت سمجھتی تھی کہ اس دھرنے کے پیچھے ملک کی ایک خفیہ ایجینسیوں کا ہاتھ ہے جو نواز حکومت کو گرانی چاہتی ہیں۔ اور نواز شریف سمجھتے تھے کہ اس سارے معاملے میں چوہدری نثار نے اپنا کردار ادا نہیں کیا کیونکہ جنرل راحیل انھیں کی سفارش پہ آرمی چیف بن پائے تھے۔
وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے تعلقات میں مزید اختلفات اس وقت پیدا ہوئے جب جون 2014کے کراچی نیول بیس پر دہشتگردوں کے حملے کے بعد نواز حکومت نے طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا تو وزیر داخلہ چوہدری نثار اس آپریشن کے حامی نہیں تھے۔  تاہم ، اوپر بیان کیے گئے اختلافات زیادہ تر اختلاف رائے سے تعلق رکھنے والے تھے اور میرا خیال ہے کہ یہ اتنے شدید نوعیت کے نہیں تھے کہ اتنی زیادہ دوریوں کا سبب بن جاتے۔
تاہم دونوں کے تعلقات میں اصل اور بڑی دراڑ اس وقت پیدا ہوئی جب پانامہ کیس کی تفتیش کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی جس کی سربراہی ایف آئی اے کے اڈیشنل ڈائیریکٹر واجد ضیا کر رہے تھے۔۔  وہ صاحب نواز شریف کے خلاف ایسے ایسے ثبوت اور ڈاکیومنٹس نکال کر  لے آئے اور انھیں جے آئی ٹی رپورٹس کا حصہ بنا دیا کہ جنھیں منگوانے کے لیے یقینا وزارت داخلہ کی منظوری درکار ہوگی۔ یقینا اے ایس آئی اور دیگر ادارے بھی اس جے آئے ٹی کا حصہ تھے مگر سربراہی ظاہر ہے واجد ضیا کے پاس ہی تھی۔
اسی رپورٹ کی بنیاد پر بعد میں عدالت عظمی نے نواز شریف کو تا حیات نااہلی کی سزا سنا دی۔۔ نواز شریف سمجھتے ہیں کہ چوہدری نثار کو بحیثیت وزیر داخلہ تب اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تھا کہ آخر ان کا ایک ماتحت ان کے خلاف رپورٹ کیسے مرتب کرتا رہا اور انھیں کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔
پھر 30 جولائی 2017 کو اعلی عدلیہ کی جانب سے سنائے جانے والے اس فیصلے کے بعد نواز شریف اور مریم نواز نے عدلیہ اور فوج مخالف بیانات زور و شور سے دینے شروع کر دیے۔ چوہدری نثار صاحب نواز شریف کی اداروں کے خلاف اس جارحانہ حکمت اعملی کے بھی مخالف ہیں۔
دراصل دیکھا جائے تو دونوں کے اختلافات کی بنیاد کی نوعیت ذاتی سے زیادہ نظریاتی ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ گزرتے وقت کے ساتھ  نواز شریف کی سوچ تبدیل ہوتی نظر آرہی ہے۔ 1990 کی دہائی کے نواز شریف اور 2018 کے نواز شریف میں کافی فرق ہے۔ تب نواز شریف چوہدری نثار کی طرح فوج کے کندھوں پہ سوار ہو کر سیاست میں آئے تھے۔ ظاہر ہے عسکری ذہنیت آدمی کا قدامت پسند اور انتہا پسند جماعتوں کا حامی ہونا طے ہے۔اسی لیے شروع میں نواز شریف کی پالیسیز مزہب نواز تھیں جو کہ اب اس کے بلکل برعکس نظر آتی ہیں۔ تاہم چوہدری نثار شاید اب بھی اسی پرانی سوچ پر قایم ہیں۔
نواز شریف کی نہ اہلی کے بعد مریم نواز بھی عملی قیادت میں کود پڑیں اور ” ووٹ کو عزت دو” کی ملک گیر تحریک میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوئیں۔ چوہدری نثار نے مریم کو سیاست میں لانچ کیے جانے اور مستقبل قریب میں پارٹی کی اعلی قیادت سونپے جانے کے امکانات پر بھی اپنے شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ اور کھلے عام اعلان کیا کہ وہ اپنے سے کسی جونئیر ( مریم نواز) کی قیادت میں ہر گز کام نہیں کر سکتے۔ ان کے اس بیان سے نواز شریف خاصے ناراض ہیں۔
یہ نواز شریف اور چوہدری نثار کے مرتے ہوئے تعلق کے تابوت میں آخری کیل تھی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
وقاص صارم کی دیگر تحریریں
وقاص صارم کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں