میں یہ کتاب نہ پڑھنے کے لیے مرا جا رہا ہوں


 

اپنے ملک سے مجھے بہت سی شکایتیں لاحق رہی ہیں لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ یار لوگ کتابیں نہیں پڑھتے۔ یا پھر اتنی نہیں پڑھتے جس قدر پڑھنا چاہئیں۔ اتنے کروڑوں کی آبادی والے ملک میں نئی کتاب کی آمد روز روز کا واقعہ نہیں ہوتی۔ نئی کتاب چھپتی بھی ہے تو چند ہزار نہیں چند سو۔ پھر زیادہ تر کتابوں کے نسخے کتاب فروش کی الماری میں رکھے رکھے گرد آلود ہو جاتے ہیں۔ ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے والے بھی کم ہوتے ہیں۔ ایسا کہاں ہوتا ہے کہ کتاب کی آمد واقعہ بنے اور کسی نئی کتاب پر گرما گرم بات ہو، لوگ پڑھنے کے شوق کا اظہار کریں۔

لیکن لگتا ہے میری دُعا کا اُلٹا اثر ہوگیا۔ جیسے کھیت میں سوکھا پڑ رہا ہو اور بارش کی دعا مانگی جائے تو ہریالی کے بجائے ایسا جل تھل ہو کہ سیلاب آجائے۔ کتاب پڑھنے کی خواہش کی تھی مگر اتنی بھی نہیں جو پچھلے چند دن میں صورت حال نظر آرہی ہے۔ عبیداللہ علیم کا شعر بے اختیار یاد آرہا ہے:

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے

اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

مجھے ان کے نام کے صحیح ہجے بھی نہیں معلوم کہ اس میں کون سا والا ہ آتا ہے ورنہ یہ شعر میں محترمہ ریحام خان کی طرف مُنھ کرکے پڑھ دیتا لیکن مجھے گمان ہے کہ یہ کلام نرم و نازک ان پر بے اثر جائے گا۔ وہ تھوڑی بہت اردو تو سمجھ لیتی ہوں گی مگر شعر فہمی معلوم نہیں۔ میری بدگمانی کو تقویت اس اندازے سے پہنچی کہ چاروں طرف ان کی کتاب کے چرچے ہیں۔ وہ کتاب جو ابھی آئی بھی نہیں۔ جس محفل میں چلے جائو، یہی تذکرہ ہے، ٹیلی ویژن کے ٹاک شوز کو تو خیر ایسے سنسنی خیز معاملات کی تلاش رہتی ہے مگر ایک دو نہیں متواتر کئی چینلز پر خبروں میں یہی شہ سُرخی چلی آرہی ہے اور یہ نام سُن سُن کر کان پک گئے۔ ایک طرف سے الزام، دوسری طرف سے جوابی وار، کبھی عُذر تراشی تو کبھی اس سے بڑھ چڑھ کر الزام۔ اس فضا میں سانس بھی لو تو اسکینڈل سینے میں داخل ہونے لگتا ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے اس سے کوئی دل چسپی نہیں کہ ریحام خان نے کیا کہا ہے اور کیوں، کس کے راز افشاء کیے ہیں، کون سے گندے کپڑے بیچ بازار دھوئے ہیں بلکہ اچھالے ہیں، کتاب کب چھپ رہی ہے، اس پر ہتک عزّت کا دعویٰ کون کون سے عزّت دار کرنے والے ہیں، کون دم سادھے بیٹھے ہیں۔ مجھے ذرّہ برابر پروا نہیں۔ اپنے خاندان کے ایک مرحوم بزرگ یاد آگئے جو کسی بھی معاملے سے اپنی بے زاری یا برّیت کا اعلان کرنے کے لیے کہا کرتے تھے__ ارے ہوگا۔ ہٹائو، ہمیں کیا۔

کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ کسی کتاب کی خبر سے میں اس درجے بے زار ہو جائوں گا۔ لیکن یہ خبر بھی جس طرح چاروں سمت سے اُبلی، امڈی پڑرہی ہے کہ توبہ بھلی۔ اخباروں کی سرخیاں اس نے ہتھیالی ہیں اور ٹی وی کی ایک ایک گھنٹے بعد دُہرائے جانے والی وہی کی وہی خبریں اس ایک بات پر اٹک کر رہ گئی ہیں۔ جیسے سب سے بڑی خبر یہی رہ گئی ہے__ آرہی ہے، آنے والی ہے، خبردار، ہوشیار، دوڑو، پکڑو! میں سوچ رہا ہوں کہ سنجیدہ مسائل کیا ہوئے جن سے ہم ان دنوں یقینی طور پر دوچار ہیں۔ دریائوں کا پانی سوکھ رہا ہے، ماحول میں درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے، پہاڑوں کی برف پگھل رہی ہے، فصلوں کے نقصان کا اندیشہ ہے، پاکستان کی زمین کے لیے پانی کی شدید کمی کا خوف ناک اندیشہ سامنے آرہا ہے، ماحولیاتی تبدیلیاں، الیکشن کی گہما گہمی، نئی وزارتوں کا اعلان، عدالتوں میں جاری مقدمے، بدعنوانی اور رشوت ستانی کے نئے سامنے آنے والے ہوش ربا واقعات، کراچی کی وہی گندگی اور بدامنی، عورتوں کے خلاف مظالم کا کبھی نہ ختم ہونے والا سلسلہ، قتل، اغوا، غارت گری اور دہشت گردی — یہ ساری خبریں ثانوی ثابت ہوئیں۔ ان میں سے کوئی بھی بات نمایاں حیثیت حاصل نہ کرسکی۔ بس ایک یہی بات مسلسل سامنے آئے چلی جارہی ہے۔۔۔ ریحام خان بمقابلہ عمران خان۔ افواہ، الزام، دشنام۔۔۔

میں دونوں آنکھوں پر ہاتھ رکھ لینا چاہتا ہوں۔ میں کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینا چاہتا ہوں۔ میں چیخ چیخ کر اعلان کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ مجھے کوئی دل چسپی نہیں۔ وہ کون سے درونِ خانہ راز ہیں جو باہر آئی ںگے، کون سے پردہ نشیں ہیں جن کے نام سامنے آئیں گے، پردہ اٹھے گا تو کیا منظر نگاہوں کے سامنے آئے گا، کس کی خواب گاہ میں کون دبے پائوں داخل ہوا اور کون جوتیاں بغل میں داب کر باہر نکلا۔۔۔ میں یہ معلوم نہیں کرنا چاہتا۔ اور جب معلوم نہیں کرنا چاہتا تو میں اس کتاب کا انتظار بھی نہیں کروں گا۔ چاہے کتابوں کے لیے میری بے قراری دیوانگی کی آخری حدوں کو کیوں نہ چھولے۔

ایسا لگ رہا ہے باولے گائوں میں اونٹ آگیا۔ جیسے لوگوں نے اس سے پہلے کتاب دیکھی نہ ہو۔ ایسا ’’قحطِ کتاب‘‘ بھی نہیں کہ کسی کتاب کی اشاعت خبر نہ بنی ہو۔ ابھی اجتماعی یادداشت کا کفن میلا بھی نہ ہوا ہوگا کہ ہندوستان اور پاکستان کے خفیہ اداروں کے سربراہوں نے مل کر کتاب لکھی جس طرح چڑیا اور چڑے نے مل کر کھچڑی پکائی تھی کہ ایک لایا چاول کا دانہ اور دوسرا دال کا دانہ۔ یہ کتاب بھی خدا جانے کہاں سے گھومتی گھماتی بن مانگے بن ترسے واٹس ایپ میں ٹپک پڑی۔ میں نے سوچا، چلو کسی دن لاحول کے سوا کچھ اور پڑھنے کو نہ ہوگا تو یہ پڑھنے کی کوشش کر لوں گا۔ اس کی نوبت بھی نہ آئی۔ اسلام آباد میں مقیم دلیر اور باخبر صحافی خاتون نسیم زہرا کی کتاب کارگل کے معرکے کے بارے میں سامنے آئی جب ہندوستان اور پاکستان ایک دوسرے کے مقابلے میں بندوق تانے کھڑے تھے اور بس ایک گولی چلنے کی کسر تھی۔ میں اس کتاب کی آمد کی خبر بہت دن سے سُن رہا تھا۔ یہ خیال تھا کہ کتاب ایسے وقت سے آجائے کہ لٹریچر فیسٹول میں اس پر ایک بھرپور سیشن ہوجائے۔ ایک کے بعد دوسرا فیسٹول نکل گیا، کتاب نہ آئی۔ سننے میں آیا کہ مصنّفہ اس میں ترمیم اور اضافے کررہی ہیں۔ خدا خدا کرکے کتاب سامنے آئی تو اس پر بحث مباحثہ ہوا اور نہ گرما گرم گفتگو۔ اس لیے کہ جدھر پتّھر اٹھائیے تو وہی ریحام خان۔ دیکھیے تو وہی، سُنیے تو وہی۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں