اقلیتوں کے حقوق پر عدالتی احکامات پر عمل د رآمد کی رپورٹ وفاقی و صوبائی محکموں سے طلب


پریس ریلیز
11جون 2018ء

لاہور: چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار، جسٹس اعجاز الاحسن ، جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رُکنی بنچ نے لاہور رجسٹری میں 11 جون 2018ء کو سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد سے متعلق درخواست کی سماعت کی جو انسانی حقوق کی تنظیموں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق، ادارہ برائے سماجی انصاف، سیسل اینڈ آئرس چوہدری فاؤنڈیشن اور AGHS لیگل ایڈ سیل کی جانب سے ثاقب جیلانی ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی۔ درخواست میں سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ کے 19 جون 2014ء کو جاری کردہ فیصلے پر عمل درآمد کی استدعا کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران معزز جج صاحبان نے عدالتی فیصلہ کے سات خصوصی احکامات میں سے پہلے تین احکامات پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے عمل درآمدسے متعلق سوال کیا۔ مذکورہ احکامات میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مذہبی رواداری کے لیے حکمت عملی کی تشکیل کے لیے ٹاسک فورس قائم کرنا،سکول اور کالج کی سطح پر مذہبی اور سماجی رواداری کی ثقافت کے فروغ کے لیے نیا نصاب تیار کرنا ،اورسوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقریر کی حوصلہ شکنی اور ملوث افراد کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے اقدامات کرنا شامل ہے۔

درخواست گزاروں کا عدالت میں مؤقف تھا کہ حکومتوں نے عدالتی احکامات پر عمل در آمد کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے ہیں۔ مثلاً ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے اور نہ ہی نصاب اور سوشل میڈیا سے نفرت انگیز مواد کو حذف کیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے حکومت کی جانب سے عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر برہمی کا اظہار کیا اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز کوعدالتی احکامات پر عمل در آمد کی رپورٹ 28 جون کو سپریم کورٹ کے روبرو پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔

ادارہ برائے سماجی انصاف کے ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے عدالتی فیصلہ پر عمل درآمد کے لیے بنچ کی لمبے عرصے بعد بحالی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری درخواست کی سماعت کے لیے منظوری پر ہم عدالت ِ عظمیٰ کے شکر گزار ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ بنچ عدالتی احکامات پربلاتاخیر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے گا۔ہمارے ریاستی نظام اور معاشرے میں مذہبی امتیاز اور عدم رواداری پائی جاتی ہے لہذا وقت آن پہنچا ہے کہ پاک وطن میں مذہب کی بنیاد پر تفریق کو ماضی کا حصہ بنایا جائے نیز پُرامن اور روادار معاشرے کی تشکیل کے لیے اقدامات کئے جائیں۔

ثاقب جیلانی ایڈووکیٹ کی جانب سے تیار کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گزشتہ چار سال کے دوران سپریم کورٹ کے19 جون 2014ء کو جار ی کردہ فیصلے پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے عمل درآمد غیر تسلی بخش رہا۔ درخواست میں عدالتی احکامات کی عدم تعمیل کے دیگرشواہد پر مبنی ایک تحقیق”When Compliance Fails Justice” کا حوالہ دیا گیا ہے جسے ادارہ برائے سماجی انصاف نے مرتب کیا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں