اور بلاگ چھپ گیا۔۔۔


Kashif Ahmedایک احساس شکست ہے جو اعصاب پر حملہ آور ہونے کے لیے پر تول رہا ہے۔ سانس کی زیرو بم واضح طور پر ہائی بلڈ پریشر کو آشکار کر رہی ہے۔اندرونی تناؤ کا پول کھولنے کے لئے ماتھے پر پسسینے کی بوندیں نمودار ہونے کو ہیں۔۔۔ لیکن یہ سب تو صرف ظاہری اثرات ہیں اصل چنگاری تو دل میں سلگ رہی ہے، بھڑکنے کو تیار ہے۔ حسد، جلن… آپ کچھ بھی کہ لیجیے، خبر ہی ایسی ہے، ہمارے دوست معظّم صاحب کی مسکراتی تصویر موبائل سکرین پر جگمگا رہی ہے۔ ان کی مسکراہٹ اگر ہمیں للکار رہی ہے تو نیچے دیا ہوا لنک تو باقاعدہ منہ ہی چڑا رہا ہے۔ ۔۔۔  جی ہاں ان کا لکھا ہوا آرٹیکل ایک مقبول ویب میگزین میں شائع ہو گیا ہے۔ چھٹتے ہی لنک ہمیں بھجوا کر کہہ رہے ہیں، “کوئی تبصرہ”۔ ارے جناب تبصرہ جو دل میں آ رہا ہے، نا قابل اشاعت تو کیا ناقابل بیان بھی ہے۔۔۔ کسی پل قرار نہیں آ رہا۔۔۔ گویا انہوں نے اپنی علمی برتری کی مہر ثبت کر دی۔۔۔ کیا سوچیں گے یار احباب۔۔۔ مجال ہے کہ آج تک کسی دوبدو مجلسی بحث میں ایسی نوبت آئی ہو کہ کوئی اپنی برتری ثابت کر سکے۔ عالمی کساد بازاری ہو یا ماحولیاتی آلودگی، امریکن الیکشن ہوں یا جنوبی اشیائی خطّے میں طاقت کا بدلتا توازن، حتی کہ اہل محلہ کی دروں خانہ خبریں، عام طور پر ہر معاملے میں ہمارا ایک اٹل اور نا قابل رجوع موقف ہوا کرتا ہے جس کے سامنے یار لوگوں کو جلد یا بدیر سر جھکانا ہی پڑتا ہے۔ دلائل کے زور دار ہونے سے مطلب نہیں، ہماری آواز کی گھن گرج ہی دوسرے کو چپ کروانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔۔ رہے ہمارے وہ ٹھوس حقائق جو دوران بحث ہم ایسے تابڑ توڑ پھینکتے ہیں کہ مقابل کے اوسان خطا ہو جائیں کچھ ایسے بھی بے بنیاد نہیں کہ وہ جس مضبوط معلوماتی نیٹ ورک سے اٹھایے جاتے ہیں اس کا احاطہ فیس بک لے کر پڑوس کے رانا صاحب کی بیگم تک پھیلا ہوا ہے۔اول الذکر کی گواہ ہماری اپنی گناہ گار آنکھیں ہیں اور آخرالذکر کے لئے ہماری بیگم کے حسّاس کان اپنی لامحدود میموری کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں۔

خیرنچلے بیٹھنے والے ہم بھی نہیں، اگر ہماری قوت تقریر کے سامنے سب پانی بھرتے ہیں تو قوت تحریر بھی سر چڑھ کر بولے گی۔ قلم کاغذ لے کر بیٹھ گیے، پھر سوچا ویب میگزین میں لکھنا ہے تو قلم کاغذ کا کیا سوال، کمپیوٹر کھولو۔ خود کو داد عقل دی۔۔ آں لائن ہوئے۔ “کونسی ویب سائٹ کھولیں؟ “پاسباں عقل بولا، “ویب سائٹ کا مشہور ہونا قطعی ضروری نہیں، کہیں بھی چھپ جاتے بس لنک یار لوگوں کو فارورڈ کرنا ضروری ہے، اسے پھرسراہا اور داد و تحسین کی تھپکیاں دیں۔

کسی زمانے میں شکر خورے کو شکر مل ہی جاتی تھی، مفت ہی ملتی ہو گی وگرنہ ضرب المثل کا کیا سوال، بہرحال آج کل بھی مل جاتی ہے مگر پیسے دے کر۔ ایسے ہی انٹرنیٹ کے ڈھونڈے کو کیا نہیں ملتا۔۔۔
سامنے سکرین پی ویب سائٹ کھلی پڑی ہے، “زلزلہ ڈاٹ کام” سر ورق پر لکھا ہے، ” نئے لکھنے والوں کے لئے اک جہاں نو۔۔۔ . آگے بڑھئے۔۔۔ جو دل میں ہے لکھ ڈالیے۔۔۔ . آپ کی تحریر، حکومت کی صفوں میں ۔۔۔ . باطل کےایوانوں میں ۔۔۔ . ظالم سماج میں۔۔۔ . ایک زلزلہ برپا کر دے گی ۔۔۔ . پھر نہ حکومت رہے گی نہ باطل اور نہ ہی سماج ۔۔۔ .

سائٹ اپنے مزاج سے ہم آہنگ محسوس ہوئی ۔۔۔ لیجیے صاحب لاگ ان ہو گیے۔۔۔ . پیج سامنے کھلا پڑا ہے۔۔۔ انگلیاں کی بورڈ پر مچل رہی ہیں ۔۔۔ .لیکن لکھیں کیا ؟ .ہمارے ایک مزاح نگار ہیں یوسفی صاحب، کافی سنجیدگی سے مزاح لکھتے ہیں، ثبوت اس کا یہ ہے ان کا لکھا نصاب میں شامل کر دیا گیا ہے، اور جب امتحان میں بچوں سے ان کے لکھے کی وضاحت یعنی تشریح مانگی جاتی ہے تو بچوں کی سنجیدگی بلکہ رنجیدگی قابل دید ہوتی ہے۔۔۔ تو یوسفی صاحب اپنے تعارف میں واشگاف لکھتے ہیں، ” پیشہ آبا سپاہ گری کے علاوہ سب کچھ رہا ہے” تو صاحب ہمارے ہاں بھی ” پیشہ آبا قلم کاری کے علاوہ سب کچھ رہا ہے”۔ لہذا سمجھ نہیں آ رہی شروع کہاں سے کریں؟؟ ۔۔۔  موضوع کیا ہو۔۔۔  زور دار الفاظ دماغ میں آ رہے ہیں ۔۔۔ . غاصب حکمران۔۔۔ سچائی کی چوٹ۔۔۔ . سوال کی ہیبت۔۔۔ . بدلتے بیانیے۔۔۔ . لبرل فاشسٹ۔۔۔ . مذہبی انتہا پسندی ۔۔۔ لیکن ان کو جوڑیں کیسے؟ لکھیں کیا؟ برا ہو معظّم کا۔۔۔ . کس امتحان میں ڈال دیا۔۔۔

خود کو حوصلہ دیا کہ عنوان پہلے طے کر لو، مضمون خود بخود بنتا چلا جایے گا ۔۔۔ عنوان طے ہوا، ” ظالم حکمران اور مظلوم عوام ” مضمون شروع کیا، “قارئین آپ جانتے ہیں کہ حکمران کتنے ظالم ہیں.ان کے ظلم بڑھتے جا رہے ہیں، یہ ہمیشہ سے ظالم تھے، یہ آئندہ بھی ظالم رہیں گے۔۔۔ .”، آگے کیا لکھوں؟۔۔۔  ابھی تو دو سطریں ہوئی ہیں۔۔۔ . چھوڑو یہ موضوع” سارا ڈیلیٹ کر دیا۔۔۔ .

دوسرا موضوع، ” پاکستان کا معاشی استحکام ” ۔۔۔ .” قارئین آپ جانتے ہیں؛ پاکستان کو معاشی استحکام کی کتنی ضرورت ہے، معاشی استحکام سیاسی استحکام لاہےگا، سیاسی استحکام معاشرتی استحکام لاہے گا، اور معاشرتی استحکام ۔۔۔ کیا لائے گا؟ یا خدا کہاں پھنس گیا۔۔۔ پھر سارا ڈیلیٹ کر دیا۔۔۔

کوئی ہلکا پھلکا موضوع مناسب رہے گا،”موسم بہار کی آمد”۔۔۔ .ہاں یہ ٹھیک ہے۔۔۔ .ابتدا میں کوئی شعر ہو جاۓ تو سبحان اللّہ۔۔۔ اب شعر کی تلاش۔۔۔ ،” بہارو پھول برساؤ میرا محبوب۔۔۔ “اررے یہ تو فلمی شعر ہے کیا سوچیں گےپڑھنے والے۔۔۔  دماغ دوڑا رہے ہیں۔۔۔ پھر وہی فلمی گانے ہی دماغ میں آ رہے ہیں۔۔۔ چلو چھوڑو شعر کیا ضروری ہے۔۔۔ .پھر سے شروع کیا، ” بہار وہ جانفزا موسم ہے جس میں کلیاں چٹکتی ہیں، پھول کھلتے ہیں، دلوں کی دنیا آباد ہوتی ہے۔۔۔”

” یہ کس مرن جوگی کے نام لکھ رہے ہیں” پیچھے سے بیگم کی چنگھاڑسنائی دی۔۔۔  ارے۔۔۔ فرط گھبراہٹ میں ماؤس نیچے گرا۔۔۔ اسےپکڑا تو کی بورڈ گرا۔۔۔ سارا مضمون تہس نہس ہو گیا۔۔۔ بیگم کا شک اور یقین میں بدلا۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ یقین کامل کے درجہ میں پہنچتی۔۔۔ اس کا ہاتھ پکڑ کے پاس بٹھایا اور انتہائی لجاجت سی سمجھایا کہ نیک بخت تمہارے سر کا تاج دنوں میں نہیں گھنٹوں میں گلوبل رائٹر بننے والا تھا جس کے بیچ میں فقط تمہاری بےوقت آمد اور مداخلت حائل ہوئی ہے۔۔۔۔ ہماری اس تقریر کو اس نے اتنی ہی توجہ اور یقین سے سنا جتنی توجہ اور یقین سے عوام بجٹ تقریرسنتے ہیں۔۔۔ اس لئے ہمارے خطاب کو یکسر نظرانداز کرتے ھوۓ بولیں، “آپ کو پتا ہے میرے کتنے کام رکے ھوئے ہیں اور آپ کو مستنصر حسسیں تارڑ بننے کی سوجھی ہے”۔۔۔ سوچا پہلے اس محاذ پر سرخرو ہو لیں، اس لیے بیگم کے سامنے اپنی روایتی سعادت مندانہ فطرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا لکھا پھر سے ڈیلیٹ کیا، بولے “بتاؤ کیا کام ہیں میں ابھی لسٹ بناتا ہوں اور آج ہی نمٹاتا ہوں” بیگم نے بھی روایتی بے یقینی سے میری طرف دیکھا اور بولی لکھیں۔۔۔

١. فرج ٹھنڈک نہں کر رہی ہمسایوں نےمزید برف دینے سے جواب دے دیا ہے۔۔۔

  1. چھوٹے کے ڈایپرز ختم ہیں سارے قالین گندے کر چکا ہے۔

3۔۔۔۔

4۔۔۔۔ ۔۔۔ یا خدا لسٹ 25  تک پہنچ چکی ہے اور بیگم ہے کہ تھم کے ہی نہیں دے رہی۔۔۔ ایسے میں جب میری بیٹی نے آواز لگائی کہ ‘ “ابا جان کوئی آپ سے ملنے آیا ہے” توہم باہر بھاگے، اس خطرے کے باوجود کہ باہر ہمارے پڑوسی رانا صاحب بھی ہو سکتے ہیں جن سے مانگی ہوئی واسکٹ ہم نے وعدے کے باوجود واپس نہیں کی، اور بیگم نے آج انکے بچے کو سیڑھی دینے سے بھی انکار کر دیا ہے، ایسے میں وہ ہماری عزت افزائی کے لیے خاصے بیتاب ہوں گے، لیکن خیر ہوئی , ایسا کوئی سانحہ وقوع پزیر نہ ہو سکا اور ہم بھاگم بھاگ واپس آئے۔۔۔ لیکن یہ کیا۔۔۔ بیگم کمپیوٹر سکرین کے سامنے بیٹھی ہیں۔۔۔ ہاتھ ماؤس پر ہے اور سکرین خالی۔۔۔ .، “یہ کیا ہوا”، ہم نے تیز لہجہ میں کہا۔۔۔ “میں نے تو صرف ماؤس کا بٹن کلک کیا تھا، جو لسٹ آپ نے بنائی تھے وہ سینڈ ہو گئی” بیگم نے ہم سے بھی تیز لہجہ میں جواب دیا۔”۔۔۔ “ارے یہ تم نے کیا ظلم کیا۔۔۔ .وہ لسٹ تو میں وہاں عارضی طور پر لکھ رہا تھا، تم نے وہی ان کو بھجوا دی۔۔۔ میری انٹری ہی خراب کروا دی۔۔۔ .کیا سوچیں گے۔۔۔ کیسا غیر سنجیدہ انسان اور نکما رائیٹر ہے.” ہم منمنایے۔۔۔ ” تو ٹھیک ہی سمجھیں گے۔” بیگم نے غصے سے کہا، یہ جا اور وہ جا . ہم بھی کچھ دیر سر پکڑ کے بیٹھے رہے پھر بیگم کے کاموں سے نظریں چراتے ہوۓ ہوئے خاموشی سے باہر نکل گیے۔

شام کو پھر سے کمپیوٹر آن کیا، ارے یہ کیا زلزلہ ڈاٹ کام کی میل۔۔۔ ہمارا دل زور سے دھڑکا۔۔۔ .بیتابی سے کھولا۔۔۔ لکھا تھا، ” چیف ایڈیٹر زلزلہ ڈاٹ کام۔۔ جناب کاشف صاحب، زلزلہ ڈاٹ کام میں دلچسپی لینے کا شکریہ۔ آپ کا تہلکہ خیز آرٹیکل ہم چھاپ چکے ہیں۔ نجانے آپ اس کا عنوان طے کرنا کیوں بھول گیے۔ بہرحال ہم نے اپنی طرف سےہی مناسب عنوان تجویز کر دیا ہے۔۔۔ پاکستانی عورت کی قابل رحم زندگی۔۔۔ آپ کا آرٹیکل فیس بک پر ہزاروں کی تعداد میں شیر کیا جا چکا ہے۔۔ لاکھوں لائیک ہیں۔۔ براہ کرم اور لکھیے۔۔۔ “


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “اور بلاگ چھپ گیا۔۔۔

  • 30-04-2016 at 12:32 am
    Permalink

    hahahahaahahahaha

  • 30-04-2016 at 5:57 am
    Permalink

    واقعی۔۔

  • 30-04-2016 at 10:54 am
    Permalink

    اسی لیے تو کہتے ہیں ہر کامیاب رائٹر کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے

  • 30-04-2016 at 10:55 am
    Permalink

    zaberdast

  • 30-04-2016 at 8:15 pm
    Permalink

    Kashif sb maza nahi aaya

  • 30-04-2016 at 10:53 pm
    Permalink

    ادبی تحریر کو “میرے مطابق” میں غلطی سے شامل کیا گیا ہے یا واقعی یہ تحریر “میرے مطابق” ہے؟ تاہم دل چسپ ادبی تحریر پر کاشف صاحب کے لیے چیرز.

  • 01-05-2016 at 3:35 pm
    Permalink

    کاشف صاحب زبردست لکھا ہے ، مزید لکھتے رہیے

Comments are closed.