کلدیپ نیئر نے ڈاکٹر قدیر خان سے پاکستان کے پاس ایٹم بم ہونے کا راز اگلوا لیا تھا


کلدیپ نیئر نے اپنی خودنوشت میں انکشاف کیا تھا کہ وہ 1986 میں اسلام آباد میں مشاہد حسین سید کی شادی میں شرکت کے لیے گئے تو مشاہد انہیں ڈاکٹر قدیر خان کا انٹرویو کرانے کے لیے خود ہی لے کر گئے اور کہا کہ یہ آپ کے لیے میری “شادی کا تحفہ” ہے۔

اس ملاقات میں کلدیپ نیئر نے ڈاکٹر قدیر خان کو غصہ دلوا کر ان سے وہ راز اگلوا لیا تھا کہ پاکستان کے پاس ایٹم بم تھا۔ اس انکشاف پر جنرل ضیاء ڈاکٹر قدیر سے ناخوش ہوگئے تھے۔ کلدیپ نیئر نے یہ بھی دعوی کیا کہ مشاہد حسین سید نے برسوں بعد انہیں بتایا تھا کہ وہ انٹرویو جنرل ضیا کی منظوری کے بعد انہوں نے کرایا تھا تاہم بات اس وقت بگڑ گئی تھی جب اس ملاقات میں ڈاکٹر قدیر ضرور ت سے زیادہ بول گئے تھے۔

کلدیپ نیئر نے اپنی خودنوشت میں لکھا کہ ان دنوں بھارت نے پاکستانی سرحد کے قریب بڑے پیمانے پر فوجی مشقیں شروع کر رکھی تھیں۔ بھارتی آرمی چیف جنرل کے ایس سندرجی اس وقت ان مشقوں کے دوران پاکستانی علاقوں میں تقریبا گھس گئے تھے۔ اسلام آباد میں سینئر بیوروکریٹس اور سیاستدانوں کو بھارتی نیت پر شک ہو چلا تھا کہ وہ اس دفعہ کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے شاید خود یہ فیصلہ کیا کہ وہ بھارت کو ایک دھمکی بھیجیں کہ پاکستان کے پاس نیوکلیر بم تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر کلدیپ نیئر فادر آف بم ڈاکٹر قدیر کا انٹرویو کرلیں تو بھارت کو ضروری پیغام چلا جائے گا۔

کلدیپ نیئر نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر قدیر ایٹم بم کا سوال کرنے پر کوئی معقول جواب نہیں دے رہے تھے۔ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے ایک سٹوری گھڑ لی اور اسے بتایا کہ جب میں پاکستان آ رہا تھا تو میں میری ملاقات بھارت کے ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر ہومی سے ہوئی تھی۔ ڈاکٹر ہومی نے مجھے کہا کہ تم کیوں اپنا وقت ضائع کر رہے ہو کیونکہ پاکستان کے پاس نہ تو وہ لوگ ہیں جو بم بنا سکیں اور نہ ہی ان کے پاس کوئی میٹریل ہے جس سے یہ ایٹمی ہتھیار بن سکتے ہیں۔ یہ سن کر ڈاکٹر قدیر خان غصے میں آ گیا اور زور سے مکہ اپنی میز پر مارنے لگا اور بولا تو پھر جا کر انہیں بتا دو کہ ہمارے پاس ایٹم بم ہے۔ ہمارے پاس ایٹم بم ہے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں