’سو روپے کا موبائل فون کارڈ ایک کے بجائے ڈیڑھ ہفتہ چلے گا`

فاطمہ علی - صحافی لاہور


پاکستان

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

خالدہ پڑھی لکھی نہیں ہیں۔ گھروں میں کام کر کے مہینے کے تقریباً پندرہ، بیس ہزار روپے کما کر اپنے چار بچوں کا پیٹ پالتی ہیں۔ لاہور کے متوسط علاقے ڈی ایچ اے کے ایک سٹور پر وہ موبائل کارڈ لوڈ کروا رہی تھی کی میں نے ان سے پوچھا کہ وہ مہینے میں کتنے کارڈ ڈلواتی ہیں؟ 40 سالہ خالدہ کے لیے موبائل فون پاس رکھنا بہت ضروری ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میرے بچے چھوٹے ہیں، گھر پر اکیلے ہوتے ہیں اسی لیے ان سے رابطے میں رہنا پڑتا ہے، سو روپے والا ایک کارڈ مشکل سے ایک ہفتہ چلتا ہے۔‘

میں نے خالدہ کو بتایا کہ اب ان کے موبائل کا کارڈ ایک کے بجائے ڈیڑھ ہفتہ چلے گا کیونکہ حکومت پہلے اس کے سو روپے کے کارڈ سے 38 روپے ٹیکس کی مد میں کاٹتی تھی اور اب اسے پورے سو روپے کا بیلنس ملے گا۔ گو کہ انھیں ٹیکس کی بات تو سمجھ نہیں آئی مگر کارڈ زیادہ دن چلے گا، یہ سن کر خالدہ کا چہرہ کھل اٹھا۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے سوموار کو موبائل کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ وہ پری پیڈ کارڈز پر عائد تمام ٹیکس ختم کر دیں اور اس کے لیے عدالت نے تمام موبائل کمپنیوں اور ایف بی آر کو دو دن کا وقت دیا ہے۔ اس کیس کی سماعت سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ جج صاحبان کے ریمارکس تھے کہ سو روپے کے کارڈ پر اتنے ٹیکس کی کٹوتی غیر قانونی اور استحصالی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایک ریڑھی بان جو ٹیکس نیٹ میں ہی نہیں آتا، وہ یہ ٹیکس کیوں ادا کرے۔ چیف جسٹس آف نے ریمارکس دیے کہ صرف ان لوگوں پر ٹیکس نافذ کیا جائے جن کا موبائل فون کا ری چارج ایک خاص حد سے تجاوز کرے اور پری پیڈ کارڈز پر ٹیکس لگانے کے لیے پالیسی بنائی جائے۔

خالدہ سے بات کرنے کے بعد میں نے ایک سینئیر بینک افسر عامر شیخ سے بھی بات کی تو ان کا ردعمل بالکل مختلف تھا۔ ’مجھے تو اس بارے میں کوئی اندازہ نہیں کیونکہ کبھی سوچا نہیں، میرا بل میرا دفتر ادا کرتا ہے سو ٹیکس لگے یا نہیں مجھے فی الحال براہ راست کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔‘

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کے ترجمان ڈاکٹر اقبال کا کہنا ہے کہ ’میں اس وقت اس پوزیشن میں نہیں ہوں کہ معزز عدالت کے فیصلہ پر کوئی رائے دے سکوں، البتہ عدالت کا فیصلہ قانون کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے پر عملدرآمد کیا جائے گا۔‘ موبائل فون کمپنیز نے بھی فی الوقت اس معاملہ پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے عدالت میں پیش کیے جانے والے ٹیکس کی تفصیلات بیان کیں۔ جس کے مطابق جب کوئی سو روپے کے پری پیڈ کارڈ پر ساڑھے 12 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی ہو جاتی ہے، دس فیصد کمپنی سروس چارجز کی مد میں کاٹتی ہے اور ساڑھے 19 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جاتا ہے۔ ان سب کٹوتیوں کے بعد کارڈ خریدنے والے کو 76 روپے چورانوے پیسے کے بیلنس ملتا ہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اب جو وہ کالز اور ایس ایم ایس کرنے والا ہے ان پر پہلے سے ہی 19.5 فیصد (15 روپے) کا مزید سیلز ٹیکس کٹتا ہے اور سو روپے میں سے بچے صرف 61 روپے 93 پیسے۔

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر قیس اسلم کا کہنا ہے کہ سو روپے کے پری پیڈ کارڈ پر 38 فیصد کٹنے والے ٹیکس میں سے زیادہ تر حکومت کے پاس جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومت کو جو پیسہ جانا ہے وہ اب نہیں جائے گا مگر وہ کہیں اور ٹیکس لگا کر پورا کر لے گی۔‘ ڈاکٹر اسلم کے خیال میں اب موبائل کمپنیوں کو ڈائریکٹ فائدہ ہوگا۔ ’کالز بڑھ جائیں گی، جب کالز بڑھیں گی تو پیسہ ڈائریکٹ فون کمپنیز کو جائے گا ٹیکس کی مد میں نہیں بلکہ منافع کی مد میں جائے گا۔‘

لاہور ٹیکس بار کے سینیئر ممبر ایڈووکیٹ ناصر علی نے اس عدالتی فیصلے کو آئین اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے عین مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کوئی بھی شخص جس کی سالانہ آمدن چار لاکھ یا اس سے زیادہ ہو گی، اس پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ’ٹیلی فون ٹیکس بھی تبھی لاگو ہوتا ہے جب فون کا بل کم از کم ہزار روپے ہو۔ اب ہزار روپے والے بل پر بھی ٹیکس تب کٹے گا جب فون استعمال کرنے والے کی آمدن چار لاکھ سالانہ ہو گی اور وہ اپنے ٹیکس رٹرن جمع کرواتے ہوئے ٹیکس ایڈجسٹمنٹ لے سکتا ہو۔‘

سالانہ آمدن کے لحاظ سے دیکھا جائے تو خالدہ اور اس جیسے کم آمدن والے طبقے کے افراد اس زمرے میں نہیں آتے کہ انھیں ٹیکس ادا کرنا پڑے جبکہ خالدہ سو روپے کے حساب سے مہینے میں صرف پانچ سو کے کارڈ خریدتی ہے تو وہ یہ ٹیکس ادا کیوں کرے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 5316 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp