کیا صارف تاجر کا غلام ہے؟


یہ ایک بڑا برانڈ ہے۔ مشہور و معروف نام۔ پاکستان کے ہر شہر میں ہر بڑے بازار میں اس کی شاخیں ہیں۔ متوسط طبقہ ٹوٹا پڑتا ہے۔ اکثر و بیشتر طبقہ بالا کے افراد بھی یہیں کا رخ کرتے ہیں۔ شب لباسی کے لیے کھلے گلے کی ٹی شرٹ پہننے کی عادت ہے۔ جو تھیں وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھیں۔ بازار جانا کم کم ہوتا ہے۔ عسکری رہائشی کالونی کا شکریہ کہ پنڈی اسلام آباد کے سنگم پر ایک بڑا مال بنوایا ہے۔

سارے معروف ملکی برانڈ وہاں موجود ہیں۔ کیا برآمدے، اور کیا خود کار سیڑھیاں، گاہکوں سے چھلک رہی ہوتی ہیں۔ تین ٹی شرٹیں خریدیں۔ کھلے گلے کی، جسے لارڈ کلائیو کی امت ’’رائونڈ نیک‘‘ کہتی ہے۔ گھر آ کر ایک پہنی تو محسوس ہوا گلے سے تنگ ہے اور سوتے میں بے چین کرے گی۔ دوسرے دن واپس گیا۔ کہنے لگے اس کے بدلے میں کوئی اور شے دیکھ لیجئے۔ دیکھا۔ کوئی پسند نہ آئی۔

عرض کیا یہ واپس لے لیجیے۔ دو تو پیکٹ سے نکالی ہی نہیں۔ ایک پہنی، چند ثانیوں بعد اتار دی۔ ٹیگ اس کے ساتھ لگے ہیں۔ رسید یہ ہے۔ میری رقم واپس دے دیجئے۔ منیجر نے ایک ادائے بے نیازی سے ایک اذیت رساں مسکراہٹ بکھیری کہ سر! ری فنڈ (رقم کی واپسی) ہماری کمپنی کی پالیسی میں نہیں ہے۔ بحث کا فائدہ نہیں تھا۔

منیجر کمپنی کا ملازم تھا۔ مالک نہیں تھا۔ یوں بھی یہ طبقہ قابل رحم ہے۔ بارہ بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی اور تنخواہ بالکل غیر اطمینان بخش۔ ٹی شرٹیں لے کر گھر آ گیا۔ برانڈ کی ویب سائٹ پر گیا۔ خریدا ہوا مال تبدیل کرنے کا ذکر موجود تھا۔ واپسی کا کہیں کوئی اتہ پتہ نہیں تھا۔ رابطے کے لیے ایک فون نمبر دیا ہوا تھا۔ اس پر بات کی۔ عرض کیا مالک سے بات کرا دیجئے۔ جواب ملا ان سے بات نہیں ہو سکتی۔ جو کہنا ہے میل کردیجئے۔

یاد آ گیا کہ دوسرے ملکوں میں بڑی سے بڑی کمپنی، بڑے سے بڑے برانڈ کے سربراہ سے چند منٹوں میں براہ راست بات ہو سکتی ہے۔ خیر! مرتا کیا نہ کرتا! ایک میل لکھی۔ لکھا کہ پوری دنیا میں چھوٹے سے لے کر بڑے برانڈ تک سب کی ری فنڈ پالیسی ہوتی ہے۔ تین ڈالر کا یا تین لیرے کا رومال خریدیں یا بچوں کے لیے ایک ڈالر کا کیلکولیٹر، دو صفحے کی ری فنڈ پالیسی رسید کے ساتھ دی جاتی ہے۔ یہ بھی لکھا کہ پاکستان میں آپ لوگ گاہکوں کا جس طرح استحصال کر رہے ہیں اس کی مثال کسی مہذب ملک میں نہیں پائی جاتی۔

سوشل میڈیا کی طاقت کا آپ حضرات کو خوب اندازہ ہے۔ مہم چلی تو آپ کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ دوسرے دن ایک خاتون کی جو ای میل موصول ہوئی کہ فون نمبر درکار ہے۔ دو دن اور گزر گئے۔ پھر فون پر بتایا گیا کہ آپ کا مقدمہ ’’اوپر‘‘ بھیج دیا گیا ہے۔ ’’فیصلہ‘‘ آنے پر اطلاع دے دی جائے گی۔ تین چار دن بعد اطلاع دی گئی کہ ’’سپیشل کیس‘‘ کے طور پر آپ کو ری فنڈ کی اجازت دی جا رہی ہے۔ آئوٹ لیٹ پر جائیے اور اشیا واپس کر کے رقم لے لیجئے۔ مقدمہ ختم ہوا تو ایک اور تجسس ہوا۔ کہ دوسرے معروف برانڈز کی اس ضمن میں کیا پالیسی ہے؟

ویب سائٹوں پر گیا۔ کچھ کو فون کر کے معلوم کیا۔ معلوم ہوا ری فنڈ کی سہولت کہیں بھی نہیں ہے۔ دوسرے ملکوں کے تجربے یاد آئے۔ لندن سے خریدا ہوا کوٹ ایک چھوٹے سے قصبے میں اسی برانڈ کی دکان پرایک سال بعد واپس کیا۔ اشیائے خورونوش سے لے کر ملبوسات تک اور صابن سے لے کر دوا تک ہر شے، رسید دکھا کر، واپس کر سکتے ہیں۔ مدت کا تعین بھی دیا ہوا ہوتا ہے۔

کہیں دس دن، کہیں دو ہفتے، کہیں ایک ماہ کے اندراندر۔ کتابوں کی بین الاقوامی کمپنی ’’بارڈرز‘‘ خریدی ہوئی کتاب ایک ماہ کے بعد بھی واپس لے لیتی ہے۔ ہاں! کامن سینس کی بات ہے کہ واپس کی جانے والی شے استعمال نہ ہوئی ہو، ٹیگ موجود ہو اور رسید بھی دکھائی جائے۔ پاکستان میں عوام کے ساتھ سب سے زیادہ ظلم کرنے والا طبقہ تاجر برادری کا ہے۔

اس کالم نگار کو اس بات سے شدید اختلاف ہے کہ سیاست دان سب سے زیادہ استحصال کرتے ہیں یا اسٹیبلشمنٹ، جس کے لیے سابق وزیراعظم نے خلائی مخلوق کی اصطلاح وضع کی ہے یا پولیس زیادہ ظلم کرتی ہے یا سرکاری ادارے۔ سوال یہ ہے کہ عوام کا ہر روز واسطہ کس سے پڑتا ہے؟ صبح سے لے کرشام تک کئی بار بازار جانا پڑتا ہے۔ ڈبل روٹی سے لے کر بلب تک، پھلوں سے لے کر ادویات تک، ملبوسات سے لے کرشادی کے زیورات اور لہنگوں تک، مکان کی تعمیر کے لیے ٹائلوں سے لے کر غسل خانے کی ٹونٹی تک، ہر شے کے لیے تاجر کے حضور حاضر ہونا ہوتا ہے اور تاجر کہتا ہے کہ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا۔ اب تبدیل تو ہونے لگا ہے، واپس نہیں ہوتا۔

یہ دستور پوری دنیا میں نرالا اور انوکھا ہے۔ تاجر برادری کے کچھ اور کارنامے بھی ہیں۔ پورے ملک میں ناروا تجاوزات، ٹیکس کی نادہندگی، اشیائے خورونوش میں مجرمانہ ملاوٹ، جعلی ادویات یہاں تک کہ معصوم بچوں کے دودھ میں ملاوٹ، فروخت کرتے وقت شے کا نقص چھپانا۔ دروغ گوئی! بات بات پر کہنا کہ یہ مال لے جائیے، اس کی کوئی شکایت نہیں آئی۔

پھر مذہبی طبقے سے گٹھ جوڑ، ایک اور دھاندلی یہ کہ بازار کھلنے اور بند ہونے کے اوقات میں سینہ زوری، حکومت نے کئی بار کوشش کی کہ کاروبار جلد شروع ہو اور سر شام بند ہو تاکہ توانائی کم سے کم خرچ ہو۔ اکثر ملکوں میں بازار صبح نو بجے کھلتے ہیں اور غروب آفتاب سے پہلے بند ہو جاتے ہیں۔ سوائے ریستورانوں کے اور ادویات کی دکانوں کے۔ پاکستان میں دکانیں دن کے بارہ بجے اور کئی اس کے بعد کھلتی ہیں۔ آدھی آدھی رات تک بازار کھلے رہتے ہیں۔ اوقات کی تبدیلی سے توانائی ٹنوں کے حساب سے بچائی جا سکتی ہے۔

یہ جملہ مسائل تاہم ضمنی ہیں۔ اصل معاملہ جو گاہک کے پیٹ پر ضرب لگا رہا ہے، ری فنڈ پالیسی کا نہ ہونا ہے۔ اس ضمن میں صارفین کو گہری نیند سے بیدار ہونا ہوگا، پاکستانی صارفین، تاجروں کے زرخرید غلام ہیں نہ ماتحت۔ یہ صارفین ہی ہیں جن کی بدولت یہ تاجر، یہ معروف برانڈ، یہ سیٹھ، یہ کمپنیاں کروڑوں اربوں کھربوں کما رہے ہیں۔

حکومت کو ٹیکس نہیں دیتے، تو خدا کے بندو۔ گاہک کے ساتھ تو انصاف کا معاملہ کرو۔ ایک تو صارفین کو یہ کرنا ہو گا کہ کوئی شے خریدیں تو پوچھیں کہ ری فنڈ پالیسی کیا ہے؟ جواب یہی ملے گا، نہیں ہے۔ اس پر ویب سائٹ کا مطالعہ کیجئے۔ ای میل ایڈریس مل جائے گا۔ احتجاجی ای میل ارسال کیجئے کہ پوری دنیا میں خریدا ہوا مال واپس کرلیا جاتا ہے۔ آپ کیوں نہیں کرتے؟

اپنی پالیسی میں تبدیلی لائیے۔ ورنہ ہم آپ کے برانڈ کا بائی کاٹ کریں گے۔ ان ای میلوں سے تاجروں کو احساس ہو گا کہ وقت بدل رہا ہے۔ پاکستان دنیا کا حصہ ہے۔ ایک الگ جزیرہ نہیں ہے۔ گاہک کو اس کے حقوق دینے ہوں گے۔ دوسری بڑی طاقت سوشل میڈیا کی ہے۔ اس کی پہنچ لاکھوں کروڑوں افراد تک ہے، بڑے بڑے کارنامے عوام نے سوشل میڈیا کے ذریعے سرانجام دیئے ہیں۔ ماضی قریب میں پھلوں کی مہنگائی کا توڑ، بائی کاٹ کے ذریعے کامیابی سے کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں بھی سوشل میڈیا پر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

صارفین پر زور دیا جائے کہ شے خریدتے وقت ری فنڈ پالیسی کا پوچھیں۔ کمپنی سے رابطہ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں اور آخری حربے کے طور پر بائی کاٹ کریں۔ اس کالم نگار کو معلوم نہیں کہ ’’صارفین کی عدالتیں‘‘ “Consumer Courts” اس ضمن میں کیا کردار ادا کرسکتی ہیں؟ کیا یہ پہلو ان کے دائرہ کار میں آتا ہے یا نہیں؟ اگر آتا ہے تو اس دروازے پر بھی دستک دینا ہوگی۔

یہاں یہ ذکر نامناسب نہ ہوگا کہ بسا اوقات چھوٹے دکاندار کا رویہ بڑے برانڈ یا بڑی کمپنی کی نسبت بہتر ہوتا ہے۔ چھوٹے دکاندار کو محلہ داری کا بھی احساس ہوتا ہے۔ اس میں وہ نخوت اور تکبر بھی نہیں ہوتا جو بڑے برانڈ کو اپنی طاقت کی بنا پر لاحق ہو جاتا ہے۔ بڑے برانڈ، بڑی کمپنیاں اصل میں بے چہرہ (Face less) حکومتیں ہیں۔

سربراہ سات پردوں میں چھپا ہے۔ گاہک کی اس تک رسائی کو ناممکن بنا دیا گیا ہے۔ سیلز پرسن یا منیجر بے اختیار بھی ہے اور بے نیاز بھی۔ اس کا ایک لگا بندھا ردعمل ہے۔ ’’یہ کمپنی کی پالیسی ہے۔‘‘ کمپنی کی پالیسی کو اب بدلنا ہوگا۔ خریدا ہوا مال واپس کرنا صارف کا بنیادی حق ہے۔

بشکریہ نائنٹی ٹو نیوز

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں