گیتا کو کیسا دولھا چاہیے؟

سہیل حلیم - بی بی سی اردو، دہلی


پاکستان سے انڈیا لائی جانے والی قوتِ سماعت و گویائی سے محروم لڑکی گیتا کی شادی کی تیاریاں ہیں لیکن ابھی تک انھیں کوئی لڑکا پسند نہیں آیا ہے۔ ان کی شادی میں خود انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج دلچسپی لے رہی ہیں جن کی کوششوں کے نتیجے میں ہی گیتا کو تقریباً ڈھائی سال پہلے کراچی سے انڈیا لایا گیا تھا۔ کراچی میں ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ایدھی فاؤنڈیشن نے سنبھال رکھی تھی۔

گیتا دس گیارہ سال کی تھیں جب سرحد کےقریب پاکستانی رینجرز کو ملی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے دس سال سے زیادہ پاکستان میں گزارے لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وہ سرحد پار کیسے پہنچی تھیں۔

ہندوستان کی بیٹی

گیتا کی انڈیا واپسی کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سشما سوارج نے انھیں ‘ہندوستان کی بیٹی’ کہا تھا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ان کے والدین کو ڈھونڈنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔

اس کے بعد انھیں تعلیم و تربیت کے لیے مدھیہ پردیش کے اندور شہر میں گونگے بہرے بچوں کے ایک ادارے کے سپرد کر دیا گیا تھا۔

گیتا

انڈیا کی وزیر خارجہ شسما سوراج کے ساتھ گیتا

والدین کی تلاش میں تو کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی لیکن اب سشما سواراج ان کے ہاتھ پیلے کرنا چاہتی ہیں۔ اور اس کام کے لیے اندور میں گونگے بہرے بچوں کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ‘آنند سروس سوسائٹی’ کی مدد بھی لی جارہی ہے۔

ادارے کے سربراہ گیانیندر پروہت کے مطابق گذشتہ برس وزیر خارجہ نے ان سے کہا تھا کہ گیتا کے لیے کوئی لڑکا تلاش کرنا چاہیے۔ ‘میں ایک لڑکے کو میڈم (سشما سواراج) سے ملوانے دلی لے گیا تھا اور وہ انھیں بہت پسند بھی آیا تھا لیکن گیتا نے انکار کردیا۔۔۔اس کے بعد میڈم نے مجھ سے کہا کہ تلاش کا دائرہ بڑھانا چاہیے۔’

لڑکے کا نام ستیش گوتم ہے اور وہ بھی بول اور سن نہیں سکتے۔ انھوں نے واٹس ایپ پر پیغامات کے ذریعہ بی بی سی کو بتایا کہ’میں پہلے دن سے ہی گیتا کے ماں باپ کو تلاش کرنے میں ان کی مدد کرنا چاہتا تھا، جب حکومت کی مدد سے بھی والدین نہیں ملے تو میں نے سوچا کہ میں ان سے شادی کرکے انھیں فیملی دوں گا اور ماں باپ کو ڈھونڈنے میں ان کی مدد کروں گا۔’

گیتا

دہلی کے وزیر اعلی کے ساتھ گیتا کو دیکھا جا سکتا ہے

ضرورتِ رشتہ

گیانندر پروہت نے امسال اپریل میں اپنے ادارے کے فیس بک پیج پر ضرورت رشتہ کا اشتہار دیا جس میں لکھا ہے کہ 25 سال سے زیادہ عمر کے ایسے سمارٹ گونگے بہرے لڑکے، جو گیتا سے شادی کرنا چاہتے ہوں، وہ انھیں اپنا بایو ڈیٹا بھیجیں۔ فیصلہ گیتا کا ہوگا اور ‘ایکشن’ حکومت ہند کرے گی۔

مسٹر پروہت نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اشتہار کے جواب میں انھیں بہت سی درخواستیں موصول ہوئیں جنھیں وزارت خارجہ کو بھیج دیا گیا ہے۔ وزارت نے 26 نام ضلع انتظامیہ کو بھیجے جن میں سے گیتا نے 15 کا انتخاب کیا۔ ‘سات اور آٹھ جون کو انتظامیہ کی مدد سے ہم نے ان لڑکوں کو گیتا سے ملنے کے لیے بلایا تھا لیکن صرف چھ ہی آئے جن میں سے فی الحال گیتا نے کسی کو پسند نہیں کیا ہے۔’

اندور میں محکمہ سماجی انصاف کے جوائنٹ ڈائریکٹر بی سی جین نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘گیتا نے وزیر خارجہ کے سامنے (شادی کی) خواہش ظاہر کی تھی،آخری فیصلہ گیتا کا ہی ہوگا۔۔۔ لڑکا ایسا ہو جو کماتا ہو اور اس کی دیکھ بھال کر سکے۔’ لیکن یہ پوچھے جانے پر کہ کیا گیتا سے ملاقات پر کوئی پابندی ہے انھوں نے کہا کہ ‘وزارت خارجہ یا ضلعی انتظامیہ کی اجازت لے کر آئیے تو ملاقات ہو جائے گی۔’

گیتا کو کیسا لڑکا چاہیے

تو سوال یہ ہے کہ گیتا کیسے لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہے؟ گیانیندر پروہت کے مطابق گیتا کی زیادہ دلچسپی اپنے والدین کو ڈھونڈنے میں ہے اس لیے وہ ایسے لڑکے سے شادی کرے گی جو والدین کی تلاش میں ان کی مدد کرے۔

لیکن جب گیتا لڑکوں سے ملیں تو انھوں نے کس طرح کے سوال پوچھے؟ مسٹر پروہت کےمطابق گیتا نے لڑکوں سے پوچھا کہ ‘آپ کا گھر کتنا بڑا ہے، خاندان میں اور کون کون ہے؟ آپ کی آمدنی کتنی ہے، گھر اپنا ہے یا کرایےکا؟ آپ کے پاس گاڑی ہے یا سکوٹر؟

مسٹر پروہت کے مطابق ‘گیتا کے دل میں یہ ہے کہ لڑکا خوبصورت اور سمارٹ ہو اور انھیں خوش رکھ سکے ۔۔۔ برسر روزگار ہو اور ان کی دیکھ بھال کر سکے۔۔۔ پسند گیتا کی ہوگی اور حتمی اجازت میڈم دیں گی۔’

مجوزہ دولھوں سے ملاقات کے بعد گیتا نے اشاروں کی زبان میں کہا کہ ‘لڑکے اچھے تھے لیکن مجھے سوچنے کے لیے اور وقت چاہیے۔’ شادی میں دلچسپی دکھانے والوں میں ایک سرکاری ملازم بھی شامل ہے جو گیتا ہی کی طرح سن اور بول نہیں سکتے۔

گذشتہ برس جولائی میں گیتا اچانک اپنے ہوسٹل سے غائب ہوگئی تھیں لیکن پولیس نے انھیں کچھ ہی دیر میں تلاش کر لیا تھا۔ اس وقت گیتا سے ملاقات کے بعد سشما سوارج نے کہا تھا کہ وہ مندر جانے کے لیے ہوسٹل سے نکلی تھیں اور اگر وہ شادی کرنا چاہتی ہیں تو ‘ہم ان کی مدد کریں گے۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4930 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp