سمیرا خاموش ہے… کویلیا مت کر پکار


 wajahatبیساکھ کے دن ہیں، گندم میں درانتی پڑنے کا موسم ہے۔ ان دنوں ونگار کی آواز اٹھنا چاہئے تھی مگر ہم نے کرپشن کا دیپک راگ چھیڑ رکھا ہے۔ امید یہ لگائی ہے کہ راگ سوزاں کی تان سے نشیمن کے تنکے سلگ اٹھیں گے۔ ہوا موافق چلی تو گھونسلہ جل کر گر جائے گا اور پیڑ کی خالی ٹہنیوں پر ہم اپنا آشیانہ سجا سکیں گے۔ سوزش نہانی کا یہ تپ محرکہ ماضی میں بھی ہمارے اعصاب پر سوار رہا ہے۔ ہم نے سات عشروں میں اس قدر شعلہ نفسی کر رکھی ہے کہ ہمارے پیڑ کی ہر شاخ جھلس چکی ہے۔ چمن کی آبیاری کا جو نسخہ ہم نے اختیار کر رکھا ہے اس کے اجزا زہریلے ہیں اور امکان نہیں ہے کہ یہ باہم آمیخت ہو کر شفایابی کا پیغام بنیں۔ بات یہ ہے کہ ہم درد کے ماخذ سے نظریں چراتے ہیں۔ ہماری تشخیص درست نہیں ہے۔ ہماری حذاقیت پر چرب زبانی غالب ہے۔ ہمیں اپنے سرِ لشکر کی خبر لینی چاہئے۔

پاکستان کا کل رقبہ قریب آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ یہ دنیا کے کل زمینی رقبے کا 0.7 فیصد ہے۔ رقبے کے اعتبار سے ہمارا ملک دنیا میں 36 ویں نمبر پر ہے۔ ہماری آبادی تمام تخمینوں کے مطابق بیس کروڑ سے متجاوز ہے۔ اس اعتبار سے ہم دنیا میں چھٹے نمبر پر ہیں۔ یہ آبادی دنیا کی کل آبادی کا تین فیصد بنتی ہے۔ گویا ہم نے ایک فیصد سے کم رقبے پر چار گنا دباؤ ڈال رکھا ہے۔ آبادی اور رقبے کے اس تناسب کی اہمیت سمجھنا ہو تو یہ جان لیجئے کہ ہم سے زیادہ آبادی والے پانچوں ملکوں میں سے ہر ایک کا رقبہ ہمارے رقبے سے کم از کم دو گنا زیادہ ہے۔ ہم دنیا کا واحد ملک ہیں جس کی ناخواندہ آبادی میں گزشتہ ساٹھ برس میں تین سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ دنیا کی آبادی میں سالانہ اضافے کے اعتبار سے ہم تیسرے نمبر پر ہیں۔ سویٹزرلینڈ کا خواب ہمیں دکھایا جاتا ہے مگر سویٹزرلینڈ کے سادہ لوح باشندوں کو کیا خبر کہ ہم تو ہر برس اپنے ملک میں ایک سویٹزرلینڈ پیدا کرتے ہیں۔ جتنی سویٹزرلینڈ کی آبادی ہے اتنے افراد ہم بزرگوں کی دعا اور ذاتی محنت شاقہ کی بدولت ہر برس منصہ شہود پر لاتے ہیں۔ فرق معمولی سا ہے کہ سویٹزرلینڈ کی فی کس آمدنی دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے۔ ساٹھ ہزار ڈالر کے قریب اور ہم پندرہ سو ڈالر فی کس آمدنی کے گرد منڈلا رہے ہیں۔ کیا خوب مقابلہ ہے، وہ آمدنی میں چھٹے نمبر پر ہیں اور ہم آبادی پر چھٹے نمبر پر ہیں۔ ہمیں روز اول ہی سے پڑھایا جاتا ہے کہ وسائل ہمارے پاس بہت ہیں۔ یہ وسائل یقیناً تصوف کے رموز سے تعلق رکھتے ہوں گے کیونکہ ہمیں پیٹرولیم مصنوعات میں پچاسی فیصد ضروریات درآمد کرنا پڑتیں ہیں۔ محب وطن دانشوروں کی مہربانی سے ہماری معاشی سوجھ بوجھ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہم سونے چاندی اور اجناس کو دولت سمجھتے ہیں۔ ابھی ہمارا توسن خیال اس نکتہ پر نہیں پہنچا کہ ہم پیداواری صلاحیت کو دولت گردان سکیں۔ چنانچہ وطن عزیز میں ایک درہم دینار تحریک بھی پائی جاتی ہے۔ تفنن برطرف، افرادی قوت اور معدنیات کو دولت شمار کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔ خام مال کو مصنوعات میں تبدیل کر کے قومی آمدنی بڑھانے کا زمانہ بھی تیزی سے گزر رہا ہے۔ ہم ایک نئے صنعتی انقلاب کے دھانے پر کھڑے ہیں جس کے نتیجے میں روزگار اور پیداواری عمل کے سانچے ہی بدل جائیں گے۔ ہم اس کشمکش میں کہاں کھڑے ہوں گے کہ ہماری کل پیدا وار میں مصنوعات کا حصہ صرف اٹھارہ فیصد ہے۔ بستر کی چادریں اور تولیے نکال دیے جائیں تو شاید یہ اعداد و شمار اور بھی مفلس ہو جائیں گے۔ مصنوعات کے شعبے میں ہماری کمزوری کا جواز یہ دیا گیا کہ ہم ایک زرعی ملک ہیں۔ چاول گندم کپاس اور گنا ہماری اہم فصلیں ہیں۔ دنیا میں ان اجناس کی فی ایکڑ پیداوار کے اعداد و شمار اٹھا لیں اور ہماری فی ایکڑ پیداوار سے موازنہ کر لیں۔ افاقہ ہونے کی امید ہے۔ شرح خواندگی کے اعداد و شمار موقع محل کی مناسبت سے بدل جاتے ہیں اور یہ بھی طے ہے کہ محب وطن دانشوروں کی قابل قدر مزاحمت کے سبب نصاب تعلیم میں کسی بنیادی تبدیلی کا بھی دور دور تک امکان نہیں۔ ہمارے ملک کو درپیش بنیادی بحران معیشت کا ہے۔ اور معیشت کا یہ بحران پیداواری حجم اور مختلف شعبوں میں وسائل خرچ کرنے کی ترجیحات سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ کرپشن کا دیپک راگ جاری رکھیے مگر مجید لاہوری کا مصرعہ بھی یاد رکھیئے، “جب چنے ہی تو نہ پائے گا تو بھنوائے گا کیا”۔ اگر قومی معیشت کے بھاڑ میں چنے ہی نہیں ہیں تو لوٹیں گے کیا۔ سوت نہ کپاس، جولاہے سے لٹھم لٹھا جاری رکھئے۔

معیشت کا گہرا تعلق معاشرت سے ہے۔ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کرنے والے معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم نہیں رہتی۔ عورت اور مرد کی مساوات سے انکار کرنے والے معاشرے میں معیشت استوار نہیں ہوسکتی۔ اپنی مفروضہ دیانت داری کی دھونس دے کر آئینی عمل کو بار بار غیر مستحکم کریں گے تو سرمایہ کاری کا پرندہ ہمارے کھلیان میں نہیں اترے گا۔ قانون سازی کی لگام برخود غلط اور نیم خواندہ گروہوں کے ہاتھ میں دے دی جائے گی تو ریاست معیشت کو آگے بڑھانے والے فیصلے نہیں کر سکے گی۔ قانون اور معاشرت کے تانے بانے پر غور کرنے کے لئے تین مثالیں اٹھائیے۔ 1990 میں توہین مذہب کے قوانین بدلنے کے بعد سے متعلقہ تنازعات کی تعداد میں اضافہ ہوا یا کمی واقع ہوئی؟ واضح رہے کہ قانون کا منشا جرم میں کمی لانا ہے، مخصوص سزائیں دے کر کسی کی خود راستی اور خود رائی کی تسکین کرنا نہیں۔ 1990 میں قصاص اور دیت کا آرڈیننس جاری کیا گیا تو عرض کی گئی کہ آپ فرد انسانی کو ملکیت قرار دے رہے ہیں۔ ریاست کے خلاف جرم کو فرد کے خلاف جرم میں تبدیل کر رہے ہیں۔ اس سے نظام قانون کے تمام مفروضات متاثر ہوں گے۔ اب وزارت داخلہ سے پوچھئے کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کو قصاص اور دیت کے قانون کی وجہ سے بڑھاوا ملا ہے کہ نہیں؟ غضب خدا کا ربع صدی ہونے کو آئی۔ سود سے متعلق مقدمہ عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے۔ کسی میں ہمت نہیں کہ ہماری کمزور اور نحیف معیشت کی گردن ان پرفتوح ہستیوں کے پنجے سے چھڑائے جن کے نام اسلام آباد مضاربہ کیس اور اب پاناما لیکس میں سامنے آتے ہیں۔ فروری 1979 میں حدود کے قوانین نافذ کئے گئے تو عرض کی گئی کہ آپ نے عورتوں کے خلاف امتیازی قانون سازی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ ہم پر مگر پارسائی نے ایسا غلبہ کیا تھا کہ کسی نے ایک نہیں سنی۔ تین برس بعد قانون شہادت میں تبدیلی کی گئی، نصف آبادی کی گواہی کا رتبہ تبدیل کر کے امتیاز اور ناانصافی کو فروغ دیا گیا۔ معاف کیجئے گا، مغرب کی سیاسی قیادت کے جس شفاف کردار کا بار بار حوالہ دیا جا رہا ہے وہاں قانون میں صنفی امتیاز کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ قانون اور ہماری پسماندگی اس بحث کا پس منظر یہ خبر ہے کہ کراچی میں سولہ برس کی معصوم بچی کو اس کے ناہنجار بھائی نے سرعام قتل کیا ہے۔ قلم کو اس واقعہ کی تفصیل لکھنے کا یارا نہیں۔ وہ بچی تماشائیوں سے مدد کی درخواست کرتی رہی اور غیرت کا بھوت سروں پر چڑھ کر ناچتا رہا۔ خون زیادہ بہہ گیا تو مظلوم بہن نے آنکھیں بند کر لیں، خاموش ہو گئی اور دنیا سے رخصت ہو گئی۔ سمیرا کے باپ نے اپنے صاحبزادے کو معاف کر دیا ہے۔ معاملہ منظر پر آنے کر بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ لیکن ہمیں معلوم ہے کہ ہماری پولیس بھی غیرت سے خالی نہیں ہے اور ہماری سیاسی قیادت میں بھی حوصلہ نہیں کہ ان پر فتوح ہستیوں سے سوال کیا جائے جنہوں نے پندرہ مارچ کو لاہور میں جمع ہو کر تحفظ خواتین کے مجوزہ قانون کی مخالفت کی تھی۔ ان تقدس مآب مولانا صاحب کو بتایا جائے کہ سمیرا خاموش ہو چکی ہے۔ جنہوں نے پنجاب کے وزیراعلیٰ سے لے کر اس ملک کے ہر اس شریف شہری پر اخلاق سے گرے ہوئے طنز کے تیر چلائے تھے جو اپنی ماں بہن اور بیٹی کو برابر کا انسان سمجھتا ہے اور اس ظالمانہ ثقافت میں انصاف کی خواہش رکھتا ہے۔ خاندان کے مقدس ادارے کے گرد ہاتھوں کا حلقہ کرنے والوں سے پوچھا جائے کہ سمیرا کا لہو مقدس ہے یا اس کے بھائی حیات کی جہالت۔ ہم نے معیشت، معاشرت اور قانون کے دھاگے اس قدر الجھا دیے ہیں کہ اس دیس سے ونگار کی خوشی اٹھ گئی ہے۔ ایک ہی بندش سنائی دیتی ہے، کویلیا مت کر پکار…


Comments

FB Login Required - comments

7 thoughts on “سمیرا خاموش ہے… کویلیا مت کر پکار

  • 29-04-2016 at 11:35 pm
    Permalink

    ?

  • 30-04-2016 at 1:31 am
    Permalink

    بہت اعلی تحریر

  • 30-04-2016 at 2:07 am
    Permalink

    اُف

  • 30-04-2016 at 10:06 am
    Permalink

    …..اس دیس سے ونگار کی خوشی اُٹھ گئی ھے. جب لوگ ذھنی طور پہ بانجھ ھو جائیں,دولت,نام نامی کی حرص میں, پھر کیا کوئی خدا خود نیچے آ کر جادو کی چھڑی چلائے گا.

  • 30-04-2016 at 12:21 pm
    Permalink

    Sohail Rana Akmal Aziz

  • 01-05-2016 at 6:52 am
    Permalink

    وجاہت بھائی، غیرت کے نام پر سمیرا کے قتل اور اس کے مقدس لہو کے حوالے سے آپ نے جو سوالات اٹھائے ہیں اُن پر ہمارے مفتیان دین اور اسلامی شرعی عدالتوں میں بیٹھےچوغہ بند مولویوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ ان قاتلوں کو وہ کب تک تحفظ مہیا کرتے رہیں گے اور قوم کی بیٹیوں کا خون کب تک یوں ہی بہایا جاتا رہے گا ؟
    کرپشن کے دیپک راگ کوجاری رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے آپ نےمجید لاہوری کا یہ مصرعہ بھی یاد دلایا کہ “جب چنے ہی تو نہ پائے گا تو بھنوائے گا کیا”۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ اُن کی وہ نظم بھی پیش کر دیتے جس کا اب ایک ہی مصرعہ ذہن میں آ رہا ہے اور وہ ہے ’’ حد تو یہ کہ رشوت سے خدا راضی ہے۔‘‘ ویسے تو مجید لاہوری کی ایک دعائیہ نظم بھی پاکستانی لیڈروں کو تہجد کی نماز( اگر وہ تہجد گزار ہیں تو ) کے فوراً بعد پڑھنی چاہیے، جوکچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ ’’ قوم کے نام پر مجھ کو داتا دلا، ہوگا تیرا بھلا۔‘‘
    خدا آپ کے لکھے ہوئے ہر ایک لفظ کو تاثیر بخشے ۔

Comments are closed.