خبرناک میں سب برابر ہیں


پرانا لطیفہ ہے کہ ایک شخص نے عینک لگائی ہوئی تھی اور بہت برا لگ رہا تھا ۔ دوسرے نے کہا کہ عینک لگا کر آ پ چغد لگتے ہیں ۔ “اگر عینک اتار دوں تو آ پ مجھے چغد لگیں گے” ، پہلے والے شخص نے جواب دیا۔

خبرناک بہت سے مرحلوں اور مشکلوں سے گزرتا ہوا بہرحال کامیابی سے اپنے راستے پر چل رہا یے۔ اس پروگرام کا کمال یہ ہے کہ اس نے اینکرز کی اجارہ داری ختم کر دی ورنہ ایک زمانے میں ایک اینکر صاحب نے پوری قوم کو اپنی جھوٹی سچی کہانہیوں سے بیوقوف بنایا ہوا تھا۔ علم و دانش کے خود ساختہ مینار بنے ہوئے تھے۔ سمارٹنس یہ تھی کہ پروگرام میں بولا جانے والا ہر فقرہ موصوف کے قد کاٹھ میں اضافہ کرتا تھا چاہے بظاہر انکی بد تعریفی ہی کیوں نا ہو ۔ مثلاً ایک بزرگ کامیڈین جب یہ کہتا کہ اب تو آ پ بہت پڑھ لکھ گئے ہیں ، بہت بڑے میڈیا مین بن گئے ہیں حالانکہ جس ذات برادری سے آ پ کا تعلق ہے وہ تو لوکوں کے ڈھور ڈنگر چرا لیتے ہیں اور بہت لڑاکے ہوتے ہیں ۔ ایسے فقروں سے موصوف کی عظمت مترشح تھی اور ناظرین اس بات پر خوش کہ ،” واہ جی واہ ! اتنے بڑے آدمی کی ذات برادری تک پہنچ گیا ایک بھانڈ ” ۔

اسی طرح ایک صاحب بیٹھے بیٹھے کسی اداکارہ کا روپ دھار لیتے اور ان اینکر صاحب پر لٹو ہونے کا دعویٰ کرتے اور ایسے کرتے ہوئے اینکر صاحب کی کتابوں سے لے کر کشتے کھانے تک ہر بات کی جاتی گویا ناظرین کو اینکر صاحب کے اوقات رفع حاجت بھی معلوم ہوں ۔ ایسا بھونڈا رومانس، ایسا پھکڑ پن، ایسی انجمن ستائش باہمی کم ہی دیکھنے کو ملی ہو گی۔

اسی طرح ایک بزرگ کامیڈین لڑکی بن کر اپنے باپ سے کہتا تھا کہ اسکی شادی کروا دے اور بڑے بڑے لوگوں کا نام لیتا جبکہ تان اینکر صاحب پر ہی ٹوٹتی ۔ وہ ” لڑکی” بھی اینکر صاحب سے ہی شادی کی خواہشمند ہوتی۔

پھر ایک محقق صاحب زبان سے متعلق کچھ اہم معلومات کے آ تے اور اینکر صاحب کمال مشاقی سے اسے یوں پیش کرتے جیسے بہت سی کتابیں کھنگال کر لائے ہوں۔ اگر کوئی مہمان پروگرام میں آ جاتا تو اس پر فرض تھا کہ اینکر صاحب کی مدح سرائی کرے ۔ موصوف اپنے والد کے پرانے بدلے بھی لیتے رہتے مثلاً ان کے والد کی امجد اسلام امجد کے ساتھ ادبی پرخاش تھی۔ اس کا بدلہ ہوں کیا گیا کہ امجد صاحب کی تصویر لگا کر تبرے بھیجے گئے۔ بہت مذاق اڑایا گیا۔ اسی طرح ایک بار عطا الحق قاسمی صاحب نے کامیڈی اور فکاہیہ کالم نگاری پر بات کرتے ہوئے کسی دوسرے کی تعریف کر دی اور ان کا ذکر کرنا بھول گئے۔ بس پھر کیا تھا ! اینکر صاحب نے رگید دیا۔ ٹی وی پر نظر آنے والے ہر دوسرے اینکر سے خود ساختہ مخاصمت محترم کا شیوہ تھا۔

اپنی بڑائی بیان کرتے ہوئے یہ بھی کہتے رہتے کہ اگر انہیں اچھی ٹیم ملی ہوتی تو آ سمان سے پتہ نہیں کونسے ستارے توڑ لاتے۔ حالانکہ ٹیم نے ان کے بعد زیادہ کامیابی سے پروگرام چلا کے دکھا دیا۔ اگر یقین نہیں تو دو ہزار پندرہ سے پرانا کوئی بھی پروگرام اٹھا کر دیکھ لیں۔

کچھ تعلیم یافتہ لوگ اب بھی کہتے پائے جاتے ہیں کہ وہ کامیڈی شوز نہیں دیکھتے اور اگر پروگرام میں کوئی بات خلاف واقعی ہو جاءے تو سب سے پہلے وہی نشاندہیکرتے ہیں ۔ وہ یہ کہتے ہوئے گھبراتے ہیں کہ بھانڈوں کا پراگرام دیکھتے ہیں ۔ خبرناک ایک نہایت ہی اعلی درجے کا طنز پیش کرتا ہے، ہر سیگمنٹ نپا تلا اور علم افروز ہوتا ہے۔ زندگی کی نازک حقیقتوں پر باریکی سے کبھی نشتر چلایا جاتا ہے تو کبھی پھاہا رکھا جاتا یے۔ ہماری آ ڈینس ایک ایک کردار سے خود کو جوڑے رکھتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کسی کے باپ کا پروگرام نہیں ۔ یہاں سب برابر ہیں اور عظمت (خود ساختہ) کسی ایک کے قدموں میں نہیں بیٹھتی۔ مرکز کائنات ایک ہی شخص نہیں ہوتا۔ کرافٹ بڑا ہے، بندہ نہیں ۔ آپ سوچ نہیں سکتے ہمارے بدخواہ کیا کیا کرتے ہیں ۔ کس طرح انکے اعصاب پر یہ پروگرام سوار ہے۔ پرانے اینکر صاحب نے ایک کامیڈین کو، جو انہیں چھوڑ کر آیا تھا، بیلف بھیج کر اٹھوانے تک کی کوشش کی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں