غار حرا میں چند ساعتیں


تیس دسمبر کی صبح فجر کی نماز کے بعد میدانِ عرفات اور جبلِ رحمت دیکھ کر غارِ حرا کی  طرف چل پڑے مجھے ایک طویل عرصے سے اس مقدس مقام کو دیکھنے کی حسرت بھی تھی اور تجسس بھی. ٹیکسی سے اُترے تو میں اپنی اہلیہ اور چھوٹے بیٹے غزن کے ہم راہ تقریبًا ایک فرلانگ مشکل چڑھائی چڑھتا ہوا، اس مقام پر پہنچا جہاں سے غارِحرا کی جانب سیڑھیوں کا طویل اور مشکل سفر شروع ہوتا ہے۔ عقیدت مندوں کا خاصا رش تھا، حتٰی کہ بعض بوڑھے مرد و خواتین بھی ہانپتے ہوئے چند سیڑھیاں چڑھتے اور کنارے پر سستانے بیٹھ جاتے۔ تقریبا یہی احوال دوسرے صحت مند لوگوں کا بھی تھا۔ راستے میں سایہ نہ ہونے کے برابر تھا، اور جاتی دسمبر میں بھی گرمی پڑ رہی تھی۔ ایک اچھے صحت والے آدمی کو بھی تقریبًا ایک گھنٹا لگ جاتا ہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر پہنچتے ہی مکّے کے سنگلاخ پہاڑ اور جدید عمارتیں آپ کے سامنے ہوتیں ہیں۔ تاہم منظر مکمل وضاحت کے ساتھ نہیں بلکہ قدرے دھندلا ہٹ کے ساتھ محسوس ہوتا ہے۔ شاید موسم کا اثر ہو۔

چوٹی پر پہنچنے کے بعد ایک تنگ سا ڈھلوانی راستہ جانبِ حرم اُترتا ہے۔ اس راستے پر اُتر کر چٹانوں کے درمیان سے گزر کر بائیں جانب مڑیں تو غارِ حرا سامنے ہوتا ہے، لیکن میں نے رش کی وجہ سے شارٹ کٹ اپنایا۔ بچپن  کی شرارتوں اور دیہاتی پن کا تجربہ کام آیا، سو میں جنگلے کے دوسری جانب اُترا اور بالکل دیوار جیسے سیدھے خطرناک چٹانوں میں کوئی سوراخ، یا اُبھرا ہوا پتھرڈھونڈ کر پکڑتا ہوا، اُترنے لگا اُوپر اور نیچے کھڑے لوگ حیرت سے دیکھتے تھے۔ بعض نے ڈانٹا اور بعض نے سمجھایا لیکن عقیدت کے معاملات میں زندگی اپنی معنی کھو دیتی ہے۔

نیچے ایک سیاہ فام مجھے دیکھ کر مسکرایا اور اشارہ کیا کہ میرے ہاتھ پر پاوُں رکھ کر اُتر آو۔ ایک پاکستانی نوجوان نے بھی مدد کی اور میں غار  کے دھانے اُترا۔ دیکھا تو غزن غار میں نفل  پڑھ کر باہر آ چکا تھا۔ اس نے غار تک پہنچنے کے لیے مجھ سے بھی زیادہ خطرناک راستہ اپنایا تھا۔ غارِحرا اس شکل میں ہرگز نہیں، جس طرح کے غاروں کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں، اور غارِ حرا کا تصوراتی پیکر بھی اسی طرح تراشتے ہیں، بلکہ یہ چند عمودی چٹانیں ایک دوسرے پر گرتی اور ایک دوسرے کو سہارا دیتی نیچے ایک تکونی دائرہ بناتی ہیں۔

میں نے بغور مشاہدہ کیا تو دائیں جانب ایک بڑی چٹان کے اُوپر دو بڑے پتھر جنوب کی سمت جھکے ہوئے ھیں جو اِسی طرف سے گرتے ہوئے ایک بڑے پتھر کو روکے ہوئے ہیں۔ اِسی پتھر کے بغل میں ایک چھوٹا پتھر بھی ہے۔ جب کہ عقب میں ایک بڑی چٹان ہے، گویا بائیں جانب سے گرتے ہوئے ایک بڑی اور ایک چھوٹی چٹان کو دائیں جانب سے دو پتھروں نے روکا ہوا ہے۔ اِسی سے غارِحرا کا منظر بنتا ہے۔ غار کے اندر شمالاً جنوباً دو پتھر ہیں۔ دائیں جانب والے پتھر پر تکیے، جب کہ بائیں جانب والے پتھر پر ٹیک لگانے والی جگہ کا گمان ہوتا ہے۔ گویا ایک اسٹڈی چیئر۔ میں نے لمحہ بھر کو سوچا کہ میرے حضورٌ اس تکیے پر اپنا سرِ مبارک  رکھتے تو خُدا سے مخاطب ہوتے اور ٹیک لگاتے تو انسانوں کی فکر کرنے لگتے۔

غارِ حرا کی لمبائی تقریبًا پانچ میٹر ہے، تاہم صرف دو میٹر تک آگے جایا جا سکتا ہے؛ کیوں کہ سامنے والی چٹانوں سے نہیں گزرا جا سکتا۔ البتہ دوسری جانب شرقًا غربًا ہَوا اور روشنی آتی جاتی ہے۔ میں نے غار کے اندر دو رکعت نفل پڑھنے کے بعد سلام پھیرا، تو اِن سیاہ مائل پتھروں کو رشک اور حسد سے دیکھتا رہا، جن کی بانہوں میں میرے حضورٌ طویل تنہائی اور تفکّر کا زمانہ کاٹتے رہے۔ اِنھیں پتھروں نے جبریلِ آمین کے پروں  کو تعظیمًا سمٹتے ہوئے دیکھا اور انھیں پتھروں نے  کائنات کا حلیہ تبدیل کرتے ہوئے اِقراء کا نعرہ بھی سنا۔

تھوڑی دیر بعد غارِحرا سے نکل کر چٹانوں کو پھلانگتا ہوا، میں پہاڑ کی چوٹی پر آیا تو گھر والے میرا انتظار کر رہے تھے۔ ہم خاموشی کے ساتھ سیڑھیاں اُترنے لگے غارِ حرا کا رُعب ہمارے اعصاب پر حاوی تھا۔ آخری سیڑھی اُتر کر سڑک پر قدم رکھا تو غزن نے میری طرف دیکھ کر کہا، بابا آ پ کو معلوم ہے غارِ حرا تک جانے کے لیے کل کتنی سیڑھیاں تھیں؟

میں نے  اِنکار میں سر ہلایا، تو اُس نے کہا 926 سیڑھیاں۔ اور اس بچے نے فورًا کہا ہماری نبی کریمٌ کے زمانے میں تو یہ سیڑھیاں بھی نہیں تھیں۔ میں نے اِس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا، سیڑھی تو دور کی بات ہے، سہارا تک نہیں تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
حماد حسن کی دیگر تحریریں
حماد حسن کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں