قومی مفاد کا رکھوالا کون


editپاناما لیکس کے انکشافات کے بعد اٹھنے والا سیاسی طوفان کسی طور تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ فریقین اس معاملہ کو مروج پارلیمانی طریقہ کار اور قواعد و ضوابط کے مطابق طے کرنے کی بجائے جلوسوں ، ریلیوں اور تند و تیز بیانات کا سہارا لے رہے ہیں۔ اس وقت ملک بھر کے سیاستدان سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف اور ان کی پارٹی نے سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کی بجائے جارحانہ طرز عمل اختیار کیا ہے۔ اس کی وجہ سے سیاسی تصادم کی صورتحال مزید خراب ہو چکی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں احتجاجی ریلی نکالنے کے بعد اتوار کو لاہور میں مال روڈ پر احتجاجی جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ اگرچہ صوبائی حکومت نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے اس جلسہ کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے اور پی ٹی آئی کو دوسری جلسہ گاہوں کی پیشکش کی ہے۔ عمران خان البتہ ایسی کسی بھی مفاہمت کو اپنی توہین اور حکومت کا خوف سمجھتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ ان ہتھکنڈوں سے حکومت کو خوفزدہ کر کے اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اگرچہ حکومت نے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی طرف سے سپریم کورٹ کی نگرانی میں کمیشن قائم کرنے کی درخواست منظور کر لی ہے لیکن اب اس کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس کے حوالے سے تنازعہ کھڑا کر کے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا گیا ہے۔ تحریک انصاف اور عمران خان کا دوٹوک موقف یہ ہے کہ وزیراعظم کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے کیونکہ ان کے بیٹوں کی آف شور کمپنیوں کے انکشاف اور وزیراعظم کی دیانتداری کے بارے میں شبہات سامنے آنے کے بعد وہ حکومت کرنے کا اخلاقی جواز کھو چکے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ پاکستان میں نوخیز جمہوری نظام ابھی ایسی اخلاقی اقدار و روایات استوار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے کہ اقتدار پر قابض پارٹی یا افراد آسانی سے استعفیٰ دے کر بحران سے نمٹنے کا راستہ اختیار کرسکیں۔ بدنصیبی کی بات یہ بھی ہے کہ ملک کی سیاسی پارٹیاں کسی قابل عمل اور معقول طریقے پر متفق ہونے میں ناکام ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اپوزیشن ہر بحران کا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ حکومت کسی قسم کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اپوزیشن کے مطالبات کو عام طور سے مسترد کرنے کا رویہ اختیار کرتی ہے۔ چپقلش اور تنازعہ کی اس صورتحال میں فریقین ان اداروں کی طرف مدد کے لئے دیکھتے ہیں جن کا بظاہر ان معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یعنی فوج اور عدالت عظمیٰ۔

موجودہ بحران میں بھی سپریم کورٹ نے اگرچہ یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے پاس ایسی مہارت نہیں ہے کہ وہ بدعنوانی کے موجودہ الزامات کی تحقیقات کرسکے۔ اس کے باوجود اپوزیشن نے سپریم کورٹ کے ذریعے تحقیقات کروانے کا مطالبہ جاری رکھا۔ اب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں، اس لئے کمیشن قائم کرنے کا معاملہ تاخیر کا شکار ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس کی واپسی پر ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ سامنے آئے گا۔ اس دوران عمران خان نے انتظار کرنے کی بجائے کرپشن کے خاتمہ کے لئے ملک گیر مہم چلانے کا اعلان کیا۔ جماعت اسلامی جو اپنی سیاسی اہمیت منوانے کے لئے ایسے کسی بھی موقع کی تلاش میں رہتی ہے، فوری طور پر تحریک انصاف کے احتجاج کا حصہ بن گئی۔ عمران خان نے پنجاب میں پارٹی کے متحارب دھڑوں میں وقتی طور پر صلح کرواتے ہوئے ایک بڑا سیاسی شو کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے زعما سیاسی رابطوں اور جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔

اس حوالے سے تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کی پالیسی بالکل مختلف ہے لیکن دونوں پارٹیاں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کا ایجنڈا مشترکہ ہے۔ تحریک انصاف فوری طور پر وزیراعظم کا استعفیٰ چاہتی ہے۔ لیکن یہ صرف نعرہ ہے، عمران خان کی اصل خواہش یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں اکثریت کے باوجود نواز شریف پر الزام تراشی کے ذریعے، مسلم لیگ (ن) کو اقتدار سے محروم کر دیا جائے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے شاید یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ اگر ایسا ہو بھی جائے تو کیا ہو گا؟ یا پھر خوابوں کی سنہری دنیا میں عمران خان یہ قیاس کئے ہوئے ہیں کہ نواز لیگ کی حکومت ختم ہونے کے بعد کوئی ”غیبی ہاتھ“ انہیں اقتدار کی مسند پر بٹھا دے گا۔ یا شاید انہیں اس بات کا یقین ہو کہ وہ حکومت کو مڈٹرم الیکشن کروانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس طرح وہ الزام تراشی کے ہجوم میں وہی کامیابی حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہوں جو وہ بوجوہ 2013 کے انتخابات میں حاصل نہیں کر سکے اور جسے وہ اب تک دھاندلی کا نام دیتے ہیں۔ اس معاملہ کی تحقیقات ہونے کے باوجود عمران خان اپنے موقف پر قائم ہیں۔ یہ ہٹ دھرمی اگر انہیں بعض صورتوں میں کامیابی دلواتی ہے تو یہی رویہ ان کے سیاسی زوال کا سبب بنے گا کیونکہ وہ تیزی سے لوگوں کے اعتماد سے محروم ہو رہے ہیں۔ ملک کے عوام استحکام اور سکون چاہتے ہیں تا کہ کوئی بھی حکمران ہو لیکن ان کے مسائل پر توجہ دی جا سکے۔ سیاسی بحران اور تصادم کی صورتحال میں یہ ممکن نہیں ہے۔

دوسری طرف پیپلز پارٹی اگرچہ ایسے قیاس قائم کرنے سے دور رہتی ہے جن پر عمران خان اپنی خداداد تصوراتی قوت کی بنیاد پر یقین کرنے لگتے ہیں لیکن پارٹی کی یہ خواہش ضرور ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف پر اتنا دباﺅ بڑھایا جا سکے کہ ان کی حکومت معذور اور بے بس ہو کر رہ جائے۔ وہ ان منصوبوں کو مکمل کرنے میں ناکام رہے جو 2018 کی انتخابی مہم میں اس کے لئے کامیابی کی کنجی ثابت ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف وہ نواز شریف کی حکومت سے سندھ میں زیادہ مراعات حاصل کرنے کی خواہشمند ہو گی۔ اس میں سب سے بڑی مشکل تو یہ ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے زعما کے خلاف مقدمات فوج اور رینجرز کے دباﺅ اور خواہش پر قائم کئے گئے ہیں۔ پاک فوج پہلے تو دہشت گردی سے متعلق مالی معاملات یعنی ٹیرر فنانسنگ TERROR FINANCING کو ختم کرنے کی بات کرتی تھی لیکن آرمی چیف جنرل راحیل شرییف نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے اب یہ قرار دیا ہے کہ ملک سے اس وقت تک دہشت گردی ختم نہیں ہو سکتی جب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ اس لئے بلا تخصیص احتساب کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ سیاستدان اپنی ازلی کمزوریوں اور فوج کو خوش رکھنے کی خواہش …….. جسے عرف عام میں جمہوریت کے تسلسل کا نام دیا جاتا ہے …….. میں جنرل کی ہر بات پر آمین کہنے پر مجبور ہیں۔ حکومت سے باہر سیاسی قوتیں اسے اپنی کامیابی سمجھ رہی ہیں لیکن یہ دراصل اس نظام پر حملہ کے مترادف ہے جس کی بدولت کوئی سیاستدان برسر اقتدار آ سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے سیانوں کو شاید اس کا اندازہ ہے ، اسی لئے ان کی طرف سے آئین کی پاسداری کی یاد دہانی کروائی جاتی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اس تصادم کے آخری مرحلے میں تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی بجائے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑی دکھائی دے گی۔

وزیراعظم اور حکومت نے عدالتی کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنس پر کوئی سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ اپوزیشن بھی یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے کہ اگر سپریم کورٹ کوئی کمیشن نامزد کرتی ہے تو اس کمیشن کا سربراہ حکومت کے فراہم کردہ رہنما اصولوں کی تشریح اپنی مرضی سے کرنے میں آزاد ہو گا۔ لیکن شاید حکومت کی طرح اپوزیشن کو بھی اس بات کا یقین ہے کہ موجودہ نظام ، قانونی ڈھانچے اور انتظامی مشینری کے ہوتے ہوئے کسی بھی قسم کا کوئی بھی کمیشن پاناما پیپرز میں سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر کسی ٹھوس نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسٹیٹ بینک اور بورڈ آف ریونیو کے نمائندوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو آج اس حوالے سے اپنی حدود و قیود سے آگاہ کیا۔ شاید اسی لئے کرپشن کے معاملات میں اداروں کو بااختیار اور موثر بنانے کے لئے قانون سازی پر زور دینے کی بجائے، سیاسی ڈرامہ رچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ صورت حال ملکی معاملات اور بیرونی دنیا سے پاکستان کے تعلقات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ وزیراعظم اپوزیشن کی مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کے لئے جلسے کرنے کا آغاز کر چکے ہیں۔ ان کے ساتھی اخبارات میں بے بنیاد اشتہارات اور ٹاک شوز میں الزام تراشی اور کردار کشی سے بھرپور بیانات جاری کر کے معاملات کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ ایسے میں عوام کے مسائل اس وقت کا انتظار کر سکتے ہیں جب سیاستدانوں کو یہ احساس ہو جائے گا کہ مسئلے حل کرنے کے لئے کام کرنے اور انتشار سے بچنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر مظاہروں ، نعروں اور الزامات پر صلاحیتیں صرف کی جائیں گی تو مسائل حل کرنے کے لئے نہ وقت بچے گا اور نہ ہی بچی کھچی قوت سے بہتری کی کوئی صورت نکالی جا سکے گی۔

اس دوران پاکستان پر طالبان کی حوصلہ افزائی کرنے کے الزامات میں شدت آئی ہے اور افغان صدر اشرف غنی نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اب طالبان کے خلاف فوجی کارروائی کرے۔ یعنی جو کام دنیا کے 50 سے زائد ملکوں کی افواج چودہ پندرہ برس میں نہیں کر سکیں، پاکستان اس کا بیڑا اٹھا لے۔ امریکہ نے حقانی نیٹ ورک کی اعانت کا الزام دہرایا ہے اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے کہنے پر پاکستان کو فروخت کئے جانے والے 8 ایف 16 طیاروں کی جزوی قیمت ادا کرنے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کے لئے 720 ملین ڈالر کی فوجی امداد کی تجویز بھی کانگرس میں تعطل کا شکار ہے۔ حالانکہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان طیاروں کی ضرورت سے آگاہ بھی کر چکا ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت دی گئی ہے تا کہ دنیا کی دو ”عظیم قومیں“ مشترکہ اقدار اور اصولوں پر تبادلہ خیال کر سکیں اور تعاون کو آگے بڑھا سکیں۔ ایسے میں امریکہ کو نہ تو مسلمانوں کے قتل عام میں مودی کے ملوث ہونے کے الزامات یاد ہیں اور نہ وہ اس بات کو اہمیت دے رہا ہے کہ حال ہی میں بھارتی جاسوسوں کے ایک ایسے نیٹ ورک کا سراغ لگایا گیا ہے جو پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث تھا۔

لیکن دوسروں سے گلہ کرنے سے پہلے خود اپنے گریبان میں جھانک کر کیوں نہ دیکھ لیا جائے کہ کیا اس ارض مقدس کے رہنماﺅں کو قومی مفادات سے کوئی غرض ہے یا اقتدار کی دوڑ میں اندھے ہو کر، ارد گرد رونما ہونے والی ہر تبدیلی اور وقوعہ کو نظر انداز کیا جا چکا۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “قومی مفاد کا رکھوالا کون

  • 30-04-2016 at 1:29 am
    Permalink

    صحرا میں اذان

Comments are closed.