انتظار یا انقلاب


کالم، تاریخی طور پر اردو ادب اور صحافت کے نقطہ نظر سے، سیاسی تجزیات اور ملکی حالات پر تبصروں کے لیے مخصوص رہے ہیں۔ اس لیے ہم بھی یہ کار نیک اسی سیاق و سباق میں شروع کرتے ہیں۔ ملک میں الیکشنز کا زمانہ ہے۔ پارٹی ٹکٹس بانٹے اور لٹائے جا رہے ہیں، کہیں کہیں تو امیدواروں کا موسیقی کا ذوق بھی امتحان پر ہے۔ بظاہر یہ ساری مشق اقتدار کے حصول کے لیے ہے، لیکن اپنے ملک کے مخصوص سیاسی پس منظر اور حالات کو سامنے رکھیں تو بون آف کنٹینشن اقتدار نہیں جزوی اقتدار کی حصول یابی ہے۔ سوائے مسلم لیگ نون کے، کسی جماعت کو یہ پروا نہیں کہ متفقہ آئین میں اس مشق کی ’معنویت‘ کیا دی گئی ہے۔

اصل اسٹیک ہولڈر یا اقتدار کے حقیقی مالکان نے اس دفعہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ ملک میں پہلی بار بڑی سرمایہ کاری اور اسٹرٹجک اہمیت کے حامل منصوبوں کی تکمیل کے زمانے میں مکمل اختیار ان کے ہاتھ میں ہونا ضروری ہے۔ سو سیاسی پارٹیوں (اگر ہم انھیں یہ نام دے سکیں) میں اقتدار کی بندر بانٹ، فیوچر اور فیچرز مینیجمنٹ کی ڈرل زوروں پر ہے۔ میڈیا جس نے پچھلے دو انتخابات میں کلیدی کردار ادا کیا، اس بار نادیدہ چھتری تلے قومی نغمے بجانے میں مصروف ہے۔ میڈیا چینل پر بنا ثبوت و دلائل کے کرپشن کا راگ گایا جا رہا ہے۔ نتائج کی پروا کسی کو نہیں متاثرین کو نا ہی متاثر کرنے والوں کو جو انتظار میں بیٹھے ہیں۔ وہ تو کلی صورت احوال سے جزوی طور پر بھی متعلق دکھائی نہیں دیتے۔ لہذا جنگ اب ملک کی بڑی سیاسی جماعت اور ملک کے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈر کے درمیان ہے۔

اس میں سادہ لوح اور محب وطن عوام کا ایک کلیدی کردار ہے۔ سو ان کی موڈ مینیجمنٹ کا بھرپور انتظام دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ سب کچھ قابل حصول ہے تو ہم ایسے چند ایک نام نہاد دانشوروں کے لیے اس پتھر سے شیشے جیسا ایک ہی منظر ابھر رہا ہے۔
ڈالیں گے انتظار کی خو انتظار پر
جب اتفاق ہو ہی گیا انتشار پر
جیسا کہ ہر منظر میں دو امکانات بہر حال موجود ہوتے ہیں، ہم منظر میں سے نہ دکھائی دینے والے دوسرے منظر کو بھی تلاش کریں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ جمود اور جبر کے خلاف متشکل ہونے والی دوسری صورت انقلاب کی ہے۔ جس کے آثار بدلتے ہوئے حالات میں سوشل میڈیا پر دکھائی دیتے ہیں۔

بہت سے افراد اپنے ذاتی صفحات پر پندرہ سے بیس ہزار کی فین فالوونگ رکھتے ہیں۔ یہ حد 5000 دوستوں کے علاوہ ہے اور ان کی تحاریر بلا شبہ پڑھی جاتی ہیں؛ اثرات بھی مرتب کرتی ہوں گی۔ یہ تجزیہ نگار، دانشور کسی میڈیا گروپ کے مالی اور بقا کے معاملات سے آزاد ہیں، لہذا ان میں حریت فکر کی رمق کچھ زیادہ دکھائی دیتی ہیں اور ان میں سے کچھ واقعی پڑھے لکھے بھی ہیں، جو دو غالب انداز تجزیات یعنی اپسٹامولوجی اور اونٹولجی اور رویوں کے پیٹرنز کو پیش نظر رکھتے ہوئے؛ کل کی کروٹوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اپسٹا مولوجی سے یاد آیا کہ کل پرسوں ہمارے چہیتے لیڈر نے ایسے ہی ایک انگریز صحافی خاتون کو انٹرویو دے دیا۔ جس کے بعد ہمارے دی گریٹ عمران خان ’دی آکسن‘ کی بہت بھد اڑ رہی ہے۔ مستقبل کے وزیر اعظم کی ایسی چتھاڑ ملکی پالیسی کے خلاف ہے۔ اگر یہ بد تمیز خاتون ہماری ریاست کے ستونوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی مرتکب ہوئی تو اسے پاکستانی شہری بھی ہونا چاہیے تھا۔ تا کہ اسے قومی مفاد کا مطلب سمجھایا جا سکتا۔ لیکن یہ حریت فکر کیا کرے، پورے پورے خاندان کٹا کر بھی کلمہ حق کہنے سے باز نہیں آتی۔

جن کے سر بڑے، ٹوپیاں یا ذمہ داریاں، ان کی مجبوری تو سمجھ میں آتی ہے، ہم تہی دست و فرو مایہ کیوں اس کار جہاد کو ترک کریں۔ سو ملک کے عظیم پالیسی سازوں سے خطاب کہ جناب کیا آپ ذاتی حیثیت میں صدر امریکا اور دیگر سلیبریٹیز کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ انداز کا ایک پروگرام کر سکتے ہیں؟ یا پھر اگر آپ کو میں یوول نوح حراری کی کتاب سیپئینز بھیجوں تو آپ سکم ریڈنگ کے ذریعے اہم ترین اقتباسات کی نشان دہی کر پائیں گے؟ اگر ایسا ممکن نہیں تو یہ اصرار بالائے آئین کیوں کہ ہم ہی ہیں تو آپ ہیں۔ ان سوالات کے پس منظر میں سقوط ڈھاکا اور بلوچستان کی موجودہ صورت احوال پوری طرح عیاں ہے، جہاں ایک لاڈلے کی لیڈی ڈاکٹر سے زیادتی کے بعد حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ایک عام بلوچ یہ نہیں جانتا کہ وہ ملکی مرکزی دھارے میں بہہ رہا ہے۔ نیشنلسٹ ہے یا باغی؟

مہرے بنانے اور غلام رکھنے کی موجودہ ’موو‘ نے اسے مزید وساوس کا شکار کر دیا ہے۔ اگر آپ نے یہ سبھی کرنا ہے تو ملک کے ساٹھ سال پرانے نصابوں کو بھی الماریوں میں بھریں ان پر تالے لگا کر سارا مواد سمندر برد کر دیں اور ہنسی خوشی رہیں ۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے؟

ایسے میں جناب حسن عسکری رضوی سے بھی یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ ایک ایسی مشینری جو دس سال سے شہباز شریف کے زیر نگرانی کام کر رہی ہے اور جس نے ملک کے ایک صوبے کو صحت، انفراسٹرکچر، توانائی، اور ٹرانسپورٹ میں 17 ویں صدی عیسوی سے اخیر بیسویں صدی میں لا پھینکا ہے، کیا وہ آپ کے سپرد عظیم تر قومی مقصد کو بروئے کار لانے میں معاون ثابت ہو گی۔ مشکل سوال ہے؟ ہے ناں!

آخر میں پھر پتھر سے مضمون بناتے ردیف قافیے اور بحر کی غنایت پر اکتفا کرتے ہوئے صورت احوال سے قریب تر لفظیات میں ایک اور شعر:
زرا سا اور مقدر کو آزماتے چلو
دیے جلا کے رکھو اور ہوا بجھاتے چلو

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
عاکف محمود کی دیگر تحریریں
عاکف محمود کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں