ٹرمپ اور کم جونگ کے یادگاری مصافحے تصاویر میں


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے آخر کار مصافحہ کر لیا۔ لیکن کسی کو بھی یہ نہیں معلوم تھا کہ مصافحے کا لمحہ کس وقت اور کیسے ہو گا۔ اس یادگار مصافحے کے لمحوں کو دیکھیں تصاویر میں۔

سب سے پہلے خالی سٹیج

ٹرمپ اور کم جونگ

Reuters

سنٹوسا جزیرے میں واقعے کپیلا ہوٹل میں امریکی اور شمالی کوریا کے پرچموں کے سامنے بچھے ہوئے ریڈ کارپٹ کی صفائی کی جا رہی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کبھی کبھار ہی ایسا دیکھا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے جھنڈے ساتھ ساتھ رکھے گئے ہیں تو غلط نہ ہو گا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں رہنما برابری میں ہیں اور یہ کم جونگ ان کے لیے بڑی جیت ہے۔

پھر دونوں رہنما داخل ہوئے

ٹرمپ اور کم جونگ

AFP

ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس لمحے کے لیے دونوں رہنماؤں نے ریہرسل کی ہے۔ ٹرمپ دائیں سے سٹیج پر آئے اور کم جونگ بائیں سے۔

اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں رہنما ایک دوسرے سے کافی دور ہیں لیکن ٹرمپ نے مصافحے کے لیے اپنا ہاتھ آگے کیا ہوا ہے۔

12 سیکنڈ کا مصافحہ

ٹرمپ اور کم جونگ

AFP

کم جونگ ان نے ٹرمپ سے ہاتھ ملاتے وقت کہا ’آپ سے مل کر خوشی ہوئی مسٹر پریذیڈنٹ۔‘

یہ ایک مضبوط گرفت کا مصافحہ تھا لیکن ٹرمپ کے معیار سے اس کا دورانیہ چھوٹا تھا کیونکہ وہ لمبے دورانیے کے مصافحے کے عادی ہیں۔

کم جونگ ان کے لیے یہ مصافحہ جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ کیے جانے والے مصافحے سے کم ڈرامائی تھا۔

ٹرمپ اور کم جونگ

Reuters

اور پھر صدر ٹرمپ نے کم جونگ ان کو ریڈ کارپٹ سے لے کر روانہ ہو گئے۔ کئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ پکڑ کر کم جونگ ان کو لے کر جا رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ کنٹرول میں ہیں۔

فوٹو شوٹ

ٹرمپ اور کم جونگ

AFP

اس تصویر میں دونوں رہنما بیٹھے ہوئے ہیں اور فوٹوگرافروں کو موقع دیا گیا کہ وہ تصاویر کھینچیں۔ اس کے بعد دونوں رہنما ملاقات کے لیے چلے گئے۔

یہ وقت تھوڑا عجیب تھا کیونکہ کم جونگ ان زمین کو دیکھ رہے تھے اور ٹرمپ اپنے ہاتھ مل رہے تھے۔

شمالی کوریا کے کے ساتھ اجلاس کے برخلاف اس ملاقات کی پہلے سے طے شدہ رسومات نہیں تھیں۔

رہنمائی

ٹرمپ اور کم جونگ

AFP

اس تصویر میں ٹرمپ اور کم جونگ ان ملاقات کے لیے جا رہے ہیں اور ٹرمپ کم جونگ ان سے ایک قدم آگے ہیں۔ یہ ملاقات 40 منٹ تک جاری رہی۔

اس ملاقات میں کامیابی کا سہرا ٹرمپ اپنے سر لیں گے تاکہ مخالفین پر شدید دباؤ ڈالا جا سکے۔ دوسری جانب کم جونگ ان کے لیے یہ بھی جیت ہے کہ وہ امریکی صدر کے ساتھ بیٹھے جو کہ ان کے والد اور دادا دونوں ہی نہ کر سکے۔

کئی مصافحوں کا دن

ٹرمپ اور کم جونگ

EPA

باہمی بات چیت کے بعد اور پھر مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک مرتبہ پھر ہاتھ ملائے۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4208 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp