لکھنؤ کے مندر میں افطار کا اہتمام، تہذیب و ثقافت کے شہر میں مذہبی رواداری کی مثال

سمیر آتماج مشر - بی بی سی، لکھنؤ


دریائے گومتی کے کنارے ایک طرف شیو مندر میں پوجا کی گھنٹیوں اور دوسری جانب اللہ اکبر کی صدائیں۔ یہ نظارہ حال ہی میں انڈیا کے تہذیب و ثقافت کے شہر لکھنؤ میں نظر آیا۔

مقام تھا من کامیشور مندر جہاں مسلمانوں کے لیے افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا تھا اور شام میں روزے داروں نے آرتی اور نماز کے ساتھ اپنا روزہ کھولا۔

شہر میں شاید یہ پہلا موقع تھا جب کسی مندر میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا گیا۔ گومتی ندی کے کنارے واقع قدیم شیو مندر ہندوؤں کے عقیدے کا ایک بڑا مرکز ہے۔

افطار کا اہتمام مندر کی بڑی پجارن دِویہ گری نے کیا تھا۔ افطار میں سینکڑوں مسلمان روزے داروں نے شرکت کی۔ اس میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے علما بھی موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے

آر ایس ایس افطار لے کر تیار ہے

کشمیر میں شیعہ سنی اتحاد کا انوکھا مظاہرہ

افطار کے بارے میں مہنت دِویہ گری نے بتایا: ‘سبھی مذاہب محبت اور ہم آنگی کا پیغام دیتے ہیں۔ کئی بار مسلم بھی ہندوؤں کے تہواروں کے موقع پر مذہبی تقریبات میں حصہ لیتے ہیں۔ پجاریوں، اماموں اور مہنتوں کو بھائی چارے اور امن کا پیغام دینا چاہیے۔ صبح سے شام تک روزے رکھنے والوں کی خدمت کرنا ثواب کا کام ہے۔’

مہنت دِویہ نے بتایا کہ پانچ سو روزے داروں کے لیے افطار کا انتظام کیا گیا تھا اور تقریباً اتنے ہی لوگوں نے شرکت کی۔ ان کے مطابق مندر کی تین رسوئيوں (باورچی خانوں) میں صبح سے ہی تیاری شروع ہو گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر میں شیعہ سنی اتحاد کا انوکھا مظاہرہ

’علی گڑھ یونیورسٹی میں رمضان مشکل رہا‘

من کامیشور مندر کے گھاٹ پر پہلی بار ہونے والی اس افطار پارٹی میں مسلمان مذہبی رہنماؤں کے ساتھ بڑی تعداد میں روزے داروں نے شرکت کی۔ لکھنؤ کی ٹیلے والی مسجد کے امام مولانا فضل منان کے ساتھ مولانا سفیان نظامی نے نماز ادا کرائی۔

سبھی نے مندر کے اس قدم کی ستائش کی۔

مولانا فضل منان نے کہا: ‘مہنت دِویہ گری نے مجھے دعوت نامہ بھیجا۔ اس طرح کی مذہبی تقریب کا حصہ بننا ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ ان کا یہ قدم قابل ستائش ہے۔ اس سے شہر میں مذہبی رواداری کو تقویت حاصل ہوگی۔’

افطار سے پہلے مسلمان مذہبی رہنماؤں نے مہنت کو کندھے پر ڈالنے والا کفایہ پیش کیا اور پجاریوں نے خود روزے داروں کو افطار کرائی۔ لکھنؤ میں گذشتہ برسوں سے عید کے موقع پر شیعہ اور سنی فرقے کی نماز مشترکہ طور پر کرانے والی انجمن ‘شولڈر ٹو شولڈر’ کے بھی بعض کارکن اس افطار میں موجود تھے۔

ایک کارکن محمد فرقان کا کہنا تھا ‘ہمارا یہی خواب ہے کہ نہ صرف لکھنؤ بلکہ پورے ملک میں سبھی مذاہب کے لوگ ہر مذہب کا تہوار مل جل کر منائیں۔’

ابھی گذشہ ہفتے ایودھیا کے بھی ایک قدیم مندر کے مہنت نے مقامی مسلمانوں کو افطار کی دعوت دی تھی۔ متنازع رام جنم بھومی مندر کے نزدیک واقع سریو کنج مندر کے مہنت نے اس افطار کا اہتمام کیا تھا۔ روزے داروں نے افطار کے ساتھ مندر کے احاطے میں ہی نماز بھی ادا کی تھی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4208 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp