ووین بالا کرشنن، کم اور ٹرمپ کی ملاقات کا ’انڈین کنکشن‘

زبیر احمد - بی بی سی ہندی، سنگاپور


شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان پیر کی رات سنگاپور کی سیر پر نکلے تھے۔

کم جونگ ان کا چین کے بعد یہ دوسرا غیرملکی دورہ ہے اور وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

کم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں ویسے تو انڈیا کا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن اس ملاقات کی مہمان نوازی کرنے اور اس کا انتظام کرنے والے ایک خاص شخص کا تعلق انڈیا سے ہے۔

یہ شخصیت سنگاپور کے وزیرخارجہ ووین بالاکرشنن ہیں جو پیر کی رات شمالی کوریا کے رہنما کو سیر کرانے کے لیے لے گئے تھے۔

انڈین نژاد بالاکرشنن ان دنوں سنگاپور کے سب سے نمایاں وزیر ہیں۔ وہ واحد ایسے رہنما ہیں جنھوں نے پچھلے کچھ دنوں میں شمالی کوریا کے رہنما کم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کافی وقت ساتھ گزارا۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں!

’کِم سے ایمانداری سے اور لگی لپٹی رکھے بغیر بات ہوئی‘

سنگاپور میں ’ہاتھ ملانے‘ کے یاد گار لمحات

کم جونگ ان کو جعلی پاسپورٹ کی ضرورت کیوں؟

وہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک کڑی ہیں۔ اس لیے دونوں رہنماؤں کی ٹیم کے لیے بالاکرشنن اس وقت سب سے اہم ہیں۔

انھوں نے اتوار کو چانگی ایئرپورٹ پر صدر ٹرمپ اور چیئرمین کم کا استقبال کیا اور بعد میں دونوں سے الگ الگ ملاقات کرکے انھیں دو طرفہ ملاقات کی معلومات فراہم کیں۔

ان دنوں مقامی میڈیا میں ڈونلڈ ٹرمپ اور کم کے بعد جو سب سے زیادہ تصویروں میں نظر آرہے ہیں وہ ووین بالاکرشنن ہی ہیں۔

بالاکرشنن کا انڈین کنکشن

بالاکرشنن کے والد تمل ہیں اور ان کی والدہ چینی نژاد ہیں۔

تھرونل کراسو انہی کی طرح ایک تمل خاندان کی دوسری نسل سے ہیں اور انھیں قریب سے جانتے بھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ‘بالاکرشنن اور انڈین نژاد کئی وزیر یہ ثابت کرتے ہیں کہ سنگاپور میں انڈین کمیونٹی کافی زیادہ کامیاب ہے۔’

بالاکرشنن کے والدین اس بات کی علامت ہیں کہ ہندی چینی ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔ سنگاپور میں دونوں کمیونٹیوں میں شادیوں کی کئی اور بھی مثالیں ہیں۔

یہاں کے ہندو مندروں میں چینی کمیونٹی کے لوگوں کا پوچا پاٹ کرتے نظر آنا یا انڈین ریستورانوں میں انھیں کھاتے دیکھنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

ووین بالاکرشنن کے چار بچے ہیں۔ 57 سالہ ووین بالاکرشنن کی سیاست میں آمد سنہ 2001 میں ہوئی۔ وہ جلد ہی ترقی کی منزلیں طے کرنے لگے اور سنہ 2004 میں ایک جونیئر وزیر کا عہدہ سنبھالا۔ جلد ہی وہ ماحول اور پانی کے ذخائر کے وزیر بن گئے اور پھر سنہ 2015 میں وہ سنگاپور کے وزیرخارجہ بنے۔

پچھلے دنوں جب وزیراعظم نریندر مودی سنگاپور آئے تھے تو ان کی دیکھ بھال اور ان کا خیال رکھنا بالاکرشنن کی ذمہ داری تھی۔ ان کے دوست کہتے ہیں کہ ووین بالاکرشنن کے وزیرخارجہ بننے کے بعد سنگاپور اور انڈیا کے تعلقات اور بھی گہرے ہوئے ہیں۔

ووین بالاکرشنن سیاست میں آنے سے پہلے آنکھوں کے ڈاکٹر تھے۔ وہ لندن کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ شاید اس لیے ان کی نگاہیں کافی تیز رہتی ہیں اور وہ کم ٹرمپ ملاقات کی ذمہ داری خوبی سے نبھا رہے ہیں۔

اس ملاقات کی تیاریوں کے سلسلے میں ووین بالاکرشنن ایک ہفتے کے دورے پر امریکہ اور شمالی کوریا گئے تھے۔

اگر اس کا نتیجہ اچھا نکلتا ہے تو اس کی کامیابی کا کچھ حصہ بالاکرشنن کو بھی ملنا چاہیے۔ پیر کو کم جب بالاکرشنن سے ملے تو انھوں نے ملاقات کے انتظام کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 4173 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp