ریحام خان: عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا



جب ریحام خان اور عمران خان کی شادی ہوئی تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ دونوں کی جوڑی اتنی پسند آئی کہ میں نے ریحام خان اور عمران خان کی شادی کی تصویر بطور ڈی پی اپنی فیس بک پروفائل پر لگا لی۔ بلا شبہ ریحام خان میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو عمران خان کی اہلیہ میں ہونی چاہیے تھیں۔ ریحام خان حسین، کمال لب و لہجہ، خوش گلو اور کئی صلاحیتوں کی مالک تھیں۔ سچ تو یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ وہ بھی ایک لیڈر جیسی لگتی تھیں اور دونوں کو ساتھ دیکھ کر دل کو عجیب سی خوشی محسوس ہوتی تھی، لیکن یہ خوشی آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگ گئی۔

جب مجھے اندازہ ہوا کہ ریحام خان شہرت کی متلاشی ہیں۔ تو لگا کہ عمران خان جیسے آدمی کا ریحا م خان کے ساتھ گزارا ممکن نہیں، لیکن میرے دل کو دونوں کی جوڑی اتنی اچھی لگی کہ کبھی دل چاہا نہیں کہ دونوں الگ ہوں۔ تا ہم میرا خدشہ کچھ مہینوں بعد ہی سچ ثابت ہو گیا؛ عمران خان اور ریحام خان میں علیحدگی ہو گئی۔

طلاق کے بعد ریحام خان نے ایک پروگرام کے دوران گانا گایا ’عشق میں غیرتِ جذبات نے رونے نہ دیا‘۔ تو نجانے کیو ں مجھے لگا کہ ریحام خان کے ساتھ کہیں نہ کہیں زیادتی ہوئی ہے، لیکن اب پتا چلا ہے کہ ریحام خان تو پکی اداکارہ ہیں۔ اپنی آنکھوں میں نمی لانا بخوبی جانتی ہیں۔ ریحام خان نے اپنے ان جھوٹے آنسوؤں کے ساتھ پاکستانی عورتوں کے جذبات کے ساتھ خوب کھیلا ہے۔ کیا ہی بھلا ہوتا اگر ریحام خان طلاق میں پوری دنیا میں پاکستانی عورت کو بے عزت کرنے کی بجائے، چپ چاپ اپنی زندگی گزار دیتیں۔ ریحا م خان نے پوری دنیا میں جس طریقے سے پاکستانی عورت اور پاکستانی معاشرے کی ترجمانی کی ہے، وہ قابل افسوس ہے۔ اس کے مقابلے میں عمران خان کی پہلی اہلیہ اور مغربی عورت جمائما گولڈ اسمتھ نے جس اخلاق کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔

کچھ روز سے میڈیا پر ریحام خان کی کتاب کے علاوہ کوئی اور موضوع ہی نہیں ہے۔ لگتا ہے جیسے پاکستان کے سارے مسائل ختم ہو گئے اور اب پاکستانی عوام کو چسکے لینے کے لیے ریحام خان کی کتاب کے اقتباس پیش کیے جا رہے ہیں۔ جس میں ریحام خان پاکستان کی ان شخصیات کی عزت کی دھجیاں اڑا رہی ہیں، کہ جن کی وجہ سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔ مجھے ریحام خان کا کتاب لکھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن جب سے ریحام خان کی کتاب کے حوالے سے میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں، تب سے میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر خبریں نہیں دیکھ پا رہی۔

اس کتاب کے حوالے سے جو خبریں میڈیا پر گردش کر رہی ہیں ، اس کے مطابق ریحام خان نے عمران خان کے ساتھ گزرے کچھ لمحوں کا ذکر اس طریقے سے کیا ہے کہ وہ نا قابل بیان ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ریحام خان عمران خان سے دشمنی کے بعد ایک میدان جنگ میں ہیں اور عمران خان کا مقابلہ تلوار کی بجائے ایک کتاب سے کر رہی ہیں۔ اس کتاب میں نہ صرف عمران خان بلکہ ان کی قریبی شخصیات کو بھی نہیں بخشا گیا۔ یہاں تک کہ میڈیا میں کام کرنے والی خواتین اینکرز کے بارے میں ایسی باتیں لکھی گئی ہیں کہ یقیناً وہ میڈیا پر یہ خبریں چلنے کے بعد گھر والوں سے مشکل ہی سے نظریں ملا پا رہی ہوں گی۔

اطلاعات کے مطابق جب کہ اس کتاب میں وسیم اکرم کی مرحومہ اہلیہ کو بھی نہیں بخشا گیا۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اگر آج اس کتاب کی وجہ سے عمران خان کی ساکھ کو متاثر کیا جا رہا ہے اور ان کی ذاتی زندگی پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے تو کل کو کوئی بھی سیاست دان اس کیچڑ سے اپنے کپڑے نہ بچا پائے گا۔ تمام سیاسی رہنما ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے قلم اور کتاب کو بہت برے طریقے سے استعمال کریں گے۔ ایک رائٹر ہونے کی حیثیت سے میرے نزدیک ایک کتاب میں ایسا متنازع مواد کا شامل ہونا کتاب اور قلم کی توہین ہے۔

ابھی تک میڈیا پر ریحام خان کی کتاب کے حوالے سے جو بھی خبریں چل رہی ہیں، ریحام خان نے ان میں سے کسی خبر کی تردید نہیں کی۔ اگر اس کتاب کے اثرات کی بات کریں تو میر ے خیال سے یہ کتاب ہمارے معاشرے کو کوئی اچھا پیغام نہیں دے گی۔ جس قسم کا مواد اس کتاب میں شامل ہے وہ نفرتیں پھیلانے اور پاکستان کے قومی ہیروزکو پوری دنیا میں بدنام کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کرے گا۔ یہ کتاب ریحام خان کی بد نامی کا سبب بھی بن رہی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بہادر عورت کے ساتھ ویسے بھی کچھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔مرحومہ عاصمہ جانگیر کمال کی نڈر خاتون تھیں، لیکن ان کو بھی اپنی زندگی میں بے شمار الزمات کا سامنا کرنا پڑا۔

ریحام خان کا ماضی بھی لوگوں کے سامنے ہے، جس کو بنیاد بنا کر ریحام خان پر بھی خوب کیچڑ اچھالا جا رہا ہے۔ اگر طلاق کے بعد ریحام خان کچھ اخلاقیات کا مظاہرہ کرتیں، تو شاید آج پاکستانی عوام کے دل میں ان کی عزت عمران خان سے بھی زیادہ ہوتی۔ اس کی مثال جمائما کی صورت میں موجود ہے۔ پاکستانی عوا م آج بھی جمائما کی عزت کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اب ریحام خان کی بیٹی کی بھی کچھ تصاویر وائرل کی جا رہی ہیں، جو کہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ ریحام خان کو ایک دن اپنی کتاب کی وجہ سے رونا پڑے گا۔ ریحام خا ن پٹھان ہے، سنا ہے کہ پٹھان بہت غیرت مند ہوتے ہیں۔ کاش ریحام خان بھی اس عشق میں غیرتِ جذبات کا کچھ خیال کرتی اور خود کو رونے سے بچا لیتی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں