کرنل صاحب کا انصاف


لفٹننٹ کرنل پیٹرسن عباسیہ کیمپ کے کمان افسر تھے۔ آپ کی سیرت کے کئی درخشاں پہلو تھے لیکن جس پہلو سے ہم ماتحتوں کا واسطہ تھا یعنی آپ کا مزاج، وہ اتنا درخشاں نہ تھا جتنا آتش فشاں تھا۔ نتیجتہً ہمیں جرمنوں کے علاوہ اپنے کرنل صاحب سے بھی جنگ یا خانہ جنگی کا سامنا تھا۔

آپ ادھیڑ عمر اور درمیانے قد کے خوبرو سے آدمی تھے۔ ملاقات پر ابتدائی کلمات میں ایسی شرافت و حلاوت کا اظہار کرتے کہ آپ پر فرشتہ ہونے کا گمان ہونے لگتا۔ لیکن جوں جوں گفتگو آگے بڑھتی آپ صراطِ مستقیم سے بتدریج پھسلنے لگے اور اپنی حلاوت میں عرق چرائتہ ملانا شروع کر دیتے۔ تھوڑی دیر بعد کوئی شبہ نہ رہتا کہ آپ کونسے فرشتے کے بروز (ظہور) ہیں۔

ہم نے کئی لوگوں کو آپ کے دفتر میں گنگناتے اور چہچہاتے داخل ہوتے دیکھا۔ چق کے پیچھے سے ایک دو قہقہے بھی سنائی دیے لیکن پھر کبھی چیخیں بلند ہوئیں، کبھی گالیاں گونجیں، کبھِی مکے چلے اور کبھی تھپڑ برسے۔ چونکہ کرنل صاحب مساوات کے قائل تھا لہذا اس کلیے سے کوئی ملاقاتی مستثنے نہ تھا۔
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے

ایک دن کیمپ کے ایڈجوٹنٹ کیپٹن بِنگو فنک شرفِ ملاقات حاصل کرنے کے بعد نکلے تو ان کی آنکھ کے گرد ایک بے عیب آبنوسی ہالہ تھا جو کرنل صاحب کے زورِ دست کا نتیجہ تھا۔ دوسرے دن سیکنڈ ان کمانڈ میجر بریٹ برآمد ہوئے تو ان کے کپڑوں پر روشنائی کی ایک وسیع اور دلکش سی افشاں تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ ایک دوات کا خونِ ناحق بھی کرنل صاحب کے سر ہے۔

غریب ہیڈ کلرک کے ماتھے پر تو ایک مستقل مخروطی ”روڑا“ ابھرا رہتا تھا جس کی تازگی میں کوئی کمی نہ آتی تھی کہ کرنل صاحب مناسب وقفوں کے بعد اپنے پیپر ویٹ سے اس کی تجدید کرتے رہتے تھے لیکن کرنل صاحب کا شاہکار وہ واقعہ تھا جو ایک صبح انہیں کیمپ کے مالی کے ساتھ پیش آیا۔

سات بج رہے تھے۔ تمام لوگ اپنے کاموں پر آ رہے تھے۔ کرنل صاحب بھی ہاتھ میں چھڑی لیے دفتر کی سمت رواں تھے کہ اتفاقاً آپ کی نگاہ مالی پر پڑی جو پھولوں کی کیاری میں کام کر رہا تھا۔ حسب معمول آپ نے اسے بھی بے مقصد شرف گفتگو بخشا۔ پھر جیسا کہ دستور تھا، گفتگو شاباشوں سے گزر کر گالیوں سے ہوتی ہوئی ڈنڈوں تک آ پہنچی اور مالی بھاگ نکلا۔

خدا جانے کرنل صاحب کو کیا سوجھی کہ مالی کا تعاقب شروع کر دیا اور ہم لوگ کیا دیکھتے ہیں کہ آگے آگے مالی عربی زبان میں فریاد کرتا ہوا بھاگ رہا ہے اور پیچھے پیچھے کرنل صاحب انگریزی میں گالیاں دیتے ہوئے تیزی سے لپک رہے ہیں۔

کیمپ کے سینکڑوں افسر اور سپاہی کام چھوڑ کر تماشہ کرنے لگتے ہیں۔ وقتاً فوقتاً کوئی بدتمیز جونئیر افسر جھوٹی تحسین کے طور پر کرنل صاحب کے حق میں تالی بھی بجا دیتا ہے۔

ادھر بھاگتے مالی کے چہرے پر ہراس ہے اور پیشانی پر پسینہ۔ کرنل صاحب کی آنکھوں میں غضب ہے اور منہ پر جھاگ۔ راہ میں ایک ٹینک کھڑا ہے۔ مالی جانِ عزیز بچانے کی خاطر ٹینک پر چڑھ جاتا ہے۔ لیکن پیچھے دیکھتا ہے تو کرنل صاحب بھی جوں توں کر کے ٹینک پر چڑھ رہے ہیں۔ مالی بے خطر چھلانگ لگا کر زمین پر آ جاتا ہے۔ کرنل صاحب بھی اتنی ہی بے ساختہ چھلانگ لگا دیتے ہیں۔

مالی کہ جوان ہے، سنبھل کر اٹھتا ہے اور بھاگنے لگتا ہے لیکن کرنل صاحب کا حال یہ ہے کہ عشق کی ایک جست نے کر دیا قصہ تمام۔ چھلانگ کے بعد ڈھیر ہو جاتے ہیں۔ مالی مڑ کر دیکھتا ہے تو سمجھ جاتا ہے کہ آج کا تماشہ ختم ہے۔ آرام سے الٹے قدم جا کر کیاری میں نلائی شروع کر دیتا ہے۔

بدقسمتی سے اس حادثے میں کرنل صاحب کے پاؤں میں چوٹ آ گئی۔ دو دن ہسپتال میں رہے۔ مہینہ بھر لنگڑاتے رہے اور مہینہ بھر ہمارا جینا حرام کر دیا۔ یعنی اور باتوں کے علاوہ ہمارے شہر جانے پر پابندی لگا دی۔ ہمارا قصور یہ تھا کہ مالی کی گرفتاری میں غیر جانب داری سے کیوں کام لیا؟

بجنگ آمد سے اقتباس

کرنل صاحب اور ارجن سنگھ کی وہسکی

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

کرنل محمد خان کی دیگر تحریریں
کرنل محمد خان کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں