کالے جسموں کی ریاضت


فیس بک پہ کتاب کا سر ورق شاید پبلشرز نے شئیر کیا تھا۔ کتاب کا نام اتنا دلکش تھا کہ نظریں ایک دم سے اٹک گئیں۔ ’کالے جسموں کی ریاضت‘۔ کیا خوبصورت عنوان ہے۔ کالے جسموں کی صدیوں پہ محیط ریاضت کا درد سرورق سے چھلک رہا تھا۔ ترجمہ کرنے والوں کے نام درج تھے۔ ڈاکٹر خالد سہیل اور جاوید دانش۔

ڈاکٹر خالد سہیل کے کئی کالم ’ہم سب‘ پہ میں پڑھ چکا تھا۔ ان کی انسان دوستی، محبت، رواداری، مثبت سوچ، حق گوئی، انصاف پسندی اور زندگی کو جی بھر کے جی لینے کی آرزو جیسی خوبیوں سے بے حد متاثر ہوا۔ وہ ماہر نفسیات، دانشور، افسانہ نگار، شاعر، کالم نگار اور محقق ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر انسانوں سے محبت کرنے والے۔ یقیناً ان کا انتخاب خوبصورت ہی ہو سکتا ہے۔ یہ سوچ کر فوری واٹس ایپ نمبر پہ کتاب منگوانے کا آرڈر دے دیا اور دو تین دنوں میں کتاب کراچی سے پاکپتن آ پہنچی۔ وہ بھی صرف 430 روپے بمعہ ڈاک خرچ میں۔

افریقی ادب میں وہ سارے مسائل گندھے نظر آتے ہیں جن کا سامنا سیاہ فام نسل کے لوگ کرتے آئے ہیں۔ اس کتاب میں بھی کہیں غلامی کی بے رحم زنجیروں میں جکڑے کالے جسم نظر آتے ہیں جو آزادی اور برابری سے زندہ رہنے کی آرزو کرتے ہیں۔ کہیں ان زخموں سے چور جسموں پہ نسلی امتیاز کے کوڑے پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ کہیں غربت اور بھوک کی آندھیاں چنگھاڑ رہی ہیں تو کہیں قحط، بیماری، بے روزگاری، احساس کمتری، احساس محرومی اور ظلم کے گہرے سائے چھائے ہیں۔

سیاہ فام ادیبوں کے ادب پاروں میں آزادی کی تمنا سانس لیتی نظر آتی ہے۔ نسلی امتیاز کے خلاف پر زور احتجاج ہے جو آسمان کا سینہ بھی چاک کر دیتا ہے۔ انصاف اور احترام آدمیت کی التجا ہے جو مردہ دلوں پہ جمی برف کی دبیز تہہ پگھلا دیتی ہے۔ روشن صبح کے لیے جدوجہد ہے جو گھور اندھیری رات کو بھی شان سے جی لینے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہ ادب پارے ایک آئینہ ہیں جس میں گورے لوگ اپنا چہرہ دیکھ کے پانی پانی ہو جائیں۔

افریقی ادب کے یہ شہ پارے پڑھنے سے قاری کی سوچ کو نئی وسعتیں عطا ہوتی ہیں۔ کالے جسموں کی طویل اور سخت ریاضت سے اٹھتی درد کی ٹیس کو وہ محسوس کرتا ہے۔ آزادی اور انصاف کی قدرو قیمت سے شناسائی ملتی ہے۔ زندگی کو بہتر طریقے سے جینے کا درس ملتا ہے۔ ژاں پال سارتر کے نزدیک ’انسان کو سمجھنے کے لیے انسان کی تباہی کی کہانی اور ظلم کے قصے کو سمجھنا بہت ضروری ہے‘۔ لہذا کتاب میں موجود ظلم کی داستانیں ہمیں انسان کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

فرانسیسی ادیب ژاں پال سارتر کی کتاب ’وٹ از لٹریچر‘ کے باب ’بلیک آرفیس‘ کا اردو ترجمہ ’دنیا کی بنیادیں ہل جائیں‘ کے عنوان سے کیا گیا ہے۔ اس میں خوبصورت خیالات ہیں جن کی ایک چھوٹی سی جھلک دیکھیے۔

’سفید فام لوگون نے ہر چیز کو ایک خاص نگاہ سے دیکھا۔ اپنی جلد کی سفیدی کو ایک خاص رنگ دیا۔ انہوں نے سفیدی کو دن، حسن، سچائی، نیکی اور ایسی روشنی سمجھا جو زندگی کی تاریکیوں کو اجاگر کر دیتی ہے۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔ کالے لوگ اعتماد سے کھڑے ہو گئے ہیں اور کالی روشنی سے ماحول کو منور کر رہے ہیں۔ ‘

’وہ (سیاہ فام ادیب) سیاہ رات کو صرف گناہ اور محرومی کی علامت ہی نہیں سمجھتے بلکہ اسے جدوجہد کی علامت بھی بناتے ہیں۔ ایسی جدوجہد جس کی کوکھ سے صبح طلوع ہو گی۔ ‘

سارتر مزید لکھتا ہے کہ ’سیاہ فام شاعر اپنی نظموں کی فضا میں الفاظ ایسے اچھالتا ہے جیسے آتش فشاں پہاڑ کے دہانے سے پتھر نکلتے ہیں۔ اور وہ الفاظ کے پتھر یورپ اور کلونیلزم کی عمارت کو مسمار کرتے رہتے ہیں‘۔

’وہ ایک ایسے مقام تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے جہاں انسان انسانیت کے ناطے سے پہچانے جائیں گے نہ کہ جلد کی رنگت کی وجہ سے‘۔

مضمون کے آخر پر سارتر سیاہ فام لوگوں کی حوصلہ افزائی کچھ یوں کرتا ہے
’اے سیاہ فام لوگو
اپنی جدوجہد تیز کر دو
اتنا زور سے چیخو کہ
دنیا کی بنیادیں ہل جائیں‘

اس سے قبل میں نے مشہور ناول ’تھنگز فال اپادٹ‘ پڑھا ہوا تھا جو نائجیریا کے سیاہ فام ادیب چنوا ایچی بی کی شاہکار تخلیق ہے۔ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر کی شہرہ آفاق تقریر ’میرا ایک خواب ہے‘ کا متن بھی پڑھا ہوا تھا۔ اور اب ’کالے جسمون کی ریاضت‘ میں افریقہ، آسٹریلیا، یورپ اور امریکہ کے نامور سیاہ فام ادیبوں کے فن پارے پڑھنے کا موقع ملا۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب سیاہ فام ادیب اتنے زور سے چیخے ہیں کہ انہوں نے دنیا کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ سارتر کی روح کو خوشی ملی ہو گی۔

افریقی شعراء کی خوبصورت لطیف خیالات سے لبریز  نظمیں ہیں جو ڈاکٹر خالد سہیل نے ترجمہ کی ہیں۔ برناڈ ڈاڈی کا تعلق کوٹے ڈی آئیوری سے ہے جو مشہور شاعر،   ڈرامہ نگار اور ناول نگار ہیں۔ انہوں نے فرانسیسی استعماریت کے خلاف اپنے ملک کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ ان کی باکمال اور عالمی شہرت یافتہ نظم ’اے خدا تیرا شکر ہے‘ بھی کتاب کا حصہ ہے۔

  ’اے خدا تیرا شکر ہے
کہ تو نے مجھے کالا پیدا کیا
میں ساری دنیا کے دکھ اور غم اپنے کندھوں پر لیے پھرتا ہوں
میں کالی رات میں اتنے قہقہے لگاتا ہوں
کہ وہ صبح کا روپ اختیار کر لیتی ہے‘

نائیودا اوساہون کی ایک نہایت جاندار نظم ’ایک سادہ کالا آدمی‘ ہے جس کے تیز دھار الفاظ قاری کے دل میں بہت گہرے اترتے چلے جاتے ہیں۔ سیاہ فام درد کی جس چکی میں پستے ہیں وہ درد بھی عیاں ہے۔   نظم کا ٹکڑا پڑھیے۔

’اگر
ایک چور
تمہاری ماں، بیوی اور بیٹی سے زنا بالجبر کرے
تمہیں بے دردی سے مارے
اور تمہارے مال و دولت سمیت فرار ہو جائے
اور
برسوں بعد
جب پولیس اسے نہ پکڑ پائی ہو اور قانون نے اسے سزا نہ دی ہو
اور وہ تمہیں پارٹی میں مل جائے
تو تم کیا کرو گے؟
کیا اسے معاف کر دو گے اور بھول جاؤ گے؟
اگر ایسا ہے تو تم ایک سادہ کالے آدمی ہو‘

جنوبی افریقہ کے سابق صدر اور سیاہ فاموں کی آزادی کی جدوجہد کی علامت سمجھے جانے والے نیلسن منڈیلا کے چند خطوط بھی کتاب کا حصہ ہیں۔

نائجیریا کے نوبل انعام یافتہ ادیب وول سونیکا کا ڈرامہ ’دلدل کے باسی‘ میں جنوبی نائجیریا کے پسماندہ دیہاتی زندگی کے کردار سخت مسائل سے دوچار ہیں۔ ایک نا امیدی سی چھائی ہے۔ کوئی ایسا مشکل کشا بھی نہیں جو مصائب بھری زندگی میں مدد کر سکے۔ کوئی قحط اور پانی کی کمی کے مارے ہیں تو کوئی پانی کی زیادتی سے تباہی کی دلدل میں ہانپ رہے ہیں۔

’فقیر:  ساری محنت ٹڈی دل کے ایک حملے سے صاف ہو گئی۔ پھر میں گھر سے نکلا اور لوگوں کو آواز دینے لگا کہ کوئی مجھے دریا کا راستہ بتا دے۔ ایک راہگیر نے پوچھا کون سا دریا۔ میں نے کہا کسی بھی دریا یا ندی کی طرف میرا منہ کر دو۔ مجھے پانی کے قریب رہنا ہے۔ کیوں کہ اب میں سوکھے سے بیزار ہو چکا ہوں۔ ‘

  ’ماکوری:  کبھی کبھی دیوتاؤں سے بھی بانٹنے میں بھول ہو ہی جاتی ہے۔ وہ ہر ایک کو ایک طرح سے نہیں بخشتے۔ ‘
ارنی ڈنگو کی نظم ’ایک خیال‘ ایک اچھوتا خیال پیش کرتی ہے۔
’ہم سیاہ فام لوگوں کی خدمات
چاند کے تاریک پہلو کی طرح ہیں
جو موجود تو ہے
لیکن
اس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ ‘

امریکی مصنف اورسماجی کارکن مایا انجیلو کا ایک مضمون ’ڈینٹسٹ اور ماما‘ ایک درد بھری داستان بیان کرتا ہے۔ جس میں مایا کی نانی اس کا دانت نکلوانے گورے ڈینٹسٹ کے پاس لے جاتی ہے۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ وہ ایک کتے کے منہ میں ہاتھ ڈال لے گا لیکن ایک نگر کے منہ میں ہاتھ نہیں ڈالے گا۔ ایک کم عمر بچی اپنی نانی اور ڈینٹسٹ کی نسلی کشمکش کو کیسے دیکھتی ہے یہ دلچسپی کا ساماں ہے۔ بچی تخیل میں دیکھتی ہے کہ اس کی نانی نےگورے ڈینٹسٹ اور گوری نرس کی خوب دھلائی کی ہے اور ان پہ حاوی آ گئی ہے۔ یہ ایک سیاہ فام بچی کا خواب ہے حقیقت نہیں۔

یہ مضمون مایا انجیلو کی سوانح عمری کی پہلی کتاب ’I know why the caged bird sings‘ سے لیا گیا ہے۔ اس میں مایا نے تین سال سے سولہ سال تک کے اپنے حالات قلم بند کیے ہیں۔

اس میں ’مایا‘ ہر سیاہ فام امریکی لڑکی کی علامت بن جاتی ہے۔ قیدی پرندہ بھی سیاہ فام لوگوں کی علامت ہے جو گوروں کے بنائے قانون کے پنجرے میں پھڑ پھڑاتے رہتے ہیں۔   مایا انجیلو نے کتاب کا ٹائٹل سیاہ فام امریکی شاعر پال لارنس ڈنباز کی نظم سے لیا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ’میں جانتا ہوں قیدی پرندہ کیوں گاتا ہے۔ یہ خوشی کا گیت نہیں گاتا ہے۔ بلکہ یہ زخمی دل کی پکار ہے جو وہ آسمان کی طرف اُچھالتا ہے‘۔

زہرا ہرسٹن امریکی سیاہ فام ادیب تھیں جنہوں نے بیسویں صدی کی ابتداء میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی۔ ایک دفعہ وہ سڑک پار کرتے ہوئے پکڑی گئیں تو اس نے جج کے سامنے یہ توجیہہ پیش کی  ’میں نے سفید فام لوگوں کو سبز بتی پر سڑک پار کرتے دیکھا تو سمجھی کہ سرخ بتی کالوں کے لئے ہے‘ زہرا ہرسٹن کا ایک خوبصورت مضمون ’سیاہ فام ہونے کا احساس‘ کتاب کی زینت بنا ہے۔   زہرا ہرسٹن لکھتی ہیں۔

”میں نیگروز کے اس طبقہ فکر کی ممبر نہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ قدرت نے انہیں کالا پیدا کر کے بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ میں نے اپنی بے ترتیب زندگی میں جلد ہی یہ معلوم کر لیا تھا کہ اس دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس ہے۔   چاہے اس کی جلد کالی ہو یا گوری“۔

”بعض اوقات مجھے احساس ہوتا ہے کہ لوگ میرے کالے ہونے کی وجہ سے مجھ سے دور رہتے ہیں۔ مجھے اس وقت غصہ نہیں آتا۔ حیرانگی ضرور ہوتی ہے کہ وہ لوگ کیوں کر میری دلچسپ قربت سے اپنے آپ کو محروم کرتے ہیں۔ میری سمجھ سے بالا تر ہے“۔

لوک کہانی ’لوگ جو اڑ سکتے تھے‘ ایسی کتھا ہے جو دل و دماغ کو ہلا دیتی ہے۔ افریقی لوگ غلامی سے ہر قیمت آزادی چاہتے ہیں۔ کچھ نے گورے آقاؤں کی حکم عدولی کی اور مارے گئے۔ کچھ فرار ہو کر سمندر میں گھس گئے تا کہ افریقہ واپس جا سکیں۔ جانوں سے تو گئے مگر غلامی سے آزاد ہو گئے۔ کچھ منتر پڑھ کر اڑ جاتے ہیں اور واپس افریقہ اپنے آبائی علاقوں میں جا اترتے ہیں۔   لوگ بھلا کبھی اڑے ہیں۔   اُن کے تو پنکھ ہی نہیں ہوتے۔   ہاں مگر کہانی میں ضرور اڑ سکتے ہیں۔ کہانی میں تو سیاہ فام غلامی میں پسے لوگوں کی آزادی کی آرزو صاف نظر آتی ہے۔ کاش وہ قسمت کے مارے سچ میں اُڑ سکتے۔

مارٹن لوتھر کنگ کی عظیم جدوجہد کا مختصر تعارف بھی ہے اور ان کی جاندار تقریر ’میں ایک خواب دیکھ رہا ہوں‘ کا کچھ حصہ بھی۔   یہ تقریر 28 اگست 1963 کو واشنگٹن میں دو لاکھ پچاس ہزار کے مجمعے میں کی گئی۔

’میں خواب دیکھ رہا ہوں کہ ایک دن جارجیا کے سُرخ پہاڑوں پر آقاؤں اور غلاموں کے بیٹے ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا کھائیں گے‘
’میں خواب دیکھ رہا ہوں کہ ایک دن میرے چاروں بیٹے ایسے ماحول میں جوان ہوں گے جہاں اُن کا کردار اُن کی جلد کے رنگ سے زیادہ اہم ہو گا‘

’کالے جسموں کی ریاضت‘ افریقی ادب کا خوبصورت گُلدستہ ہے جس میں رنگ رنگ کے پھول ہیں۔   ان پھولوں سے دل لُبھانے والی مہک بھی ہے اور درد اور دُکھوں کے قطرے بھی ہیں جو لہو کی طرح ٹپک رہے ہیں۔

کتاب کے حوالے سے ایک شکوہ بھی ہے کہ اس کے صفحات کم ہیں۔ ایک تشنگی سی رہ جاتی ہے اور پھر افریقی ادیبوں کا تعارف بھی ہونا چاہئیے تاکہ ان سے بہتر شناسائی ہو سکے۔   کچھ نظمیں ایسی بھی درج ہیں جن پہ اُن کے خالقوں کے نام تک درج نہیں۔ قاری کو پتہ نہیں چلتا کہ یہ کسی سیاہ فام ادیب کی تخلیق کردہ ہیں یا پھر ان کے خالق ڈاکٹر خالد سہیل خود ہیں۔

کتاب کا انتساب پڑھ کے دل خوش ہو گیا۔   ارے واہ۔   اس سے بہتر انتساب نہیں ہو سکتا۔
کالے قلمکاروں کے سنہرے افکار
اور
روشن مستقبل کے نام۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں