عمرہ نامہ۔


گئے برس جب حاجی لوٹ کر آئے تو ہر مسلمان کی مانند ہماری دلی مراد بھی ان الفاظ میں لبوں سے آزاد ہوئی:

لوٹ کر جو آتے ہیں، قصہ سب سناتے ہیں
ہمیں بھی بلائے گا، حرم کی پاک گلیوں میں
سانس ہم لے پائیں گے، مدینہ کی فضاؤں میں

کسے معلوم کہ یہ دعا اسی برس ہی شرف قبولیت پا جائے گی۔ دل میں تمنا تو مدتوں سے تھی اور جب یہ مراد بر آنے لگی تو یوں مانو مارے خوشی کے پاؤں زمین پر نہ ٹکتے تھے۔ سفری دستاویزات اور دیگر رسمیات کے بعد احرام باندھا اور لبوں سے لبیک اللھم لبیک کی صدا بلند ہوئی۔ اسی لمحے دماغ نے روڑے اٹکائے اور اہم سوال داغ دیا۔ کیا واقعی حاضر ہو؟ سب جھمیلے چھوڑ آئے ہو؟ یکبارگی سناٹا سا چھایا، بدن تو حاضر ہو رہا ہے اس میں کچھ شک نہیں، مگر دل و دماغ بارگاہ رب میں حاضر ہیں؟ اس سوال پر اول تو کسمسا گئے پھر دل آگے بڑھا اور گویا ہوا ”اولاد آدم ہے، حوائج و ضروریہ اور جھمیلے ساتھ ہیں اور جو کجی ہے اسے ہی تو دور کرنا ہے۔ دل ٹھہرا عرش رب جلیل، اگر چہ ہم ایسے خوش نصیب ہیں یا نہیں مگر باری تعالیٰ تو یہی فرماتا ہے۔ سو اس کی بات پر اعتبار کرنا ہی پڑا۔

خطہ عرب کی ہواؤں میں جہاز داخل ہوا تو جی چاہا کہ فضا سے اس ساری زمین کو دیکھ لوں کہ جہاں اسلام ایسا دین ابھرا۔ کچھ حد تک کامیابی بھی ہوئی۔ بنجر زمین، خشک پہاڑ اور بظاہر بے آب و گیاہ مگر نظر فلک شاہد ہے کہ دلوں کی آبیاری واسطے اس سے بڑھ کر کوئی جاء نہیں ہے۔

جدہ ائیرپورٹ پر اترے، ذہن میں اوراق تاریخ گھومنے لگے، اس سرزمین عرب کے بارے یہاں کے بودوباش بارے مگر یہ سب غیر متعلق سا لگا کہ جب دماغ نے ٹہوکا دیا اور تلیبہ زبان سے ادا ہوا۔دل پھر سے مائل بہ حاضری ہوا اور ہم مکہ کی جانب عازم سفر ہوئے۔ راہ دیکھ کر ہر پتھر چومنے کو جی چاہا کہ نجانے کس پر سرور کائنات ﷺکے قدم لگے ہیں۔ انہی سوچوں میں غائب دماغی سے تلبیہ بھی پکارتے رہے۔ مکہ پہنچے تو یوں لگا کہ خواب میں آگئے۔ سوچا نہ تھا کہ انسانیت کے واسطے آخری اور مکمل دین جس سرزمیں پر اترا، اس کی زیارت بھی نصیب ہو گی۔ یوں تو جدید طرز آبادی نے قدیم نقش گہنا دئیے تا ہم فضا تو وہی ہے اور بھلے ہی پوشیدہ مگر پتھر تو وہی ہیں کہ جن پر حق و باطل کا معرکہ بپا ہوا۔

قیام گاہ باب ملک عبدالعزیز کے قریب تھی۔ احرام باندھا ہوا تھا۔ سامان رکھا اور بعد از طعام حرم کی طرف بڑھے۔ دماغ تو حاضری پر رضامند تھا مگر قدم من بھر کے ہو رہے تھے۔ دل لرزاں تھا کہ اس قدر گناہوں کے ساتھ کیسے سامنا ہو گا؟ وجود کا ہر عضو اپنے کیے پر نادم تھا۔ یوں مانو حشر ہی لگنے لگا تھا کہ ابھی ہر عضو بول اٹھے گا۔ مگر اس سب میں ذات باری تعالیٰ کے غفور الرحیم ہونے کا آسراء سب سے قوی تھا۔ یہ خیال ہی تقویت دیتا اور قدم بڑھتے ہی چلے جاتے۔مسجد حرام کے دروازے پر نظر پڑی اور ایک بار پھر بغاوتیں یاد آنے لگیں، لیکن پھر سے اﷲ کی صفت رحم نے اپنا اثر دکھایا اور ہم آگے بڑھے کہ آنکھوں کو خانہ کعبہ کے جلوہ سے مزین کریں۔ معلوم پڑا باعث رش صحن میں تو نا جاپائیں گے لہٰذا اوپری منزل سے اور نسبتاً فاصلے سے ہی دیکھنا پڑے گا۔ یوں تو اﷲ رگ و جاں سے بھی قریب مگر اس کعبہ اﷲ سے اولاً کچھ فاصلے سے ہی عرض کرنے کا حوصلہ بڑھا، کہ شرف قبولیت ملا تو مزید قریب بھی ہو جائیں گے۔

سیاہ رنگ اگرچہ بمطابق مروج زمانہ خوبصورتی کی علامت نا ہے مگر جیسے ہی نظر پڑی، محسوس ہوا دنیا میں اس جیسا کوئی خوبصورت منظر ہی نہیں ہے۔ کئی پل چہرہ ہاتھوں پر ٹکائے نجانے کن سرگوشیوں میں کیا راز ونیاز ہو گئے۔ ہر عضو بدن فریادی تھا۔ زبان نے اس موقع پر ترجمانی سے معذوری ظاہر کی اور آنکھ نے پھر یہ بیڑا اٹھایا۔ لگی رم جھم برسنے، آنسوتھے کہ رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ گویا اندر کی تمام غلاظتیں ایک ہی بار میں دھو ڈالنی ہیں۔ اسی طرح کتنے پل گزر گئے پتہ بھی نہیں چلا، خیالات کی دنیا سے باہر تب نکلے جب اذان مغرب بلند ہوئی۔

اذان کانوں میں رس گھول رہی تھی اورا آنکھ اس منظر کو دہرا رہی تھی کہ جب سیدنا بلال نے اسی کعبہ کی چھت پر اذان دی تھی۔ اس کے ساتھ ہی دل میں یہ یاد بھی آ گئی کہ اس صحن میں ہادی برحقﷺنے اپنی چھڑی سے تمام بتوں کو گرایا تھا۔ جہاں نبی پاک کے قدم لگے، اسی جگہ کی زیارت، اس خوش نصیبی پر آنکھ پھر سے بہہ پڑی، مگر اس بار یہ ندامت کی بجائے خوشی کے آنسو تھے۔

نماز مغرب ادا کی اور عمرہ کے لیے طواف کا ارادہ کیا، معلومات تو تقریباًپوری تھیں مگر خانہ خدا میں موجودگی ہر یاد پر حاوی تھی۔ ازسر نو معلومات کو تازہ کیا اور لگے کعبۃ اﷲ کے چکر کاٹنے، حجر اسود کے استیلام سے آغاز اور پھر اسی پر اختتام، اس دوران دعائیں، مناجات، رب سے راز و نیاز اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف، گناہوں پر خط نسخ پھیرنے کی التجا اور امیدو یاس کی کیفیت جس میں امید کا پلڑا بھاری تھا۔ اگر چہ ہم گناہوں کے بھاری پلڑے کے ساتھ تھے مگر اس کی رحمت پر یقین تھا۔ وہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے، ہماری خطاؤں سے درگزر کیا ہے تو حاضری کا اذن ملا ہے۔ اس لیے دل نے جرأت پڑی اور لگامطالبے بھی کرنے۔۔۔انہی کیفیات میں طواف مکمل کیا، مقام ابراہیم پر دو نفل ادا کیے اور خوب سیر ہو کر زمزم پیا، کچھ سر پر بھی بہایا کہ یہی مسنون ہے۔

نماز مغرب سے عشاء وقفہ میں طواف کیا تھا، لہٰذا اب کچھ ہی وقت میں اذان ہونے والی تھی۔ سعی کے لیے ناکافی وقت ہونے کے باعث پھر سے لگے کعبۃ اﷲ کو دیکھنے اس گھر کے ایک ایک نقش کو دل میں محفوظ کرنے کا ارادہ تھا۔ اذان عشاء اور بعد اذان باجماعت نماز۔۔۔ دل کی کی کثافتیں دھلنے لگی تھیں۔

سعی کا ارادہ کیا، اب اگرچہ وہ صفا و مروہ کی پہاڑیاں موجود نہیں مگر یاد موجود ہے۔ دوران سعی سورۃ بقرہ کی آیات ان الصفا و المروۃ زبان سے ادا ہونے لگیں۔ قصہ ہاجرہ ؑ اور اسمٰعیل ؑ ذہن کے خانوں میں گونجنے لگا۔ان کی فرمانبرداری پر رشک آیا اور اماں ہاجرہ کی قربانی کو سوچتے سعی مکمل کی۔ دعائیں اور مناجات تو ہمہ وقت لب سے ادا ہوتی رہیں۔ اب عمرے کے لیے آخری مرحلہ حجامت بنوانا تھا۔ یہ مرحلہ بھی ادا ہوا اور بالوں کے ساتھ یوں لگا کہ گناہ بھی سر سے اتر گئے۔ان شا ء اﷲ

سارا دن سفر میں گزرا تھا اور دن بھر کعبۃ اﷲ کے اشتیاق کے باعث تھکن کا احساس نہیں ہوا تھا مگر اب بحیثیت انسان آرام کی طلب ہونے لگی تھی۔ لہٰذا اپنی قیام گاہ کی طرف بڑھے اور محو استراحت ہوئے کہ اگلے دن کے لیے تازہ دم بیدار ہونا تھا۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں