پیاسے حلقوم سے خشک کھیتی تک …. پانی ضرورت ہے


samina ansariپانی عظیم نعمت ہے سبھی جانتے ہیں۔ لیکن جاننا کافی نہیں۔ پانی کو محفوظ کرنا اور اس کا صحیح استعمال سبھی جانتے ہیں لیکن کیا یہ کافی ہے؟کیا ہم واقعی صحیح استعمال کر رہے ہیں؟ ہم اخبارات میں ڈھیروں کالمز، فیچرز، کمرشلز کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ٹی وی اور ریڈیو پر اس حوالے سے معلوماتی پروگرام سنتے ہیں لیکن کیا ہم واقعی پانی کا محفوظ اور بہتر استعمال کر رہے ہیں؟ آپ کے گھر کا نل خراب ہے۔ ایک ایک قطرہ پانی گرتا ہے۔ راتوں کو شور بھی کرتا ہے۔ کیا اُس نل کے نیچے بالٹی رکھنا ہی صحیح حل ہے؟ آپ سڑک پر چلتے جا رہے ہیں۔ رستے میں نل دیکھا ، بند کرنے کی کوشش کی، نہیں ہوا، پانی ہے کہ بہتا جا رہا ہے، تھک ہار کر آپ نے اپنی راہ لی۔ کیا یہ کافی ہے؟ آپ نے منہ دھونے کے لئے نل کھولا اور دانت برش کرنے سے ماو ¿تھ واش کے ساتھ کلیوں تک نل کھلا ہے، صابن یا فیس واش سے منہ دھونے تک نل کھلا ہے۔ کیا یہ صحیح طریقہ ہے؟

ہم نے نصابی کتب میں پڑھا ہے اور گاہے گاہے یہ سنتے ہیں کہ کرہ ¿ ارض پر خشکی 28 فیصد جبکہ پانی 72فیصد بشمول برفانی علاقہ جات کے ہے۔ ہمارے استعمال میں آنے والا پانی کرہ ¿ ارض پر پائے جانے والے پانی کا 3فیصد ہے۔ دنیا میں سات ارب سے زائد انسان بستے ہیں اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگلات کٹ رہے ہیں پانی خشکی میں بدل رہا ہے۔ نتیجہ زمین کے درجہ حرارت میں خطرناک اضافہ ۔گزشتہ برس ہونے والی کلائمیٹ چینج کانفرنس میں زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کی روک تھام کے لئے اقدامات طے کئے گئے لیکن اس پر کام جاری ہے۔ یہ عالمی سطح پر کیا جانے والا کام ہے۔

persian wheelآخر ہمیں بھی تو اپنے بچوں کی حفاظت کرنی ہے۔ ماں باپ بچوں کے لئے وہ سب کرتے ہیں جو ان کی صحت و مستقبل کے لئے ضروری ہے تو پھر پانی کے استعمال میں کوتاہی کیوں؟آخر یہ بھی تو ہماری زندگی کا حصہ ہے۔

بالٹی بھر پانی سے نہایا جا سکتا ہے لیکن فوارے سے ہم بیش بہا قیمتی پانی ضائع کرتے ہیں۔ کہ یہ ہماری شان ہے۔ صنعتی سطح پر جب پانی ری سائیکل کیا جا سکتا ہے تو پھر نالے کی طرف بہاو ¿ کیوں۔ زراعت میں کھیتوں کو پانی ٹیوب ویل چلا کہ دیا جاتا ہے۔ اور کھلا چھوڑا جاتا ہے جبکہ یہی کام پانی کے چھڑکاو ¿ کے طریقے سے کر سکتے ہیں۔

ہم وقتاً فوقتاً یہ بھی سنتے اور دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں ہر تیسرا آدمی کالے و پیلے یرقان یعنی ہیپاٹائیٹس بی و سی کا شکار ہے۔ کیوں ہے؟ اس کی وجہ آلودہ پانی کا استعمال ہے۔ جس طرح ایک خراب سیب تازہ اور رسیلے سیبوں سے بھری پوری ٹوکری کو خراب کر سکتا ہے اسی طرح یہ آلودہ پانی دریا، نہر اور دوسرے ذرائع آب کو آلودہ کرتا ہے۔ہمارے ہاں پانی کو محفوظ بنانے کے لئے کوئی خاص لائحہ عمل نہیں ہے۔ چھوٹے ڈیم ناگزیر ہیںلیکن نہ تو کوئی اس پر کام کرنے کو تیار ہے نہ سرمایہ لگانے کو تیار ہے۔ قیاس آرائی یہ کی جاتی ہے کہ یہ کام آرمی کرے گی۔ یہ پراجیکٹ آرمی کے زیر نگرانی ہونا چاہیے۔ بھائی جان ہر کام آرمی نے کرنا ہے یا اس کی زیر نگرانی ہونا ہے تو ہمارے ماہر تعمیرات، ترکھان حضرات، سرمایہ کار حضرات، دیگر سیاسی و غیر سیاسی پارٹیاں کیا مولیاں اگانے اور آلو بیچنے کے لئے پاکستان کی جڑوں میں بیٹھی ہیں؟ قوم کا سردار قوم کا خادم ہوتا ہے۔ تو یہ ذمہ داری سراسر قوم کے سردار پر عائد ہوتی ہے۔خیر میرا کام یہ بتانا نہیں کسی کی کیا ذمہ داری ہے۔ بلوچستان جہاں کی زمین بنجر ہے وہاں کاریز بنانا اور مصنوعی جھیل بنانا بھی بلوچستان حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سندھ جہاں صحرا ہے۔ تھر و چولستان کی سرزمین جن صوبائی حکومتوں کے زیر آتی ہے ان حکومتوں کی ذمہ داری ہے وہاں پانی کو محفوظ کرنے کے ذرائع بنائیں۔

watبات آتی ہے کہ جب ڈیم بنانے کے لئے زمین مختص کی جاتی ہے تو لوگ اس کے خلاف ریلیاں نکالتے ہیں۔ کالا باغ ڈیم اس کی واضح مثال ہے۔ پاکستان کے 60%عوام کالا باغ ڈیم کے حق میں ہے باقی بچے کچھے اس کے خلاف۔ ان کی اپنی منطق ہے ۔اب تک کالا باغ ڈیم مکمل نہیں ہو سکا۔ کچھ ہمارے ٹھیکیدار حضرات کسی جونک کی طرح گورنمنٹ سمیت ہمیں چمٹے ہوئے ہمارا خون چوس رہے ہیں۔ میٹرو پر ڈھیر سارا پیسہ لگا ابھی وقت ہی کتنا گزرا ہے جو سڑکوں کی حالت نہ گفتہ با ہے۔ انہیں مرمت کرنے کی نوبت آن پہنچی ہے۔ اگر میٹرو بس کی سڑکوں کا یہ عالم ہے تو ڈیم بھی اگر اسی طرز کے سامان سے بنے گا تو کیا خاک کام کرے گا اور کیا گارنٹی ہے کہ وہ دو سال بھی نکالے اور اسے مرمت کرنے کی نوبت نہ آئے۔ ایک تو دو نمبر مال ہمیں لے ڈوبا ہے۔دو نمبر مال کے بیچ رہتے رہتے ہم بھی ملاوٹی ہو چکے ہیں۔ خالص دودھ سے ہمارا پیٹ دکھتا ہے۔ ہمیں رعشہ ہو جاتا ہے۔اس لئے ہم اس میں پانی کی آمیزش کرتے ہیں۔خالص سبزی کے استعمال سے ہمیں قبض ہوتی ہے۔ خالص دال سے ہمیں املتاس کی بو آتی ہے۔

پشاور زندہ آباد،پہاڑی علاقہ ہے۔ بارشیں بے تحاشہ ہوتی ہیں وہ تو پنج آب یعنی پنجاب میں بھی ہوتی ہیں۔ خیر سے ان بارشوں سے جو کبھی کبھا ر درحقیقت بیشتر سیلاب کی صورتحال بنتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل گلگت بلتستان ڈوبا تھا۔ مجھے یار ہے جھیل میں پانی کی سطح بلند ہو گئی تھی۔ پھر پنجاب میں تو سیلاب آتے رہتے ہیں۔ ابھی 2014ءاور2015ءمیں آئے۔ لوگوں کے گھر ڈوب گئے۔ کہیں پانی جان لیتا ہے تو کہیں پانی یوں بھی جان لیتا ہے کہ کہیں دکھائی نہیں دیتا اور تھر میں کیمپ لگانے کی نوبت آن پہنچتی ہے۔ قحط کی صورت برستا ہے۔

ہمیں کب خیال آیا کہ ہم پانی کے زخیرے کے لئے اپنی زمین وقف کر دیں؟ یا پاس کی پڑی بے کار زمین پر ایک جھیل بنائیں اسے پکنک سپاٹ یا گھومنے پھرنے کی جگہ کے طور پر استعمال کریں ؟ جیسا کہ ہیڈ بلوکی ہے ہیڈ جگو ہے ہیڈ رسول و دیگر ہیں۔ اسی طرح کے اور چھوٹے چھوٹے ہیڈ بنائے جانے چاہیے۔کرنا تو بہت کچھ چاہیے۔ کرتے کچھ نہیں۔ ہم صبح کے سورج کے ساتھ آنکھ کھول لیں تو بڑی بات ہے۔ دوپہر بارہ بجے تو ہم ناشتہ نوش فرماتے ہیں۔ ہمیں تو خدا نے چاروں موسموں سے نوازا ہے ہمیں زیادہ چست اور چاک و چوبند ہونا چاہیے۔ ہم اس کے الٹ ہیں۔ہم سست رو ہیں۔ بیٹھے رہتے ہیں، بیٹھے رہتے ہیں اور بیٹھے رہتے ہیں۔ ہم ابھی بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اور ہم بیٹھیں رہیں گے۔ ہم تب تک بیٹھیں رہیں گے جب تک موت کا فرشتہ نہ آن دبوچے۔بیٹھے بیٹھے ہم یہی سوچتے ہیں کہ سب یہود و نصاریٰ کی سازش ہے جو ہم ترقی نہیں کر رہے۔ بھائی جان کام کرنے سے کام ہوتا ہے ترقی کا راز حرکت میں ہے۔ ہم جامد ہیں۔ حرکت کریں گے تو برکت ہو گی۔پانی جب حرکت میں آتا ہے تو شہر کے شہر ویران کر جاتا ہے۔ اس سے پہلے کہ اب کی بار حرکت میں آئے ہمیں کچھ حرکت کر لینی چاہیے ورنہ انجام وہی جو تباہ شدہ اقوام کا ہوا کرتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments